لیکن وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈر گئے، ان کے لیے بالاخانے ہیں، جن کے اوپر خوب بنائے ہوئے بالاخانے ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہ رہی ہیں۔ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔[20]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
20۔ لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لئے بالا خانے ہیں جن کے اوپر اور بالا خانے بنے [30] ہوئے ہیں اور ان کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کبھی اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا
[30] کیا جنت اور دوزخ تیار کی جا چکی ہیں:۔
بعض دفعہ امت میں ایسی بے کار بحثیں شروع ہو جاتی ہیں جن کا انسان کی عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لیکن جب شروع ہو جائیں تو اہل حق کو جواباً کچھ کہنا ہی پڑتا ہے۔ ایسے ہی مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ آیا جنت اور جہنم تیار کی جا چکی ہیں یا قیامت کے بعد لوگوں کے جزاو سزا کے فیصلوں کے بعد تیار ہوں گی۔ کتاب و سنت کے الفاظ میں یہ صراحت موجود ہے کہ یہ تیار ہو چکی ہیں۔ مگر ایک فرقہ نے اس کا انکار کیا اور کہا کہ قیامت کے بعد تیار ہوں گی۔ اس آیت میں لفظ مبنیۃ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ بالا خانے بنائے جا چکے ہیں۔ یہاں بالا خانوں سے مراد یہ نہیں ایک مکان پر کوئی چوبارہ ہوتا ہے جیسے دوسری منزل ہو۔ بلکہ اس سے درجات کی بلندی مراد ہے۔ یعنی ایک مکان سے دوسرا مکان بلندی پر واقع ہو گا اور تیسرا اس سے بلندی پر۔