🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة النساء
مُّذَبۡذَبِیۡنَ بَیۡنَ ذٰلِکَ ٭ۖ لَاۤ اِلٰی ہٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰی ہٰۤؤُلَآءِ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ سَبِیۡلًا ﴿۱۴۳﴾
اس کے درمیان متردد ہیں، نہ ان کی طرف ہیں اور نہ ان کی طرف اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر تو اس کے لیے ہر گز کوئی راستہ نہ پائے گا۔[143]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
143۔ یہ کفر اور ایمان کے درمیان لٹک رہے ہیں، نہ ادھر کے ہیں [191] نہ ادھر کے۔ اور جسے اللہ گمراہ کرے، آپ اس کے لیے کوئی راستہ نہ پائیں گے
[191] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم قیامت کے دن اللہ کے ہاں بد تر اس شخص کو دیکھو گے جو دو رخا ہو۔ ان کے پاس آئے تو ان کی سی کہے اور ان کے پاس جائے تو ان کی سی کہے۔

[بخاری، کتاب الادب، باب ماقیل فی ذی الوجھین۔۔ مسلم، کتاب البروالصلۃ، باب ذم ذی الوجہین و تحریم فعلہ]