امام دارقطنی رحمہ اللہ
سوانح حیات
سوانح حیات:
نام و نسب:
آپ کی کنیت ابوالحسن، نام علی اور نسب نامہ یہ ہے: علی بن عمر بن أحمد بن مہدی بن مسعود بن نعمان بن دینار بن عبداللہ [تاريخ بغداد 12 / 34 - كتاب الأنساب، ص: 217 - المنتظم: 83/7]
ولادت و وطن:
صحیح روایت کے مطابق امام دارقطنی رحمہ اللہ 5 ذوالقعدہ 306ھ کو بغداد کے ایک محلے دارقطن میں پیدا ہوئے۔ یہ محلہ کرخ اور نہر عیسیٰ بن علی کے درمیان واقع تھا اور متعدد اکابر کا مولد تھا، لیکن بعد میں ویران ہوگیا۔ علامہ سمعانی کے بغداد تشریف لانے کے زمانے میں یہ اجڑ چکا تھا۔ [تذكرة الحفاظ: 199/3]
شیوخ و اساتذہ:
امام صاحب کے بعض مشہور شیوخ و اساتذہ کے نام یہ ہیں:
❀ قاضی ابراہیم بن حماد
❀ ابن زیاد نیشاپوری
❀ ابوبکر بن ابی داؤد سجستانی
❀ ابوسعید عدوی
❀ ابوجعفر أحمد بن اسحاق بن بہلول
❀ أحمد بن قاسم فرائضی
❀ عبداللہ بن ابی حیہ
❀ فضل بن أحمد زبیدی
❀ محمد بن قاسم محاربی
❀ ابوعمر محمد بن یوسف قاضی ازدی
❀ یوسف بن یعقوب نیشاپوری
❀ ابن درید
❀ این نیروز
❀ ابوحامد بن ہارون حضرمی
❀ ابوالقاسم عبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز
❀ أحمد بن عیسیٰ بن مسکین بلدی
❀ ابوطالب أحمد بن نصر بن علی بن عبداللہ بن بشر
❀ ابوعلی محمد بن سلیمان مالکی
❀ محمد بن نوح جند یسابوری
❀ یحییٰ بن محمد بن صاعد
تلامذہ:
ان کے بعض مشہور تلامذہ کے نام حسب ذیل ہیں:
❀ ابوبکر أحمد بن محمد برقانی
❀ ابوحامد اسفراینی
❀ ابوالحسین بن مہندی باللہ
❀ ابوطالب بن عباری
❀ قاضی ابوالطیب طبری ابوالقاسم بن محسن
❀ ابومحمد خلال
❀ القاسم ازہری
❀ ابوعبداللہ حاکم (صاحب مستدرک)
❀ ابوالقاسم عبدالصمد بن مامون ہاشمی
❀ حافظ عبدالغنی ازدی
❀ ذکی الدین المنذری (صاحب الترغیب والترہیب)
❀ ابوعبدالرحمان محمد بن حسین سلمی
❀ ابوبکر بن بشران
❀ ابوالحسن بن الآبنوسی
❀ ابوذر بن أحمد ہروی
❀ ابوطاہر بن عبدالرحیم
❀ ابوالقاسم بن بشران
❀ ابومحمد جوہری
❀ ابونعیم اصفہانی (صاحب حلیة الأولیاء)
❀ تمام رازی (صاحب فوائد مشہورہ)
❀ ابوالقاسم حمزہ بن یوسف سہمی
❀ عبدالعزیز ازجی
[تاريخ بغداد 12 / 34 - كتاب الأنساب، ص: 217 - تذكرة الحفاظ: 199/3]
طلب حدیث کے لیے سفر:
امام دارقطنی رحمہ اللہ کو علم و فن خصوصاً احادیث نبوی سے غیر معمولی شغف تھا۔ آپ نہایت کم سنی میں اس فن کی تحصیل میں مشغول ہوگئے تھے۔ ابویوسف قواس کا بیان ہے کہ ”جب ہم امام بغوی رحمہ اللہ کے پاس جاتے تھے تو دارقطنی بہت چھوٹے تھے، ان کے ہاتھ میں روٹی اور سالن ہوتا تھا۔ امام صاحب کے زمانے میں بغداد علمی حیثیت سے نہایت ممتاز اور نامور علماء و محدثین کا مرکز تھا، مگر وہ اپنی علمی تشنگی کو بجھانے کے لیے بغداد کے علاقے کوفہ، بصرہ، واسط، شام اور مصر وغیرہ متعدد مقامات میں تشریف لے گئے۔ [تذكرة الحفاظ 202/3]
حفظ و ذکاوت:
امام دارقطنی رحمہ اللہ کا حافظہ غیر معمولی اور بے نظیر تھا۔ ان کا سینہ نہ صرف احادیث بلکہ دوسرے علوم کا بھی مخزن تھا، بعض شعراء کے دواوین ان کو ازبر تھے۔ قدیم عربوں کی طرح وہ تحریر و کتابت کی بجائے اکثر اپنے حافظے سے ہی کام لیتے تھے۔ اپنے تلامذہ کو کتابیں زبانی املا کراتے تھے۔ تذکرہ نگاروں نے ان کو «الحافظ الكبير» ، «الحافظ المشهور» اور «كان عالماً حافظاً» وغیرہ لکھا ہے۔
❀ امام ذہبی رحمہ اللہ نے ان کو «حافظ الزمان» کہا ہے۔
❀ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وہ حافظے میں یکتائے روزگار تھے۔“
❀ امام سمعانی ہمیشہ کا بیان ہے کہ ”دارقطنی کا حافظہ ضرب المثل تھا۔“
❀ علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ ان کے متعلق لکھتے ہیں: ”وہ حافظے میں منفرد اور یگانہ عصر تھے۔“
❀ الابن کثیر رحمہ اللہ یوں رقم طراز ہیں: ”بچپن ہی سے دارقطنی اپنے نمایاں اور غیر معمولی حافظے کے لیے مشہور تھے۔“
❀ ابوالطیب طاہری رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”بغداد میں جو بھی حافظ حدیث آتا وہ امام دارقطنی رحمہ اللہ کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتا اور اس کے بعد اس کے لیے ان کی علمی بلند پایگی اور حافظے میں برتری اور تقدم کا اعتراف کرنا لازمی ہو جاتا۔“
ان کے حافظے اور ذہانت کا یہ حال تھا کہ ایک ہی نشست میں ایک ہی روایت کی بیس بیس سندیں برجستہ بیان کر دیتے تھے۔
❀ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس طرح کے ایک واقعے کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اس کو دیکھ کر امام دارقطنی رحمہ اللہ کی بے پناہ ذہانت، قوت حفظ اور غیر معمولی فہم و معرفت کے سامنے سرنگوں ہو جانا پڑتا ہے۔
