سوانح حیات: امام ابن حبان رحمہ اللہ
سوانح حیات
سوانح حیات:
ذاتی معلومات و نسب:
الإمام ابن حبان رحمہ اللہ کا نام ”محمد“ ہے۔ آپ کی کنیت ”ابوحاتم“ ہے۔ الإمام ابن حبان رحمہ اللہ ”تمیمی“ ہے جو آپ کے جد امجد ”تمیم بن مر“ کی نسبت کی وجہ سے ہے جن کا سلسلہ الیاس بن مضر پر جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔ الإمام ابن حبان رحمہ اللہ کا دوسرا لقب ”بُستی“ ان کے آبائی شہر ”بُست“ کی نسبت سے ہے۔ یہ مشہور تاریخی شہر خراسان کے علاقہ ہمدان کا ایک شہر ہے اور ہمارے زمانے میں یہ افغانستان کا حصہ ہے۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی:
یہ شہر 43 ہجری میں اسلامی سلطنت کا حصہ بنا تھا جب عبدالرحمٰن بن سمرہ نے اسے فتح کیا تھا اور وہ اس سے آگے بڑھ کر کابل تک پہنچ گئے تھے۔ کسی تاریخی حوالے سے یہ بات واضح نہیں ہو پاتی کہ امام ابن حبان رحمہ اللہ بُست کا سن پیدائش کیا ہے۔ تاہم اکثر مؤرخین کے نزدیک الإمام ابن حبان رحمہ اللہ 280 ہجری کے آس پاس پیدا ہوئے تھے۔ امام ذہبی نے یہ بات نقل کی ہے: ”انہوں نے تیسری صدی ہجری کے اختتام پر علم حدیث کی طلب کا آغاز کیا۔ مؤرخین نے یہ بات بیان کی ہے: اس وقت ان کی عمر 20 برس کے لگ بھگ تھی“۔
علم حدیث کی طلب اور سفر:
الإمام ابن حبان رحمہ اللہ علم حدیث کی طلب میں طویل اسفار کیے۔ انہوں نے اپنے وقت کے تمام بڑے شہروں میں جاکر وہاں موجود محدثین سے احادیث و روایات کا حاصل کیا۔ ان شہروں میں بُستان، ہرات، مرو، زُرنج، شافش، بخارا، نیشاپور، سمرقند، اہواز، بصرہ، کوفہ، موصل، رَملہ، آیا (یہاں کچھ الفاظ غیر واضح ہیں) طرسوس، دمشق، بیروت، رذمة، بیت المقدس، مصر، اور حجاز شامل ہیں۔
مشائخ اور روایات:
الإمام ابن حبانؒ مشائخ کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق دو ہزار سے زیادہ ہے۔ تاہم شعیب الارناؤط نے یہ بات تحریر کی ہے: امام ابن حبانؒ نے اپنی صحیح میں 21 مشائخ سے زیادہ احادیث روایت نہیں کیں۔ زیادہ روایات نقل کرنے والے مشائخ درج ذیل ہیں:
امام ابن خزیمہ – 301 روایات
امام ابو یعلی موصلی – 1174 روایات
امام حسن بن سفیان خراسانی – 815 روایات
امام فضل بن حباب – 732 روایات
امام ابو الحسن حرشی (ابو حفص شیرویہ کے نام سے معروف) – 463 روایات
امام محمد بن عسقلانی – 464 روایات
امام ابو حفص عمر بن سمرقندی – 357 روایات
امام ابو عبد اللہ مقدسی – 313 روایات
امام ابو بکر حافی – 281 روایات
امام ابو اسحاق حرانی – 232 روایات
امام ابو عباس سراج ثقفی – 173 روایات
امام ابو عمیر حرانی جزری – 167 روایات
امام حسین بن ادریس ہروی – 136 روایات
امام ابو عبداللہ سامی ہروی – 112 روایات
امام ابو جعفر سُوسی – 99 روایات
امام ابو یعلی رقّی – 90 روایات
امام ابو الحسن رازی – 91 روایات
امام ابو عبداللہ جوالیقی – 73 روایات
امام ابو جعفر تمری – 75 روایات
امام ابو عبداللہ بغدادی – 70 روایات
محدث اسحاق بُستی – 69 روایات
یہ وہ مشائخ ہیں جن سے امام ابن حبانؒ نے زیادہ روایات نقل کی ہیں۔ ابن حبان کے باقی شیوخؒ مروہ، ہرات میں ہیں، جنہوں نے 1 سے 60 تک روایات نقل کی ہیں۔
