تفسير ابن كثير



سورۃ العاديات

[ترجمہ محمد جوناگڑھی][ترجمہ فتح محمد جالندھری][ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا[1] فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا[2] فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا[3] فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا[4] فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا[5] إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ[6] وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ[7] وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ[8] أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ[9] وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ[10] إِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَخَبِيرٌ[11]

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد] قسم ہے ان ( گھوڑوں) کی جو پیٹ اور سینے سے آواز نکالتے ہوئے دوڑنے والے ہیں! [1] پھر جو سم مار کر چنگاریاں نکالنے والے ہیں! [2] پھر جو صبح کے وقت حملہ کرنے والے ہیں! [3] پھر اس کے ساتھ غبار اڑاتے ہیں۔ [4] پھر وہ اس کے ساتھ بڑی جماعت کے درمیان جا گھستے ہیں۔ [5] بے شک انسان اپنے رب کا یقینا بہت ناشکرا ہے ۔ [6] اور بے شک وہ اس بات پر یقینا (خود) گواہ ہے۔ [7] اور بے شک وہ مال کی محبت میں یقینا بہت سخت ہے۔ [8] تو کیا وہ نہیں جانتاجب قبروں میں جو کچھ ہے باہر نکال پھینکا جائے گا۔ [9] اور جو کچھ سینوں میں ہے ظاہر کر دیا جائے گا۔ [10] بے شک ان کا رب اس دن ان کے متعلق یقینا خوب خبر رکھنے والا ہے۔ [11]
........................................

[ترجمہ محمد جوناگڑھی] ہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم! [1] پھر ٹاپ مار کر آگ جھاڑنے والوں کی قسم! [2] پھر صبح کے وقت دھاوا بولنے والوں کی قسم [3] پس اس وقت گرد وغبار اڑاتے ہیں [4] پھر اسی کے ساتھ فوجیوں کے درمیان گھس جاتے ہیں [5] یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے [6] اور یقیناً وه خود بھی اس پر گواه ہے [7] یہ مال کی محنت میں بھی بڑا سخت ہے [8] کیا اسے وه وقت معلوم نہیں جب قبروں میں جو (کچھ) ہے نکال لیا جائے گا [9] اور سینوں کی پوشیده باتیں ﻇاہر کر دی جائیں گی [10] بیشک ان کا رب اس دن ان کے حال سے پورا باخبر ہوگا [11]۔
........................................

[ترجمہ فتح محمد جالندھری] ان سرپٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جو ہانپ اٹھتےہیں [1] پھر (پتھروں پر نعل) مار کر آگ نکالتے ہیں [2] پھر صبح کو چھاپہ مارتے ہیں [3] پھر اس میں گرد اٹھاتے ہیں [4] پھر اس وقت دشمن کی فوج میں جا گھستے ہیں [5] کہ انسان اپنے پروردگار کا احسان ناشناس (اور ناشکرا) ہے [6] اور وہ اس سے آگاہ بھی ہے [7] وہ تو مال سے سخت محبت کرنے والا ہے [8] کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا کہ جو (مردے) قبروں میں ہیں وہ باہر نکال لیے جائیں گے [9] اور جو (بھید) دلوں میں ہیں وہ ظاہر کر دیئے جائیں گے [10] بےشک ان کا پروردگار اس روز ان سے خوب واقف ہوگا [11]۔
........................................

 

تفسیر آیت/آیات، 1، 2، 3، 4، 5، 6، 7، 8، 9، 10، 11،

انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭

مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں ۔ [صحیح مسلم:382] ‏‏‏‏

پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
10796

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔‏‏‏‏ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔‏‏‏‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن] ‏‏‏‏

مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
10797

مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (‏‏‏‏اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
10798

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔‏‏‏‏

پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا

ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ۔ [مسند بزار:2291:ضعیف] ‏‏‏‏

ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
10799

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے ۔ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد ضعیف ہے۔

پھر فرمایا ” اللہ اس پر شاہد ہے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔

جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» [9-التوبة:17] ‏‏‏‏ یعنی ” مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں “۔

پھر فرمایا ” یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے “ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔

سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10800