عالم شباب میں ایک روز وہ اسماعیل صفار کے درس میں شریک ہوئے، وہ کچھ حدیثیں املا کرا رہے تھے، امام دارقطنی رحمہ اللہ کے پاس کوئی مجموعہ حدیث تھا، یہ بیک وقت اس کو نقل بھی کرتے جاتے تھے اور صفار سے حدیثیں بھی سن رہے تھے، اس پر کسی شریک مجلس نے ان کو ٹوکا اور کہا: تمہارا سماع صحیح اور معتبر نہیں ہو سکتا، کیونکہ تم لکھنے میں مشغول ہو اور شیخ کی مرویات کو ٹھیک سے سمجھنے اور سننے کی کوشش نہیں کرتے۔ تو امام صاحب نے جواب دیا کہ املا کو سمجھنے میں میرا طریقہ آپ سے مختلف ہے، کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ سیدنا شیخ نے اب تک کتنی حدیثیں املا کرائی ہیں؟ اس شخص نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا: شیخ نے اب تک اٹھارہ حدیثیں املا کرائی ہیں۔ شمار کرنے پر واقعی اٹھارہ حدیثیں نکلیں۔ پھر آپ نے ایک ایک حدیث کو بے تکلف بیان کر دیا اور اسناد و متون میں وہی ترتیب بھی قائم رکھی جو شیخ نے بیان کی تھی۔ پورا مجمع اس حیرت انگیز ذہانت اور غیر معمولی حافظے کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ ابوبکر برقانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اکثر ابومسلم مہرانی کے سامنے دارقطنی کی تعریف کیا کرتا تھا، ایک دن انہوں نے کہا: کہ تم دارقطنی کی تعریف میں افراط اور غلو سے کام لیتے ہو، ذرا ان سے رضراض کی وہ حدیث دریافت کرو جو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ میرے دریافت کرنے پر امام صاحب نے نہ صرف وہ حدیث بلکہ اس کے اختلاف وجوہ اور امام بخاری رحمہ اللہ کی اس روایت کے بارے میں خطا بھی واضح کر دی اور میں نے اس کو بھی علل میں شامل کر لیا۔ [تدريب الراوي، ص: 277 - تاريخ بغداد: 12 / 37 - تذكرة الحفاظ: 200/3 - كتاب الأنساب: 217 - البداية والنهاية: 317/11]
عدالت و ثقاہت:
حافظے کی طرح ان کی ثقاہت بھی مسلم ہے۔ خطیب تبریزی رحمہ اللہ نے مشکوٰة کے دیباچے میں امام دارقطنی رحمہ اللہ کو اکابر محدثین اور ائمہ متقین میں شمار کیا ہے اور ان کے مناقب میں راست بازی، امانت اور عدالت کا ذکر کیا ہے۔
علل و اسماء الرجال میں مہارت:
سیدنا امام رحمہ اللہ روایت کی طرح درایت کے بھی ماہر اور جرح و تعدیل کے فن میں امام تھے، ان کا شمار مشہور نقادان حدیث میں کیا جاتا ہے، ممتاز محدثین اور ائمہ فن نے ان کے اس کمال کا اعتراف کیا ہے۔ رجال کی تمام معتبر و متداول کتابوں میں ان کے نقد و جرح کے اقوال موجود ہیں۔
ابن کثیر رحمہ اللہ نے نہایت شاندار الفاظ میں ان کی ناقدانہ بصیرت و ژرف نگاری کا اعتراف کیا ہے، فرماتے ہیں کہ: ”احادیث پر نظر اور علل و انتقاد کے اعتبار سے وہ نہایت عمدہ تھے۔ اپنے دور میں فن اسماء الرجال، علل اور جرح و تعدیل کے امام اور فن درایت میں مکمل دستگاہ رکھتے تھے۔“
ان کے معاصر اور تلمیذ رشید امام حاکم رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ: میں قیام بغداد کے زمانے میں اکثر ان کی صحبتوں سے لطف اندوز ہوتا تھا، یہ واقعہ ہے کہ میں نے ان کی جس قدر تعریفیں سنی تھیں؛ ان سے بڑھ کر ان کو پایا۔ میں ان سے شیوخ، رواۃ اور علل حدیث کے متعلق سوالات کرتا تھا اور وہ ان کا جواب دیتے تھے، میری شہادت ہے کہ روئے زمین پر ان کی کوئی نظیر موجود نہیں۔ [تاريخ بغداد 34/12، 36، 38 - تاريخ ابن خلكان 2/5 - البداية والنهاية: 317/11 - طبقات الشافعية لأبي بكر، ص: 33 - شذرات الذهب: 116/3 - كتاب الأنساب: 217]
حدیث رسول میں درجہ:
امام دارقطنی رحمہ اللہ کو اصل شہرت حدیث میں امتیاز کی بنا پر حاصل ہے، ان کے حفظ وضبط، ثقاہت و اتقان، روایت و درایت میں مہارت اور علل کی معرفت وغیرہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا، اس سے بھی ان کے حدیث میں کمال، بلند پایگی اور تبحر کا پوری طرح اندازہ ہو جاتا ہے۔ ائمہ فن اور نامور محدثین نے ان کے عظیم المرتبت اور صاحب کمال محدث ہونے کا اعتراف کیا ہے:
❀ خطیب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ احادیث و آثار کا علم ان پر ختم ہو گیا، وہ حدیث میں یکتائے روزگار، عجوبہ دہر اور امام فن تھے۔
❀ عبدالغنی بن سعید المصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث پر بحث و گفتگو میں تین اشخاص اپنے اپنے زمانے میں نہایت ممتاز تھے: علی بن مدینی، موسیٰ بن ہارون اور علی بن عمر دارقطنی رحمہ اللہ۔
❀ علامہ ابن خلکان رحمہ اللہ لکھتے ہیں: وہ علم حدیث میں منفرد اور امام تھے، ان کے معاصرین میں کوئی اس مرتبے اور پایے کا شخص نہیں گزرا۔
❀ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ روایت کی وسعت و کثرت کے اعتبار سے وہ امام دہر تھے۔
❀ ابن عماد حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حدیث اور اس کے متعلق فنون میں وہ منتہی تھے اور اس میں ”امیر المؤمنین“ کہلاتے تھے۔
❀ ابوبکر بن بہتہ رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ وہ اپنے دور میں حدیث کے امام تھے۔