اہم تلامذہ:
امام ابن حبانؒ کے زمانے کے اکابر محدثین میں سے ایک تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کثیر تلامذہ نے ان سے استفادہ کیا۔ آپ کے مشہور تلامذہ کے اسما درج ذیل ہیں:
(i) الإمام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری (یہ مستدرک حاکم کے مصنف ہیں)
(ii) الإمام ابو الحسن علی دار قطنی (سُنن دار قطنی کے مصنف ہیں)
(iii) الإمام حافظ ابو عبداللہ محمد بن اسحاق عبدی (یہ کتاب معرفة الصحابہ کے مصنف ہیں)
(iv) الإمام احمد بن محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن غالب زوزنی (انہوں نے امام ابن حبانؒ کی ”صحیح“ روایت کی ہے)
اہم تصانیف:
امام ابن حبانؒ نے کئی تصانیف یادگار چھوڑی ہیں۔ جن میں سے مطبوعہ کتب کا اجمالی تذکرہ درج ذیل ہے:
(i) المسند الصحیح (یہ صحیح ابن حبان کے نام سے معروف ہے)
(ii) الثقات (یہ ثقہ راویوں کے بارے میں ہے)
(iii) معرفة المجروحین (یہ صرف ضعیف اور متروک راویوں کے بارے میں ہے)
(iv) مشاہیر علماء والامصار (یہ 1600 اہل علم کے حالات پر مشتمل ہے)
(v) روضة العقلاء و نزهة الفضلاء (یہ اچھے اخلاق کے بارے میں ہے)
وفات اور تدفین:
علم حدیث کی تحصیل اور تعلیم کے حوالے سے بھر پور زندگی گزارنے کے بعد امام ابن حبانؒ نے شب جمعہ 22 شوال المکرم 354 ہجری میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ انہیں جمعہ کی نماز کے بعد ان کے آبائی وطن ”بُست“ میں سپرد خاک کیا گیا۔
الإمام ابن حبان رحمہ اللہ کا نام ”محمد“ ہے۔ آپ کی کنیت ”ابوحاتم“ ہے۔ الإمام ابن حبان رحمہ اللہ ”تمیمی“ ہے جو آپ کے جد امجد ”تمیم بن مر“ کی نسبت کی وجہ سے ہے جن کا سلسلہ الیاس بن مضر پر جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔ الإمام ابن حبان رحمہ اللہ کا دوسرا لقب ”بُستی“ ان کے آبائی شہر ”بُست“ کی نسبت سے ہے۔ یہ مشہور تاریخی شہر خراسان کے علاقہ ہمدان کا ایک شہر ہے اور ہمارے زمانے میں یہ افغانستان کا حصہ ہے۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی:
یہ شہر 43 ہجری میں اسلامی سلطنت کا حصہ بنا تھا جب عبدالرحمٰن بن سمرہ نے اسے فتح کیا تھا اور وہ اس سے آگے بڑھ کر کابل تک پہنچ گئے تھے۔ کسی تاریخی حوالے سے یہ بات واضح نہیں ہو پاتی کہ امام ابن حبان رحمہ اللہ بُست کا سن پیدائش کیا ہے۔ تاہم اکثر مؤرخین کے نزدیک الإمام ابن حبان رحمہ اللہ 280 ہجری کے آس پاس پیدا ہوئے تھے۔ امام ذہبی نے یہ بات نقل کی ہے: ”انہوں نے تیسری صدی ہجری کے اختتام پر علم حدیث کی طلب کا آغاز کیا۔ مؤرخین نے یہ بات بیان کی ہے: اس وقت ان کی عمر 20 برس کے لگ بھگ تھی“۔
علم حدیث کی طلب اور سفر:
الإمام ابن حبان رحمہ اللہ علم حدیث کی طلب میں طویل اسفار کیے۔ انہوں نے اپنے وقت کے تمام بڑے شہروں میں جاکر وہاں موجود محدثین سے احادیث و روایات کا حاصل کیا۔ ان شہروں میں بُستان، ہرات، مرو، زُرنج، شافش، بخارا، نیشاپور، سمرقند، اہواز، بصرہ، کوفہ، موصل، رَملہ، آیا (یہاں کچھ الفاظ غیر واضح ہیں) طرسوس، دمشق، بیروت، رذمة، بیت المقدس، مصر، اور حجاز شامل ہیں۔
