تفسير ابن كثير



سورۃ النبأ

[ترجمہ محمد جوناگڑھی][ترجمہ فتح محمد جالندھری][ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ[1] عَنِ النَّبَإِ الْعَظِيمِ[2] الَّذِي هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ[3] كَلَّا سَيَعْلَمُونَ[4] ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ[5] أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا[6] وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا[7] وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا[8]

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد] کس چیز کے بارے میں وہ آپس میں سوال کر رہے ہیں؟ [1] (کیا) اس بڑی خبر کے بارے میں؟ [2] وہ کہ جس میں وہ اختلاف کرنے والے ہیں۔ [3] ہرگز نہیں، عنقریب وہ جان لیں گے۔ [4] پھر ہرگز نہیں، عنقریب وہ جان لیں گے۔ [5] کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا۔ [6] اور پہاڑوں کو میخیں۔ [7] اور ہم نے تمھیں جوڑا جوڑا پیدا کیا۔ [8]
........................................

[ترجمہ محمد جوناگڑھی] یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں [1] اس بڑی خبر کے متعلق [2] جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں [3] یقیناً یہ ابھی جان لیں گے [4] پھر بالیقین انہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا [5] کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا؟ [6] اور پہاڑوں کو میخیں (نہیں بنایا؟) [7] اور ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا [8]۔
........................................

[ترجمہ فتح محمد جالندھری] (یہ) لوگ کس چیز کی نسبت پوچھتے ہیں؟ [1] (کیا) بڑی خبر کی نسبت؟ [2] جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں [3] دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے [4] پھر دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے [5] کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا [6] اور پہاڑوں کو (ا س کی) میخیں (نہیں ٹھہرایا؟) [7] (بے شک بنایا) اور تم کو جوڑا جوڑابھی پیدا کیا [8]۔
........................................

 

تفسیر آیت/آیات، 1، 2، 3، 4، 5، 6، 7، 8،

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ “
10176

پھر خود فرماتا ہے کہ ” یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے “۔

مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔‏‏‏‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏‏‏‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔

پھر اس آیت «‏‏‏‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏‏‏‏ [78-النبأ:3] ‏‏‏‏ ” جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں “، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ” تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے “، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟

زمین کا تذکرہ:

تو فرماتا ہے ” دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے “۔

انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق:

” زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں “۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ [30-الروم:21] ‏‏‏‏ ” اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا “۔
10177