❀ ابوالطیب طبری رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ امام صاحب کی مجلس میں ایک روز میں ذکر کی حدیث پڑھی جا رہی تھی، امام صاحب نے اس کے بے شمار طرق جمع کر کے اس کے فوائد پر عمدہ تقریر کی اور اس کے بعد فرمایا: امام أحمد ہوتے تو وہ اس معاملے میں مجھ سے استفادہ کرتے۔
امام صاحب کے اس فن کے مقام و مرتبے کا اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ صحاح ستہ کے مصنفین کے بعد جن مصنفین کو معتبر اور جن کی تصنیفات کو مستند خیال کیا گیا ہے، ان میں ان کا نام نامی بھی شامل ہے۔
ابن صلاح، امام نووی، خطیب تبریزی اور علامہ سیوطی رحمہم اللہ نے اس حیثیت سے ان کا ذکر و اعتراف کیا ہے۔ [مقدمة ابن صلاح، ص: 192 - تدريب الراوي، ص: 260 - مقدمه كمال، ص: 17]
فقہ و خلافیات میں مہارت:
امام دارقطنی رحمہ اللہ ممتاز فقہاء کے مذاہب و مسالک کے نہایت واقف کار اور خلافیات کے بڑے ماہر تھے۔ ان کی سنن بھی اس پر شاہد ہے۔ خطیب رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ حدیث کے علاوہ مذاہب فقہاء کی معرفت میں بھی ان کا درجہ نہایت بلند ہے۔ کتاب السنن (زیر نظر کتاب) کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو فقہ سے بڑا اعتنا و اشتغال تھا، کیونکہ کتاب کے محتویات و مشمولات کو وہی شخص جمع اور مرتب کر سکتا ہے جس کو احکام و مسائل اور فقہاء کے اختلافات سے اچھی اور پوری طرح واقفیت ہو۔ اس فن کو انہوں نے ابوسعید اصطخری سے، اور ایک روایت کے مطابق ان کے کسی خاص شاگرد سے حاصل کیا تھا۔ مؤرخین اور سوانح نگاروں کا متفقہ بیان ہے کہ: «كان عارفاً باختلاف الفقهاء» آپ اختلاف فقہاء کی معرفت رکھنے والے تھے۔ [تاريخ بغداد: 12/35 - التاج المكلل، ص: 45]
نحو، تفسیر اور قرآت میں مقام:
امام صاحب کو علم نحو اور فن قرآت میں ید طولیٰ حاصل تھا اور تفسیری و قرآنی علوم سے بڑا شغف تھا۔ ابوالفداء رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ وہ ”قرآنیات کے امام تھے۔“
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ نحاة و قراء کے امام اور تجوید وقرأت میں بلند پایہ تھے، انہوں نے حروف و مخارج کی تصحیح و ادائیگی کا علم بچپن میں ابوبکر بن مجاہد سے سیکھا اور محمد بن حسین نقاش طبری، أحمد بن محمد دیباجی اور ابوسعید قزاز وغیرہ ماہرین فن سے اس کی باقاعدہ تکمیل کی اور آخر عمر میں خود اس فن میں مرتبہ امامت و اجتہاد پر فائز ہو گئے اور اس میں ایک رسالہ بھی لکھا، اس میں قدیم قراء سے مختلف ایک نیا طرز انہوں نے ایجاد کیا تھا، یہ طرز بعد میں مقبول ہوا اور لوگوں نے اسے اختیار کیا۔ [تاريخ أبى الفداء: 2/130 - تذكرة الحفاظ: 3/200 - تاريخ بغداد 12/34]
شعر و ادب کا ذوق:
امام دارقطنی رحمہ اللہ شعر و ادب کا بھی عمدہ ذوق رکھتے تھے، بعض شعراء کے دواوین ان کو زبانی یاد تھے۔
عربی زبان و ادب پر ان کو اس قدر دسترس اور کامل عبور حاصل تھا کہ ایک دفعہ مصر تشریف لے گئے تو وہاں علوی خاندان کے ایک شخص مسلم بن عبداللہ موجود تھے، یہ ادب، فصاحت و بلاغت اور زبان دانی کے بڑے ماہر تھے، ان کے پاس زبیر بن بکار کی کتاب الانساب تھی جس کو حضر بن داؤد نے ان سے روایت کیا تھا۔ یہ کتاب انساب کے علاوہ اشعار اور ادبی فکاہات و لطائف کا بھی بہترین مجموعہ تھی۔ لوگوں نے امام صاحب سے اس کی قرأت کی فرمائش کی، جس کو انہوں نے منظور کر لیا۔ چنانچہ اس کے لیے ایک مجلس کا اہتمام کیا گیا، جس میں مصر کے نامور علماء و فضلاء اور اساطین شعر و ادب بھی شریک ہوئے تا کہ آپ کی غلطیوں کی گرفت کر سکیں، لیکن ان لوگوں کو ناکامی ہوئی۔ سیدنا امام کے حیرت انگیز کمال کو دیکھ کر سب دنگ رہ گئے، خود مسلم کو بھی ان کے ادبی مذاق کی پختگی و بلندی اور عربی زبان پر غیر معمولی قدرت اور دسترس کا اعتراف کرنا پڑا۔ [تاريخ بغداد 35 - تذكرة الحفاظ: 200/3]
جامعیت:
ان گوناگوں کمالات سے ان کی جامعیت کا اندازہ ہوتا ہے، گو کہ ان کو اصل شہرت حدیث میں امتیاز کی وجہ سے ہے تاہم وہ کسی فن میں بھی عاجز و قاصر نہ تھے۔
خطیب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ حدیث کے علاوہ بھی متعدد علوم میں ان کو درک و مہارت تھی۔
ازہری بیان فرماتے ہیں کہ امام دارقطنی بڑے ذہین و طباع تھے، ان کے سامنے کسی علم کا بھی تذکرہ کیا جاتا تو اس کے متعلق معلومات کا بے شمار ذخیرہ ان کے پاس ہوتا۔
محمد بن طلحہ بغدادی ایک روز ان کے ساتھ کسی دعوت میں شریک تھے، جب کھانے پر گفتگو چھڑی تو امام صاحب نے اس کے اتنے واقعات و حکایات اور نوادر و عجائب بیان کیے کہ رات کا اکثر حصہ ختم ہو گیا۔
امام حاکم رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ آپ نے دارقطنی جیسا کوئی جامع کمالات شخص دیکھا ہے؟ تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ ابوالفداء رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ وہ متعدد علوم میں جامع تھے۔ [تاريخ بغداد /36/12 - تذكرة الحفاظ: 3/200 - تاريخ أبى الفداء: 2/130]
فہم و دانش:
