🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة المطففين
کَلَّاۤ اِنَّ کِتٰبَ الۡفُجَّارِ لَفِیۡ سِجِّیۡنٍ ؕ﴿۷﴾
ہرگز نہیں، بے شک نافرمان لوگوں کا اعمال نامہ یقینا دائمی سخت قید کے دفتر میں ہے ۔[7]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
7۔ ہرگز نہیں [5] ۔ بد کردار لوگوں کے اعمال نامے قید خانے [6] کے دفتر میں ہوں گے
[5] یعنی تمہارا یہ خیال باطل ہے کہ نہ قیامت آنی ہے اور نہ تمہارا محاسبہ ہونا ہے۔ بلکہ تمہارا محاسبہ ہو گا اور ضرور ہو گا۔

[6] سجین۔ سجن بمعنی قید خانہ، جیل اور سجن بمعنی عدالت کا ثبوت جرم کے بعد بطور سزا کسی کو قید میں ڈال دینا۔ اور سجین سے مراد وہ مقام یا دفتر ہے جہاں بد کردار لوگوں کے اعمال نامے بھی محفوظ کر لیے جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کی ارواح بھی تا قیام قیامت اسی مقام پر قید رکھی جاتی ہیں۔ بعض اسلاف کے نزدیک یہ مقام سات زمینوں کے نیچے ہے۔