اس نے کہا اے میرے رب ! بیشک میں اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی چیز کا مالک نہیں، سو تو ہمارے درمیان اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان علیحدگی کر دے۔[25]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
25۔ موسیٰ نے کہا: ”اے میرے پروردگار! میرا اختیار تو صرف اپنے آپ پر اور اپنے بھائی پر ہے لہذا ہمارے [56] اور نافرمان لوگوں کے درمیان جدائی ڈال دے
[56] موسیٰؑ اپنی قوم سے یہ جواب سن کر سخت مایوس اور غمگین ہو گئے اور اللہ کے حضور دعا کی کہ ایسی قوم سے تو میں اکیلا ہی بھلا۔ جیسے تو حکم دے میں خود حاضر ہوں یا پھر میرا بھائی ہارون۔ جو خود نبی تھے اور مصر میں فرعون اور فرعونیوں کے سامنے ہر دکھ سکھ میں شریک رہے تھے، جو میرے کہنے میں ہے۔ اگر ایسی نافرمان قوم میری بات نہیں مانتی تو اب میں کیا کر سکتا ہوں؟