اللہ تعالیٰ نے ان کو فہم و دانش سے بھی سرفراز کیا تھا۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ اس حیثیت سے بھی یکتائے روزگار تھے۔
خطیب رحمہ اللہ نے ان کے فقہ و فہم کی تعریف کی ہے۔ [تاريخ بغداد 34/12 - تذكرة الحفاظ: 200/3]
ورع و تقویٰ:
امام حاکم رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ وہ ورع و تقویٰ میں بے مثال تھے۔
خلال رحمہ اللہ رقم فرماتے ہیں کہ ایک روز میں اپنے ایک استاد کے یہاں گیا، وہاں ابوالحسین بن مظفر، قاضی ابوالحسن جراحی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ فن و اصحاب کمال موجود تھے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو امام دارقطنی رحمہ اللہ نے امامت کی، حالانکہ اس مجلس میں ان سے زیادہ معمر مشائخ موجود تھے۔
امام صاحب دین کے معاملے میں کسی مصلحت، نرمی اور مداہنت کو پسند نہیں کرتے تھے، ان کے زمانے میں شیعیت کا زور تھا لیکن انہوں نے شیعوں کے علی الرغم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے افضل قرار دیا۔ [تاريخ بغداد: 38/12]
شہرت و مقبولیت:
امام دارقطنی رحمہ اللہ اپنے بے شمار کمالات کی وجہ سے نہایت مقبول و محترم سمجھے جاتے تھے۔
امام اور شیخ الاسلام ان کے نام کا جزو ہو گیا تھا۔
جب مسند درس پر رونق افروز ہوتے تو تشنگان علوم کا ہجوم ارد گرد ہوتا تھا۔
آپ کی مجلس درس نہایت باوقار اور پر ہیبت ہوتی تھی۔
نامور محدثین کو بھی احترام کی وجہ سے لب کشائی کی جرات نہیں ہوتی تھی۔
ابن شاہین رحمہ اللہ ایک مرتبہ ان کے درس میں شریک ہوئے تو ان پر اس قدر ہیبت طاری ہوئی کہ ایک کلمہ بھی زبان پر نہ لا سکے کہ مبادا کوئی غلطی ہو جائے۔
آپ کے تلامذہ ہمیشہ آپ کا نام عزت و احترام کے ساتھ لیتے تھے۔
امام عبدالغنی رحمہ اللہ جو کہ خود بھی نامور اور صاحب کمال محدث تھے اور بقول برقانی دارقطنی کے بعد میں نے ان سے بڑا کوئی حافظ حدیث نہیں دیکھا، لیکن جب کبھی وہ امام دارقطنی رحمہ اللہ کے حوالے سے کوئی بات بیان کرتے تو «قال استاذي» یا «سمعت أستاذى» وغیرہ ضرور کہتے، اس کا سبب دریافت کیا گیا تو انہوں نے نہایت فراخ دلی کے ساتھ اعتراف کیا کہ ہم نے یہ جو دو چار حروف سیکھے ہیں وہ ان ہی کا فیض ہے۔ [تاريخ بغداد 12/36 - تذكرة الحفاظ: 196/3]
اخلاق و عادات:
امام صاحب کے اخلاق و عادات کا ذکر کتابوں میں نہیں ملتا لیکن بعض واقعات اور مورخین کے ضمنی بیانات سے ان کی طبعی شرافت اور حسن اخلاق کا پتہ چلتا ہے، مثلاً وہ خاموش طبع تھے اور فضول باتوں کو سخت ناپسند کرتے تھے، طبیعت میں نرمی اور انکساری تھی، لوگوں کی دل آزاری سے پرہیز کرتے تھے، طلبہ کی بڑی حوصلہ افزائی کرتے اور ان کی علمی اعانت بھی کرتے تھے، امام صاحب کی شگفتہ مزاجی اور بذلہ سنجی سے بھی ان کے حسن اخلاق کا پتہ چلتا ہے۔
فقہی مذہب:
اگرچہ امام دارقطنی رحمہ اللہ شافعی المذہب تھے لیکن ان کا شمار اس مذہب کے صاحب وجوہ فقہاء میں ہوتا ہے۔
صاحب وجوہ وہ فقہاء کہلاتے ہیں جنہوں نے اپنے ائمہ کے مذاہب کی تکمیل اور ان سے منسوب مختلف روایتوں کے درمیان تطبیق و ترجیح اور ان کے وجوہ و علل واضح کیے ہیں اور جن مسائل کے متعلق ان کے ائمہ کی تصریحات موجود نہیں تھیں، ان کو ان کے اصول و علل پر قیاس کر کے فتویٰ دیا ہے۔
ابن خلکان نے امام دارقطنی رحمہ اللہ کو «فقيهاً على مذهب الشافعي» اور یافتی نے «صاحب الوجوه فى المذهب» لکھا ہے۔ [تاريخ ابن خلكان 2/5 - مرآة الجنان: 2/425]
عقائد:
امام دارقطنی رحمہ اللہ بڑے صحیح العقیدہ تھے، مذہبی و اعتقادی مسائل میں ان کا مسلک وہی تھا جو اہل السنة والجماعة کا ہے۔
مورخ خطیب لکھتے ہیں کہ وہ فہم و فراست، حفظ و ذکاوت، صدق و امانت اور ثقاہت و عدالت وغیرہ اوصاف کی طرح صحت اعتقاد اور سلامتی مذہب سے بھی متصف تھے۔ [تاريخ بغداد: 34/12]
وفات:
مشہور روایت کے مطابق ان کا انتقال 18 ذوالقعدہ 385ھ کو ہوا۔ مشہور فقیہ ابوحامد اسفراینی رحمہ اللہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ [تاريخ بغداد: 12/40 - تاريخ ابن خلكان 5/2]
تصانیف:
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے بے شمار کتابیں یادگار چھوڑیں جو سب مفید، بلند پایہ اور حسن تالیف کا نمونہ ہیں۔ ان میں سے اکثر حدیث، اصول حدیث اور رجال کے موضوع پر لکھی گئی تھیں مگر اب زیادہ تر نایاب ہیں، ذیل میں ان کی تصانیف کے فقط نام تحریر کیے جاتے ہیں:
◈ سنن دارقطنی
◈ كتاب الرؤية (یہ کتاب پانچ اجزاء پر مشتمل ہے)
◈ کتاب المستجاد
◈ کتاب معرفة مذاهب الفقهاء
◈ غریب اللغة
◈ اختلاف المؤطات
◈ غرائب مالك
◈ الأربعین
◈ كتاب الضعفاء
◈ أسماء المدلسین
◈ أسئلة الحاكم
◈ باب القضا بالیمین مع الشاہد
◈ كتاب الجہر
◈ رسالة قراءة
◈ الرباعیات
◈ المجتبی من السنن المأثورة
◈ كتاب الاخوة
◈ كتاب الأفراد
◈ كتاب التصحیف
◈ كتاب المؤتلف والمختلف
◈ كتاب العلل
◈ كتاب الأسخیاء
