🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة المجادلة
یَوۡمَ یَبۡعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیۡعًا فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ؕ اَحۡصٰہُ اللّٰہُ وَ نَسُوۡہُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ٪﴿۶﴾
جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا، پھر انھیں بتا ئے گا جو انھوں نے کیا۔ اللہ نے اسے محفوظ رکھا اور وہ اسے بھول گئے اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔[6]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
6۔ جس دن اللہ ان سب کو زندہ کر کے اٹھائے گا تو انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کچھ کر کے آئے ہیں۔ اللہ نے اس کا پورا ریکارڈ رکھا ہے جبکہ وہ خود اسے بھول [7] گئے اور اللہ ہر ایک چیز پر حاضر و ناظر ہے
[7] دنیا میں انسان بے شمار ایسے گناہ کے کام کرتا ہے جنہیں وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ لہٰذا وہ اسے یاد ہی نہیں رہتے۔ لیکن اللہ اور اس کے فرشتے ہر انسان کا ایسا مکمل ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔ جس میں انسان کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی کرتوت بھی درج ہونے سے رہ نہیں سکتی۔ قیامت کے دن اس کا یہی کچا چٹھا اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ تب اسے اپنی وہ سب کرتوتیں یاد آنے لگیں گی۔ جو اس کے دل و دماغ سے یکسر فراموش ہو چکی تھیں۔