🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الانعام
قُلۡ اَرَءَیۡتَکُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُ اللّٰہِ بَغۡتَۃً اَوۡ جَہۡرَۃً ہَلۡ یُہۡلَکُ اِلَّا الۡقَوۡمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۷﴾
کہہ کیا تم نے دیکھا اگر تم پر اللہ کا عذاب اچانک یا کھلم کھلا آجائے، کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی ہلاک کیا جائے گا؟[47]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
47۔ آپ ان سے کہئے: بھلا دیکھو تو، اگر تم پر اللہ کا عذاب اچانک آجائے [50] یا علانیہ آجائے تو کیا ظالموں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک [51] ہو گا؟
[50] یکدم سے مراد ایسا عذاب ہے جس کی علامات پہلے مطلقاً ظاہر نہ ہوں اور جہرۃ یا علانیہ سے مراد ایسا عذاب ہے جس کی علامات پہلے سے ظاہر ہونا شروع ہو جائیں۔

[51] اس جملہ کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ عذاب آنے کی اطلاع اللہ تعالیٰ انبیاء کو بذریعہ وحی دیتا ہے اور انہیں ہدایت کر دی جاتی ہے کہ وہ اپنے پیرو کاروں کو ساتھ لے کر اس مقام سے نکل جائیں جہاں عذاب آنے والا ہو۔ اس طرح عذاب کی زد میں صرف ظالم ہی آتے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ چونکہ عذاب ظالموں کے ظلم کی وجہ سے ہی آتا ہے۔ لہٰذا ظالموں کو چاہیے کہ بلا تاخیر توبہ کر لیں۔ اور عذاب الٰہی سے خود بھی بچ جائیں اور دوسروں کی ہلاکت کا بھی سبب نہ بنیں۔ اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ اصل میں تباہی اور ہلاکت تو ظالموں کے لیے ہی ہے کہ مرنے کے بعد بھی انہیں دوزخ کا عذاب بھگتنا ہو گا اور صالح افراد تو موت کے بعد اللہ کے فضل و کرم کے مزید حقدار بن جائیں گے۔