◈ کتاب الإلزامات والتتبع
آپ کی کنیت ابوالحسن، نام علی اور نسب نامہ یہ ہے: علی بن عمر بن أحمد بن مہدی بن مسعود بن نعمان بن دینار بن عبداللہ [تاريخ بغداد 12 / 34 - كتاب الأنساب، ص: 217 - المنتظم: 83/7]
ولادت و وطن:
صحیح روایت کے مطابق امام دارقطنی رحمہ اللہ 5 ذوالقعدہ 306ھ کو بغداد کے ایک محلے دارقطن میں پیدا ہوئے۔ یہ محلہ کرخ اور نہر عیسیٰ بن علی کے درمیان واقع تھا اور متعدد اکابر کا مولد تھا، لیکن بعد میں ویران ہوگیا۔ علامہ سمعانی کے بغداد تشریف لانے کے زمانے میں یہ اجڑ چکا تھا۔ [تذكرة الحفاظ: 199/3]
شیوخ و اساتذہ:
امام صاحب کے بعض مشہور شیوخ و اساتذہ کے نام یہ ہیں:
❀ قاضی ابراہیم بن حماد
❀ ابن زیاد نیشاپوری
❀ ابوبکر بن ابی داؤد سجستانی
❀ ابوسعید عدوی
❀ ابوجعفر أحمد بن اسحاق بن بہلول
❀ أحمد بن قاسم فرائضی
❀ عبداللہ بن ابی حیہ
❀ فضل بن أحمد زبیدی
❀ محمد بن قاسم محاربی
❀ ابوعمر محمد بن یوسف قاضی ازدی
❀ یوسف بن یعقوب نیشاپوری
❀ ابن درید
❀ این نیروز
❀ ابوحامد بن ہارون حضرمی
❀ ابوالقاسم عبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز
❀ أحمد بن عیسیٰ بن مسکین بلدی
❀ ابوطالب أحمد بن نصر بن علی بن عبداللہ بن بشر
❀ ابوعلی محمد بن سلیمان مالکی
❀ محمد بن نوح جند یسابوری
❀ یحییٰ بن محمد بن صاعد
تلامذہ:
ان کے بعض مشہور تلامذہ کے نام حسب ذیل ہیں:
❀ ابوبکر أحمد بن محمد برقانی
❀ ابوحامد اسفراینی
❀ ابوالحسین بن مہندی باللہ
❀ ابوطالب بن عباری
❀ قاضی ابوالطیب طبری ابوالقاسم بن محسن
❀ ابومحمد خلال
❀ القاسم ازہری
❀ ابوعبداللہ حاکم (صاحب مستدرک)
❀ ابوالقاسم عبدالصمد بن مامون ہاشمی
❀ حافظ عبدالغنی ازدی
❀ ذکی الدین المنذری (صاحب الترغیب والترہیب)
❀ ابوعبدالرحمان محمد بن حسین سلمی
❀ ابوبکر بن بشران
❀ ابوالحسن بن الآبنوسی
❀ ابوذر بن أحمد ہروی
❀ ابوطاہر بن عبدالرحیم
❀ ابوالقاسم بن بشران
❀ ابومحمد جوہری
❀ ابونعیم اصفہانی (صاحب حلیة الأولیاء)
❀ تمام رازی (صاحب فوائد مشہورہ)
❀ ابوالقاسم حمزہ بن یوسف سہمی
❀ عبدالعزیز ازجی
[تاريخ بغداد 12 / 34 - كتاب الأنساب، ص: 217 - تذكرة الحفاظ: 199/3]
طلب حدیث کے لیے سفر:
امام دارقطنی رحمہ اللہ کو علم و فن خصوصاً احادیث نبوی سے غیر معمولی شغف تھا۔ آپ نہایت کم سنی میں اس فن کی تحصیل میں مشغول ہوگئے تھے۔ ابویوسف قواس کا بیان ہے کہ ”جب ہم امام بغوی رحمہ اللہ کے پاس جاتے تھے تو دارقطنی بہت چھوٹے تھے، ان کے ہاتھ میں روٹی اور سالن ہوتا تھا۔ امام صاحب کے زمانے میں بغداد علمی حیثیت سے نہایت ممتاز اور نامور علماء و محدثین کا مرکز تھا، مگر وہ اپنی علمی تشنگی کو بجھانے کے لیے بغداد کے علاقے کوفہ، بصرہ، واسط، شام اور مصر وغیرہ متعدد مقامات میں تشریف لے گئے۔ [تذكرة الحفاظ 202/3]
حفظ و ذکاوت:
امام دارقطنی رحمہ اللہ کا حافظہ غیر معمولی اور بے نظیر تھا۔ ان کا سینہ نہ صرف احادیث بلکہ دوسرے علوم کا بھی مخزن تھا، بعض شعراء کے دواوین ان کو ازبر تھے۔ قدیم عربوں کی طرح وہ تحریر و کتابت کی بجائے اکثر اپنے حافظے سے ہی کام لیتے تھے۔ اپنے تلامذہ کو کتابیں زبانی املا کراتے تھے۔ تذکرہ نگاروں نے ان کو «الحافظ الكبير» ، «الحافظ المشهور» اور «كان عالماً حافظاً» وغیرہ لکھا ہے۔
❀ امام ذہبی رحمہ اللہ نے ان کو «حافظ الزمان» کہا ہے۔
❀ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وہ حافظے میں یکتائے روزگار تھے۔“
❀ امام سمعانی ہمیشہ کا بیان ہے کہ ”دارقطنی کا حافظہ ضرب المثل تھا۔“
❀ علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ ان کے متعلق لکھتے ہیں: ”وہ حافظے میں منفرد اور یگانہ عصر تھے۔“
❀ الابن کثیر رحمہ اللہ یوں رقم طراز ہیں: ”بچپن ہی سے دارقطنی اپنے نمایاں اور غیر معمولی حافظے کے لیے مشہور تھے۔“
❀ ابوالطیب طاہری رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”بغداد میں جو بھی حافظ حدیث آتا وہ امام دارقطنی رحمہ اللہ کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتا اور اس کے بعد اس کے لیے ان کی علمی بلند پایگی اور حافظے میں برتری اور تقدم کا اعتراف کرنا لازمی ہو جاتا۔“
ان کے حافظے اور ذہانت کا یہ حال تھا کہ ایک ہی نشست میں ایک ہی روایت کی بیس بیس سندیں برجستہ بیان کر دیتے تھے۔
❀ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس طرح کے ایک واقعے کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اس کو دیکھ کر امام دارقطنی رحمہ اللہ کی بے پناہ ذہانت، قوت حفظ اور غیر معمولی فہم و معرفت کے سامنے سرنگوں ہو جانا پڑتا ہے۔
