🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة المجادلة
اِتَّخَذُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ جُنَّۃً فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَلَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۱۶﴾
انھوں نے اپنی قسموں کو ایک طرح کی ڈھال بنا لیا، پس انھوں نے اللہ کی راہ سے روکا، سو ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔[16]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
16۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے جس کی آڑ میں وہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے [20] روکتے ہیں۔ لہذا ان کے لئے رسوا کن عذاب ہو گا۔
[20] یعنی ایک طرف تو منافق مسلمانوں کے سامنے اپنے مسلمان ہونے کی قسمیں کھا کر ان کی گرفت سے محفوظ رہتے ہیں اور ان کے جان اور مال محفوظ ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف وہ اسلام، اہل اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ہر طرح کے شکوک و شبہات اور وسوسے لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگ یہ سمجھ کر اسلام قبول کرنے سے باز رہیں کہ جب گھر کے بھیدی ایسی خبریں دے رہے ہیں تو ضرور دال میں کچھ کالا ہو گا۔