🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الانعام
اِتَّبِعۡ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾
اس کی پیروی کر جو تیری طرف تیرے رب کی جانب سے وحی کی گئی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے کنارا کر۔[106]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
106۔ آپ اس وحی کی پیروی کیجئے جو آپ کی طرف آپ کے پروردگار کی طرف سے (نازل) ہوئی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور مشرکوں [108] سے کنارہ کیجئے
[108] پہلے بتایا جا چکا ہے کہ یہ سورۃ ہجرت سے تقریباً ایک سال پہلے نازل ہوئی تھی (ماسوائے چھ آیات کے) اور اس وقت مسلمانوں پر سخت آزمائش کا دور تھا۔ اس وقت یہی حکم تھا کہ مشرکوں سے کنارہ کش رہا جائے۔ لیکن جب فتح مکہ کے بعد اسلام کو غلبہ حاصل ہو گیا۔ تو پھر یہ حکم نہ رہا بلکہ ان کے ساتھ جنگ و جدال کا حکم ہوا۔ اور کعبہ میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا۔ جیسا کہ سورۃ توبہ کے آغاز میں مشرکین کے لیے احکام بیان ہوئے ہیں۔