🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الأعلى
وَ نُیَسِّرُکَ لِلۡیُسۡرٰی ۚ﴿ۖ۸﴾
اور ہم تجھے آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے ۔[8]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
8۔ اور ہم آسان طریقہ [7] پر چلنے کی سہولت دیں گے
[7] اس آیت کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ آپ کو بلا تکلیف سہولت کے ساتھ قرآن یاد رہے گا۔ دوسرا یہ کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسان اور سہل شریعت پر چلائیں گے۔ تیسرا یہ کہ شریعت کے احکام پر عمل پیرا ہونا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آسان بنادیں گے۔ چوتھا یہ کہ اسلام کے راستہ سے ہم تمام رکاوٹوں کو دور کر دیں گے اور کامیابی کی راہ پر گامزن ہونا آپ کے لیے آسان بنا دیں گے۔ پانچواں یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری بس اتنی ہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیں۔ اس سے آگے کسی مشکل میں پڑنا یا بہ جبر لوگوں کو اسلام کی طرف لانا آپ کی ذمہ داری نہیں۔