🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الانعام
وَ کَذَّبَ بِہٖ قَوۡمُکَ وَ ہُوَ الۡحَقُّ ؕ قُلۡ لَّسۡتُ عَلَیۡکُمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿ؕ۶۶﴾
اور اسے تیری قوم نے جھٹلا دیا، حالانکہ وہی حق ہے، کہہ دے میں ہرگز تم پر کوئی نگہبان نہیں۔[66]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
66۔ اور آپ کی قوم نے اسے (قرآن کو) جھٹلا دیا۔ حالانکہ [73] وہ حق ہے۔ آپ ان سے کہئے کہ میں تم پر داروغہ نہیں (کہ تمہیں راہ راست پر لا کے چھوڑوں)
[73] یہاں ہو سے مراد قرآن اور اس کی آیات بھی ہو سکتی ہیں، کفار سے عذاب کا وعدہ بھی اور روز آخرت بھی۔ کیونکہ یہ سب چیزیں اٹل حقائق ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے فرماتے ہیں کہ انہیں کہہ دیجئے کہ اگر تم ان حقائق پر ایمان نہیں لاتے اور تمہیں یہ یقین نہیں آتا تو میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں یہ باتیں ہر ممکن طریقہ سے تم سے منوا کر چھوڑوں۔