عالم شباب میں ایک روز وہ اسماعیل صفار کے درس میں شریک ہوئے، وہ کچھ حدیثیں املا کرا رہے تھے، امام دارقطنی رحمہ اللہ کے پاس کوئی مجموعہ حدیث تھا، یہ بیک وقت اس کو نقل بھی کرتے جاتے تھے اور صفار سے حدیثیں بھی سن رہے تھے، اس پر کسی شریک مجلس نے ان کو ٹوکا اور کہا: تمہارا سماع صحیح اور معتبر نہیں ہو سکتا، کیونکہ تم لکھنے میں مشغول ہو اور شیخ کی مرویات کو ٹھیک سے سمجھنے اور سننے کی کوشش نہیں کرتے۔ تو امام صاحب نے جواب دیا کہ املا کو سمجھنے میں میرا طریقہ آپ سے مختلف ہے، کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ سیدنا شیخ نے اب تک کتنی حدیثیں املا کرائی ہیں؟ اس شخص نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا: شیخ نے اب تک اٹھارہ حدیثیں املا کرائی ہیں۔ شمار کرنے پر واقعی اٹھارہ حدیثیں نکلیں۔ پھر آپ نے ایک ایک حدیث کو بے تکلف بیان کر دیا اور اسناد و متون میں وہی ترتیب بھی قائم رکھی جو شیخ نے بیان کی تھی۔ پورا مجمع اس حیرت انگیز ذہانت اور غیر معمولی حافظے کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ ابوبکر برقانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اکثر ابومسلم مہرانی کے سامنے دارقطنی کی تعریف کیا کرتا تھا، ایک دن انہوں نے کہا: کہ تم دارقطنی کی تعریف میں افراط اور غلو سے کام لیتے ہو، ذرا ان سے رضراض کی وہ حدیث دریافت کرو جو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ میرے دریافت کرنے پر امام صاحب نے نہ صرف وہ حدیث بلکہ اس کے اختلاف وجوہ اور امام بخاری رحمہ اللہ کی اس روایت کے بارے میں خطا بھی واضح کر دی اور میں نے اس کو بھی علل میں شامل کر لیا۔ [تدريب الراوي، ص: 277 - تاريخ بغداد: 12 / 37 - تذكرة الحفاظ: 200/3 - كتاب الأنساب: 217 - البداية والنهاية: 317/11]
عدالت و ثقاہت:
حافظے کی طرح ان کی ثقاہت بھی مسلم ہے۔ خطیب تبریزی رحمہ اللہ نے مشکوٰة کے دیباچے میں امام دارقطنی رحمہ اللہ کو اکابر محدثین اور ائمہ متقین میں شمار کیا ہے اور ان کے مناقب میں راست بازی، امانت اور عدالت کا ذکر کیا ہے۔
علل و اسماء الرجال میں مہارت:
سیدنا امام رحمہ اللہ روایت کی طرح درایت کے بھی ماہر اور جرح و تعدیل کے فن میں امام تھے، ان کا شمار مشہور نقادان حدیث میں کیا جاتا ہے، ممتاز محدثین اور ائمہ فن نے ان کے اس کمال کا اعتراف کیا ہے۔ رجال کی تمام معتبر و متداول کتابوں میں ان کے نقد و جرح کے اقوال موجود ہیں۔
ابن کثیر رحمہ اللہ نے نہایت شاندار الفاظ میں ان کی ناقدانہ بصیرت و ژرف نگاری کا اعتراف کیا ہے، فرماتے ہیں کہ: ”احادیث پر نظر اور علل و انتقاد کے اعتبار سے وہ نہایت عمدہ تھے۔ اپنے دور میں فن اسماء الرجال، علل اور جرح و تعدیل کے امام اور فن درایت میں مکمل دستگاہ رکھتے تھے۔“
ان کے معاصر اور تلمیذ رشید امام حاکم رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ: میں قیام بغداد کے زمانے میں اکثر ان کی صحبتوں سے لطف اندوز ہوتا تھا، یہ واقعہ ہے کہ میں نے ان کی جس قدر تعریفیں سنی تھیں؛ ان سے بڑھ کر ان کو پایا۔ میں ان سے شیوخ، رواۃ اور علل حدیث کے متعلق سوالات کرتا تھا اور وہ ان کا جواب دیتے تھے، میری شہادت ہے کہ روئے زمین پر ان کی کوئی نظیر موجود نہیں۔ [تاريخ بغداد 34/12، 36، 38 - تاريخ ابن خلكان 2/5 - البداية والنهاية: 317/11 - طبقات الشافعية لأبي بكر، ص: 33 - شذرات الذهب: 116/3 - كتاب الأنساب: 217]
حدیث رسول میں درجہ:
امام دارقطنی رحمہ اللہ کو اصل شہرت حدیث میں امتیاز کی بنا پر حاصل ہے، ان کے حفظ وضبط، ثقاہت و اتقان، روایت و درایت میں مہارت اور علل کی معرفت وغیرہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا، اس سے بھی ان کے حدیث میں کمال، بلند پایگی اور تبحر کا پوری طرح اندازہ ہو جاتا ہے۔ ائمہ فن اور نامور محدثین نے ان کے عظیم المرتبت اور صاحب کمال محدث ہونے کا اعتراف کیا ہے:
❀ خطیب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ احادیث و آثار کا علم ان پر ختم ہو گیا، وہ حدیث میں یکتائے روزگار، عجوبہ دہر اور امام فن تھے۔
❀ عبدالغنی بن سعید المصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث پر بحث و گفتگو میں تین اشخاص اپنے اپنے زمانے میں نہایت ممتاز تھے: علی بن مدینی، موسیٰ بن ہارون اور علی بن عمر دارقطنی رحمہ اللہ۔
❀ علامہ ابن خلکان رحمہ اللہ لکھتے ہیں: وہ علم حدیث میں منفرد اور امام تھے، ان کے معاصرین میں کوئی اس مرتبے اور پایے کا شخص نہیں گزرا۔
❀ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ روایت کی وسعت و کثرت کے اعتبار سے وہ امام دہر تھے۔
❀ ابن عماد حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حدیث اور اس کے متعلق فنون میں وہ منتہی تھے اور اس میں ”امیر المؤمنین“ کہلاتے تھے۔
❀ ابوبکر بن بہتہ رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ وہ اپنے دور میں حدیث کے امام تھے۔
❀ ابوالطیب طبری رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ امام صاحب کی مجلس میں ایک روز میں ذکر کی حدیث پڑھی جا رہی تھی، امام صاحب نے اس کے بے شمار طرق جمع کر کے اس کے فوائد پر عمدہ تقریر کی اور اس کے بعد فرمایا: امام أحمد ہوتے تو وہ اس معاملے میں مجھ سے استفادہ کرتے۔
