🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الزخرف
وَ نَادٰی فِرۡعَوۡنُ فِیۡ قَوۡمِہٖ قَالَ یٰقَوۡمِ اَلَیۡسَ لِیۡ مُلۡکُ مِصۡرَ وَ ہٰذِہِ الۡاَنۡہٰرُ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِیۡ ۚ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ؕ۵۱﴾
اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کی، اس نے کہا اے میری قوم! کیا میرے پاس مصر کی بادشاہی نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں میرے تحت نہیں چل رہیں؟[51]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
51۔ اور فرعون نے (ایک دفعہ) اپنی قوم کے درمیان پکار [50] کر کہا: اے میری قوم کیا یہ مصر کی بادشاہی میری نہیں؟ اور یہ نہریں (بھی) جو میرے نیچے بہ رہی ہیں؟ کیا تمہیں نظر نہیں آتا؟
[50] یہاں ’اپنی قوم میں‘ سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے پکار پکار کر یہ باتیں کی ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنی ان باتوں کا اتنا پر زور پروپیگنڈا کیا ہو کہ اس کی قوم کے ہر فرد کے کانوں تک فرعون کی یہ آواز پہنچ گئی ہو۔