تفسير ابن كثير



سورۃ الانسان/الدهر
تفسیر سورۃ الإنسان:

صحیح مسلم کے حوالے سے یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ جمعہ کے دن صبح کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الم تنزیل [یعنی سورۃ السجدہ] ‏‏‏‏ اور سورۃ «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ» پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:891] ‏‏‏‏

ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت اتری اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت کی اس وقت آپ کے پاس ایک سانولے رنگ کے صحابی بیٹھے ہوئے تھے، جب جنت کی صفتوں کا ذکر آیا تو ان کے منہ سے بےساختہ ایک چیخ نکل گئی اور ساتھ ہی روح پرواز کر گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھی اور تمہارے بھائی کی جان جنت کے شوق میں نکل گئی۔ [اللآلي المصنوعة للسيوطي:410/1،ضعيف] ‏‏‏‏


[ترجمہ محمد جوناگڑھی][ترجمہ فتح محمد جالندھری][ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا[1] إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا[2] إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا[3]

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد] کیا انسان پر زمانے میں سے کوئی ایسا وقت گزرا ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں تھا جس کا (کہیں) ذکر ہوا ہو؟ [1] بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا، ہم اسے آزماتے ہیں، سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنا دیا۔ [2] بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ وہ شکر کرنے والا بنے اور خواہ نا شکرا۔ [3]
........................................

[ترجمہ محمد جوناگڑھی] یقیناً گزرا ہے انسان پر ایک وقت زمانے میں جب کہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا [1] بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کے لیے پیدا کیا اور اس کو سنتا دیکھتا بنایا [2] ہم نے اسے راه دکھائی اب خواه وه شکر گزار بنے خواه ناشکرا [3]۔
........................................

[ترجمہ فتح محمد جالندھری] بےشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھی [1] ہم نے انسان کو نطفہٴ مخلوط سے پیدا کیا تاکہ اسے آزمائیں تو ہم نے اس کو سنتا دیکھتا بنایا [2] (اور) اسے رستہ بھی دکھا دیا۔ (اب) وہ خواہ شکرگزار ہو خواہ ناشکرا [3]۔
........................................

 

تفسیر آیت/آیات، 1، 2، 3،

اے انسان اپنے فرائض پہچان ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” اس نے انسان کو پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنی حقارت اور ضعف کی وجہ سے ایسی چیز نہ تھا کہ ذکر کیا جائے۔ اسے مرد و عورت کے ملے جلے پانی سے پیدا کیا اور عجب عجب تبدیلیوں کے بعد یہ موجودہ شکل و صورت اور ہئیت پر آیا، اسے ہم آزما رہے ہیں “۔

جیسے اور جگہ ہے «لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» [67-الملك:2] ‏‏‏‏ ” تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ “

پس اس نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائیں تاکہ اطاعت اور معصیت میں تمیز کر سکو۔

ہم نے اسے راہ دکھا دی خوب واضح اور صاف کر کے اپنا سیدھا راستہ اس پر کھول دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» [41-فصلت:17] ‏‏‏‏ یعنی ” ثمودیوں کو ہم نے ہدایت کی لیکن انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی “۔
10080

اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ» [90- البلد:10] ‏‏‏‏ ” ہم نے انسان کو دونوں راہیں دکھا دیں “، یعنی بھلائی برائی کی، اس آیت کی تفسیر میں مجاہد ابوصالح ضحاک اور سدی رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ اسے ہم نے راہ دکھائی یعنی ماں کے پیٹ سے باہر آنے کی، لیکن یہ قول غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے اور جمہور سے یہی منقول ہے۔

«‏‏‏‏شاکراً» اور «کفوراً» ‏‏‏‏کا نصب حال کی وجہ سے ذوالحال «لا» کی ضمیر ہے جو «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ میں ہے، یعنی ” وہ اس حالت میں یا تو شقی ہے یا سعید ہے “۔

جیسے صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر شخص صبح کے وقت اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے یا تو اسے ہلاک کر دیتا ہے یا آزاد کرا لیتا ہے ۔ [صحیح مسلم:223] ‏‏‏‏
10081

مسند احمد میں ہے کہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے۔‏‏‏‏ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا:یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ فرمایا: وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے، نہ میرے طریقوں پر چلیں گے پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آ سکتے اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے۔ اے کعب! روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب اللہ کا سبب ہے یا فرمایا دلیل نجات ہے۔ اے کعب! وہ گوشت پوست جنت میں نہیں جا سکتا جو حرام سے پلا ہو وہ تو جہنم میں ہی جانے کے قابل ہے، اے کعب! لوگ ہر صبح اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتے ہیں کوئی تو اسے آزاد کرا لیتا ہے اور کوئی ہلاک کر گزرتا ہے ۔ [مسند احمد:321/3:اسنادہ قوی] ‏‏‏‏
10082

سورۃ الروم کی آیت «فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [30-الروم:30] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی گزر چکا ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ زبان چلنے لگتی ہے، پھر یا تو شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا ۔

مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ جو نکلنے والا نکلتا ہے اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ایک فرشتے کے ہاتھ میں، دوسرا شیطان کے ہاتھ میں، پس اگر وہ اس کام کے لیے نکلا جو اللہ کی مرضی کا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لیے ہوئے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور یہ واپسی تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہی رہتا ہے اور اگر اللہ کی ناراضگی کے کام کے لیے نکلا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لگائے اس کے ساتھ ہو لیتا ہے اور واپسی تک یہ شیطانی جھنڈے تلے رہتا ہے ۔ [مسند احمد:323/2:ضعیف] ‏‏‏‏
10083