🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة القارعة
یَوۡمَ یَکُوۡنُ النَّاسُ کَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ۙ﴿۴﴾
جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے۔[4]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
4۔ جس دن لوگ بکھرے [3] ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے
[3] یہ کیفیت نفخہ صور اول کے وقت ہو گی۔ یعنی اس دن لوگ اس قدر بد حواس اور گھبراہٹ کا شکار ہو جائیں گے کہ نہایت بد نظمی کے ساتھ ایک دوسرے کے اوپر گر رہے ہوں گے۔ جیسے پروانے اپنی کثرت، ضعف اور بد نظمی کی وجہ سے شمع تک پہنچنے سے پہلے ہی ایک دوسرے پر گرے پڑتے ہیں۔ ان کا ہدف شمع ہوتی ہے جو گرمی کی وجہ سے انہیں بھون ڈالتی ہے۔ مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