مشائخ اور روایات:
الإمام ابن حبانؒ مشائخ کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق دو ہزار سے زیادہ ہے۔ تاہم شعیب الارناؤط نے یہ بات تحریر کی ہے: امام ابن حبانؒ نے اپنی صحیح میں 21 مشائخ سے زیادہ احادیث روایت نہیں کیں۔ زیادہ روایات نقل کرنے والے مشائخ درج ذیل ہیں:
امام ابن خزیمہ – 301 روایات
امام ابو یعلی موصلی – 1174 روایات
امام حسن بن سفیان خراسانی – 815 روایات
امام فضل بن حباب – 732 روایات
امام ابو الحسن حرشی (ابو حفص شیرویہ کے نام سے معروف) – 463 روایات
امام محمد بن عسقلانی – 464 روایات
امام ابو حفص عمر بن سمرقندی – 357 روایات
امام ابو عبد اللہ مقدسی – 313 روایات
امام ابو بکر حافی – 281 روایات
امام ابو اسحاق حرانی – 232 روایات
امام ابو عباس سراج ثقفی – 173 روایات
امام ابو عمیر حرانی جزری – 167 روایات
امام حسین بن ادریس ہروی – 136 روایات
امام ابو عبداللہ سامی ہروی – 112 روایات
امام ابو جعفر سُوسی – 99 روایات
امام ابو یعلی رقّی – 90 روایات
امام ابو الحسن رازی – 91 روایات
امام ابو عبداللہ جوالیقی – 73 روایات
امام ابو جعفر تمری – 75 روایات
امام ابو عبداللہ بغدادی – 70 روایات
محدث اسحاق بُستی – 69 روایات
یہ وہ مشائخ ہیں جن سے امام ابن حبانؒ نے زیادہ روایات نقل کی ہیں۔ ابن حبان کے باقی شیوخؒ مروہ، ہرات میں ہیں، جنہوں نے 1 سے 60 تک روایات نقل کی ہیں۔
اہم تلامذہ:
امام ابن حبانؒ کے زمانے کے اکابر محدثین میں سے ایک تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کثیر تلامذہ نے ان سے استفادہ کیا۔ آپ کے مشہور تلامذہ کے اسما درج ذیل ہیں:
(i) الإمام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری (یہ مستدرک حاکم کے مصنف ہیں)
(ii) الإمام ابو الحسن علی دار قطنی (سُنن دار قطنی کے مصنف ہیں)
(iii) الإمام حافظ ابو عبداللہ محمد بن اسحاق عبدی (یہ کتاب معرفة الصحابہ کے مصنف ہیں)
(iv) الإمام احمد بن محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن غالب زوزنی (انہوں نے امام ابن حبانؒ کی ”صحیح“ روایت کی ہے)
اہم تصانیف:
امام ابن حبانؒ نے کئی تصانیف یادگار چھوڑی ہیں۔ جن میں سے مطبوعہ کتب کا اجمالی تذکرہ درج ذیل ہے:
(i) المسند الصحیح (یہ صحیح ابن حبان کے نام سے معروف ہے)
(ii) الثقات (یہ ثقہ راویوں کے بارے میں ہے)
(iii) معرفة المجروحین (یہ صرف ضعیف اور متروک راویوں کے بارے میں ہے)
(iv) مشاہیر علماء والامصار (یہ 1600 اہل علم کے حالات پر مشتمل ہے)
(v) روضة العقلاء و نزهة الفضلاء (یہ اچھے اخلاق کے بارے میں ہے)
وفات اور تدفین:
علم حدیث کی تحصیل اور تعلیم کے حوالے سے بھر پور زندگی گزارنے کے بعد امام ابن حبانؒ نے شب جمعہ 22 شوال المکرم 354 ہجری میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ انہیں جمعہ کی نماز کے بعد ان کے آبائی وطن ”بُست“ میں سپرد خاک کیا گیا۔