🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الزخرف
فَاصۡفَحۡ عَنۡہُمۡ وَ قُلۡ سَلٰمٌ ؕ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۸۹﴾
پس ان سے درگزر کر اورکہہ سلام ہے، پس عنقریب وہ جان لیں گے۔[89]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
89۔ لہٰذا ان سے درگزر کیجئے اور کہئے سلام [81] ہو تمہیں۔ عنقریب انہیں (سب کچھ) معلوم ہو جائے گا۔
[81] یہ سلام دراصل ترک ملاقات کا سلام ہے جو کسی کی شرارتوں اور حرکتوں سے تنگ آکر کہا جاتا ہے کہ تم اپنے حال میں مگن رہو اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ یعنی آپ ان کافروں سے اور ان کی کج بحثیوں سے درگزر کیجئے۔ وہ وقت بس آنے ہی والا ہے جب ساری حقیقت کھل کر ان کے سامنے آجائے گی۔ چنانچہ اس حقیقت کا بہت حد تک تو ان مشرکوں کو دنیا میں ہی پتا چل گیا۔ اور پورا پتا آخرت کو لگ جائے گا۔