امام صاحب کے اس فن کے مقام و مرتبے کا اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ صحاح ستہ کے مصنفین کے بعد جن مصنفین کو معتبر اور جن کی تصنیفات کو مستند خیال کیا گیا ہے، ان میں ان کا نام نامی بھی شامل ہے۔
ابن صلاح، امام نووی، خطیب تبریزی اور علامہ سیوطی رحمہم اللہ نے اس حیثیت سے ان کا ذکر و اعتراف کیا ہے۔ [مقدمة ابن صلاح، ص: 192 - تدريب الراوي، ص: 260 - مقدمه كمال، ص: 17]
فقہ و خلافیات میں مہارت:
امام دارقطنی رحمہ اللہ ممتاز فقہاء کے مذاہب و مسالک کے نہایت واقف کار اور خلافیات کے بڑے ماہر تھے۔ ان کی سنن بھی اس پر شاہد ہے۔ خطیب رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ حدیث کے علاوہ مذاہب فقہاء کی معرفت میں بھی ان کا درجہ نہایت بلند ہے۔ کتاب السنن (زیر نظر کتاب) کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو فقہ سے بڑا اعتنا و اشتغال تھا، کیونکہ کتاب کے محتویات و مشمولات کو وہی شخص جمع اور مرتب کر سکتا ہے جس کو احکام و مسائل اور فقہاء کے اختلافات سے اچھی اور پوری طرح واقفیت ہو۔ اس فن کو انہوں نے ابوسعید اصطخری سے، اور ایک روایت کے مطابق ان کے کسی خاص شاگرد سے حاصل کیا تھا۔ مؤرخین اور سوانح نگاروں کا متفقہ بیان ہے کہ: «كان عارفاً باختلاف الفقهاء» آپ اختلاف فقہاء کی معرفت رکھنے والے تھے۔ [تاريخ بغداد: 12/35 - التاج المكلل، ص: 45]
نحو، تفسیر اور قرآت میں مقام:
امام صاحب کو علم نحو اور فن قرآت میں ید طولیٰ حاصل تھا اور تفسیری و قرآنی علوم سے بڑا شغف تھا۔ ابوالفداء رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ وہ ”قرآنیات کے امام تھے۔“
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ نحاة و قراء کے امام اور تجوید وقرأت میں بلند پایہ تھے، انہوں نے حروف و مخارج کی تصحیح و ادائیگی کا علم بچپن میں ابوبکر بن مجاہد سے سیکھا اور محمد بن حسین نقاش طبری، أحمد بن محمد دیباجی اور ابوسعید قزاز وغیرہ ماہرین فن سے اس کی باقاعدہ تکمیل کی اور آخر عمر میں خود اس فن میں مرتبہ امامت و اجتہاد پر فائز ہو گئے اور اس میں ایک رسالہ بھی لکھا، اس میں قدیم قراء سے مختلف ایک نیا طرز انہوں نے ایجاد کیا تھا، یہ طرز بعد میں مقبول ہوا اور لوگوں نے اسے اختیار کیا۔ [تاريخ أبى الفداء: 2/130 - تذكرة الحفاظ: 3/200 - تاريخ بغداد 12/34]
شعر و ادب کا ذوق:
امام دارقطنی رحمہ اللہ شعر و ادب کا بھی عمدہ ذوق رکھتے تھے، بعض شعراء کے دواوین ان کو زبانی یاد تھے۔
عربی زبان و ادب پر ان کو اس قدر دسترس اور کامل عبور حاصل تھا کہ ایک دفعہ مصر تشریف لے گئے تو وہاں علوی خاندان کے ایک شخص مسلم بن عبداللہ موجود تھے، یہ ادب، فصاحت و بلاغت اور زبان دانی کے بڑے ماہر تھے، ان کے پاس زبیر بن بکار کی کتاب الانساب تھی جس کو حضر بن داؤد نے ان سے روایت کیا تھا۔ یہ کتاب انساب کے علاوہ اشعار اور ادبی فکاہات و لطائف کا بھی بہترین مجموعہ تھی۔ لوگوں نے امام صاحب سے اس کی قرأت کی فرمائش کی، جس کو انہوں نے منظور کر لیا۔ چنانچہ اس کے لیے ایک مجلس کا اہتمام کیا گیا، جس میں مصر کے نامور علماء و فضلاء اور اساطین شعر و ادب بھی شریک ہوئے تا کہ آپ کی غلطیوں کی گرفت کر سکیں، لیکن ان لوگوں کو ناکامی ہوئی۔ سیدنا امام کے حیرت انگیز کمال کو دیکھ کر سب دنگ رہ گئے، خود مسلم کو بھی ان کے ادبی مذاق کی پختگی و بلندی اور عربی زبان پر غیر معمولی قدرت اور دسترس کا اعتراف کرنا پڑا۔ [تاريخ بغداد 35 - تذكرة الحفاظ: 200/3]
جامعیت:
ان گوناگوں کمالات سے ان کی جامعیت کا اندازہ ہوتا ہے، گو کہ ان کو اصل شہرت حدیث میں امتیاز کی وجہ سے ہے تاہم وہ کسی فن میں بھی عاجز و قاصر نہ تھے۔
خطیب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ حدیث کے علاوہ بھی متعدد علوم میں ان کو درک و مہارت تھی۔
ازہری بیان فرماتے ہیں کہ امام دارقطنی بڑے ذہین و طباع تھے، ان کے سامنے کسی علم کا بھی تذکرہ کیا جاتا تو اس کے متعلق معلومات کا بے شمار ذخیرہ ان کے پاس ہوتا۔
محمد بن طلحہ بغدادی ایک روز ان کے ساتھ کسی دعوت میں شریک تھے، جب کھانے پر گفتگو چھڑی تو امام صاحب نے اس کے اتنے واقعات و حکایات اور نوادر و عجائب بیان کیے کہ رات کا اکثر حصہ ختم ہو گیا۔
امام حاکم رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ آپ نے دارقطنی جیسا کوئی جامع کمالات شخص دیکھا ہے؟ تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ ابوالفداء رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ وہ متعدد علوم میں جامع تھے۔ [تاريخ بغداد /36/12 - تذكرة الحفاظ: 3/200 - تاريخ أبى الفداء: 2/130]
فہم و دانش:
