🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة يس
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّقُوۡا مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ مَا خَلۡفَکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۴۵﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے بچو اس(عذاب) سے جو تمھارے سامنے ہے اور جو تمھارے پیچھے ہے، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔[45]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
45۔ اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اس انجام سے ڈر جاؤ جو تمہارے سامنے [44] ہے یا پیچھے گزر چکا ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (تو اس کی کچھ پروا نہیں کرتے)
[44] اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ سابقہ قوموں کا یہ انجام بھی تمہارے سامنے ہے اور تم خود بھی ایسے ہی انجام کی طرف جا رہے ہو کیونکہ جس قوم نے اللہ کی نافرمانی اور سرکشی کی راہ اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کا زور توڑ کے رکھ دیا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آئندہ تم سے تمہارے اعمال کا محاسبہ کیا جانے والا ہے اس کو بھی مد نظر رکھو اور ان اعمال کو بھی جو تم کر چکے ہو۔ اگر تم اپنے برے انجام سے ڈر گئے اور کچھ سبق حاصل کر لیا تو پھر یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اللہ تم پر مہربانی فرمائے گا۔