اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا کیا ہم تمھیں وہ آدمی بتائیں جو تمھیں خبر دیتا ہے کہ جب تم ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائو گے، پوری طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا جانا، تو بلاشبہ تم یقینا بالکل نئی پیدائش میں ہو گے۔[7]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
7۔ اور کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں: ”کیا ہم تمہیں ایسا آدمی نہ بتائیں جو یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم (مرنے کے بعد) بالکل ریزہ ریزہ [9] ہو جاؤ گے تو از سر نو پیدا کئے جاؤ گے
[9] یعنی اہل علم و دانش لوگ اللہ کی آیات، عقیدہ آخرت، انسانوں کی دوبارہ زندگی۔ اللہ کے حضور جواب دہی کا تصور اور اچھے اور برے اعمال کا بدلہ ملنے پر اس طرح یقین رکھتے ہیں جیسے وہ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ کفار اللہ کی آیات کا مذاق اڑانے سے ضدی، ہٹ دھرم اور جاہل قسم کے لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کر سکتے ہیں مگر اہل علم ان کے فریب میں نہیں آسکتے۔