🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة النصر
وَ رَاَیۡتَ النَّاسَ یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا ۙ﴿۲﴾
اور تو لوگوں کو دیکھے کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔[2]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
2۔ اور آپ نے دیکھ لیا کہ لوگ گروہ در گروہ اللہ کے دین میں داخل ہو رہے [2] ہیں
[2] فتح مکہ اور مشرک قبائل کا جوق در جوق اسلام میں داخل ہونا:۔

عرب قبائل تو پہلے ہی اس بات کے انتظار میں تھے کہ دیکھیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ جب مکہ فتح ہو گیا تو یہ قبیلے دھڑا دھڑ اسلام میں داخل ہونا شروع ہو گئے۔ مکہ رمضان 8ھ میں فتح ہوا تھا۔ 9ھ میں اس قدر وفود اسلام لانے کے لیے مدینہ حاضر ہوئے کہ اس سال کا نام ہی عام الوفود پڑ گیا۔ ہر قبیلے کے چند معتبر لوگ مدینہ جاتے، اسلام کی تعلیم حاصل کرتے پھر واپس آکر اپنے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے لگے۔ 9ھ میں حج کے موقع پر اعلان برات کیا گیا جس کا تفصیلی ذکر سورۃ توبہ کی ابتدا میں گزر چکا ہے۔ اس اعلان کی رو سے اب مشرکین عرب کے لیے دو ہی راستے رہ گئے تھے یا تو وہ اسلام میں داخل ہو جائیں یا پھر جزیرہ عرب سے باہر نکل جائیں۔ چنانچہ مشرکین عرب نے بھی پہلی ہی بات قبول کی اور اسلام لے آئے۔ اس طرح 10ھ میں سر زمین عرب کفر و شرک سے پاک ہو گئی۔