🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة القيامة
بَلۡ یُرِیۡدُ الۡاِنۡسَانُ لِیَفۡجُرَ اَمَامَہٗ ۚ﴿۵﴾
بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے (آنے والے دنوں میں بھی) نافرمانی کرتا رہے۔[5]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
5۔ بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ اللہ کے احکام کے علی الرغم [4] بد اعمالیاں کرتا رہے۔
[4] اصل مسئلہ یہ نہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہیں سمجھتا کہ وہ اسے دوبارہ پیدا کر سکتا ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم کر کے اپنی آزادانہ زندگی پر پابندیاں عائد نہیں کرنا چاہتا۔ اسے خوب معلوم ہے کہ اگر اس نے عقیدہ آخرت کو تسلیم کر لیا تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا اور نہایت پابند اور محتاط زندگی گزارنا پڑے گی۔ اس کا آسان حل اس نے یہ سوچا کہ قیامت کا ہی انکار کر دے۔ اور اس کی یہ کیفیت بالکل ویسی ہی ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے اور اپنے نفس کو اس فریب میں مبتلا کر لیتا ہے کہ بس اب خطرہ دور ہو گیا۔