اللہ تعالیٰ نے ان کو فہم و دانش سے بھی سرفراز کیا تھا۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ اس حیثیت سے بھی یکتائے روزگار تھے۔
خطیب رحمہ اللہ نے ان کے فقہ و فہم کی تعریف کی ہے۔ [تاريخ بغداد 34/12 - تذكرة الحفاظ: 200/3]
ورع و تقویٰ:
امام حاکم رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ وہ ورع و تقویٰ میں بے مثال تھے۔
خلال رحمہ اللہ رقم فرماتے ہیں کہ ایک روز میں اپنے ایک استاد کے یہاں گیا، وہاں ابوالحسین بن مظفر، قاضی ابوالحسن جراحی اور امام دارقطنی رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ فن و اصحاب کمال موجود تھے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو امام دارقطنی رحمہ اللہ نے امامت کی، حالانکہ اس مجلس میں ان سے زیادہ معمر مشائخ موجود تھے۔
امام صاحب دین کے معاملے میں کسی مصلحت، نرمی اور مداہنت کو پسند نہیں کرتے تھے، ان کے زمانے میں شیعیت کا زور تھا لیکن انہوں نے شیعوں کے علی الرغم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے افضل قرار دیا۔ [تاريخ بغداد: 38/12]
شہرت و مقبولیت:
امام دارقطنی رحمہ اللہ اپنے بے شمار کمالات کی وجہ سے نہایت مقبول و محترم سمجھے جاتے تھے۔
امام اور شیخ الاسلام ان کے نام کا جزو ہو گیا تھا۔
جب مسند درس پر رونق افروز ہوتے تو تشنگان علوم کا ہجوم ارد گرد ہوتا تھا۔
آپ کی مجلس درس نہایت باوقار اور پر ہیبت ہوتی تھی۔
نامور محدثین کو بھی احترام کی وجہ سے لب کشائی کی جرات نہیں ہوتی تھی۔
ابن شاہین رحمہ اللہ ایک مرتبہ ان کے درس میں شریک ہوئے تو ان پر اس قدر ہیبت طاری ہوئی کہ ایک کلمہ بھی زبان پر نہ لا سکے کہ مبادا کوئی غلطی ہو جائے۔
آپ کے تلامذہ ہمیشہ آپ کا نام عزت و احترام کے ساتھ لیتے تھے۔
امام عبدالغنی رحمہ اللہ جو کہ خود بھی نامور اور صاحب کمال محدث تھے اور بقول برقانی دارقطنی کے بعد میں نے ان سے بڑا کوئی حافظ حدیث نہیں دیکھا، لیکن جب کبھی وہ امام دارقطنی رحمہ اللہ کے حوالے سے کوئی بات بیان کرتے تو «قال استاذي» یا «سمعت أستاذى» وغیرہ ضرور کہتے، اس کا سبب دریافت کیا گیا تو انہوں نے نہایت فراخ دلی کے ساتھ اعتراف کیا کہ ہم نے یہ جو دو چار حروف سیکھے ہیں وہ ان ہی کا فیض ہے۔ [تاريخ بغداد 12/36 - تذكرة الحفاظ: 196/3]
اخلاق و عادات:
امام صاحب کے اخلاق و عادات کا ذکر کتابوں میں نہیں ملتا لیکن بعض واقعات اور مورخین کے ضمنی بیانات سے ان کی طبعی شرافت اور حسن اخلاق کا پتہ چلتا ہے، مثلاً وہ خاموش طبع تھے اور فضول باتوں کو سخت ناپسند کرتے تھے، طبیعت میں نرمی اور انکساری تھی، لوگوں کی دل آزاری سے پرہیز کرتے تھے، طلبہ کی بڑی حوصلہ افزائی کرتے اور ان کی علمی اعانت بھی کرتے تھے، امام صاحب کی شگفتہ مزاجی اور بذلہ سنجی سے بھی ان کے حسن اخلاق کا پتہ چلتا ہے۔
فقہی مذہب:
اگرچہ امام دارقطنی رحمہ اللہ شافعی المذہب تھے لیکن ان کا شمار اس مذہب کے صاحب وجوہ فقہاء میں ہوتا ہے۔
صاحب وجوہ وہ فقہاء کہلاتے ہیں جنہوں نے اپنے ائمہ کے مذاہب کی تکمیل اور ان سے منسوب مختلف روایتوں کے درمیان تطبیق و ترجیح اور ان کے وجوہ و علل واضح کیے ہیں اور جن مسائل کے متعلق ان کے ائمہ کی تصریحات موجود نہیں تھیں، ان کو ان کے اصول و علل پر قیاس کر کے فتویٰ دیا ہے۔
ابن خلکان نے امام دارقطنی رحمہ اللہ کو «فقيهاً على مذهب الشافعي» اور یافتی نے «صاحب الوجوه فى المذهب» لکھا ہے۔ [تاريخ ابن خلكان 2/5 - مرآة الجنان: 2/425]
عقائد:
امام دارقطنی رحمہ اللہ بڑے صحیح العقیدہ تھے، مذہبی و اعتقادی مسائل میں ان کا مسلک وہی تھا جو اہل السنة والجماعة کا ہے۔
مورخ خطیب لکھتے ہیں کہ وہ فہم و فراست، حفظ و ذکاوت، صدق و امانت اور ثقاہت و عدالت وغیرہ اوصاف کی طرح صحت اعتقاد اور سلامتی مذہب سے بھی متصف تھے۔ [تاريخ بغداد: 34/12]
وفات:
مشہور روایت کے مطابق ان کا انتقال 18 ذوالقعدہ 385ھ کو ہوا۔ مشہور فقیہ ابوحامد اسفراینی رحمہ اللہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ [تاريخ بغداد: 12/40 - تاريخ ابن خلكان 5/2]
تصانیف:
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے بے شمار کتابیں یادگار چھوڑیں جو سب مفید، بلند پایہ اور حسن تالیف کا نمونہ ہیں۔ ان میں سے اکثر حدیث، اصول حدیث اور رجال کے موضوع پر لکھی گئی تھیں مگر اب زیادہ تر نایاب ہیں، ذیل میں ان کی تصانیف کے فقط نام تحریر کیے جاتے ہیں:
◈ سنن دارقطنی
◈ كتاب الرؤية (یہ کتاب پانچ اجزاء پر مشتمل ہے)
◈ کتاب المستجاد
◈ کتاب معرفة مذاهب الفقهاء
◈ غریب اللغة
◈ اختلاف المؤطات
◈ غرائب مالك
◈ الأربعین
◈ كتاب الضعفاء
◈ أسماء المدلسین
◈ أسئلة الحاكم
◈ باب القضا بالیمین مع الشاہد
◈ كتاب الجہر
◈ رسالة قراءة
◈ الرباعیات
◈ المجتبی من السنن المأثورة
◈ كتاب الاخوة
◈ كتاب الأفراد
◈ كتاب التصحیف
◈ كتاب المؤتلف والمختلف
◈ كتاب العلل
◈ كتاب الأسخیاء
◈ کتاب الإلزامات والتتبع