🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الزخرف
یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِصِحَافٍ مِّنۡ ذَہَبٍ وَّ اَکۡوَابٍ ۚ وَ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡہِ الۡاَنۡفُسُ وَ تَلَذُّ الۡاَعۡیُنُ ۚ وَ اَنۡتُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿ۚ۷۱﴾
ان کے گرد سونے کے تھال اور پیالے لے کر پھرا جائے گا اور اس میں وہ چیز ہو گی جس کی دل خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت پائیں گی اورتم اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو۔[71]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
71۔ ان کے سامنے سونے کی پلیٹوں اور ساغر کا دور چلے گا اور وہاں وہ سب کچھ موجود ہو گا جو دلوں کو بھائے اور آنکھوں کو لذت [68] بخشے اور تم وہاں ہمیشہ رہو گے
[68] اگرچہ جنت کی ساری نعمتیں ہی ایک دوسری سے بڑھ چڑھ کر ہوں گی مگر جو لذت و سرور اہل جنت کو دیدار الٰہی سے حاصل ہو گا۔ اتنا اور کسی نعمت سے نہ ہو گا اور یہ نعمت بھی اہل جنت کو وہاں حاصل ہو گی۔