تفسير ابن كثير



سورۃ الفيل

[ترجمہ محمد جوناگڑھی][ترجمہ فتح محمد جالندھری][ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 
 

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ[1] أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ[2] وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ[3] تَرْمِيهِمْ بِحِجَارَةٍ مِنْ سِجِّيلٍ[4] فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ[5]

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد] کیا تونے نہیں دیکھا تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کس طرح کیا۔ [1] کیا اس نے ان کی تدبیر کو بے کار نہیں کر دیا؟ [2] اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیج دیے۔ [3] جو ان پر کھنگر (پکی ہوئی مٹی) کی پتھریاں پھینکتے تھے۔ [4] تو اس نے انھیں کھائے ہوئے بھس کی طرح کر دیا۔ [5]
........................................

[ترجمہ محمد جوناگڑھی] کیا تو نے نہ دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ [1] کیا ان کے مکر کو بےکار نہیں کردیا؟ [2] اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے [3] جو انہیں مٹی اور پتھر کی کنکریاں مار رہے تھے [4] پس انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا [5]۔
........................................

[ترجمہ فتح محمد جالندھری] کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا [1] کیا ان کا داؤں غلط نہیں کیا؟ (گیا) [2] اور ان پر جھلڑ کے جھلڑ جانور بھیجے [3] جو ان پر کھنگر کی پتھریاں پھینکتے تھے [4] تو ان کو ایسا کر دیا جیسے کھایا ہوا بھس [5]۔
........................................

 

تفسیر آیت/آیات، 1، 2، 3، 4، 5،

ابرہہ اور اس کا حشر ٭٭

اللہ رب العزت نے قریش پر جو اپنی خاص نعمت انعام فرمائی تھی اس کا ذکر کر رہا ہے کہ جس لشکر نے ہاتھیوں کو ساتھ لے کر کعبے کو ڈھانے کے لیے چڑھائی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کہ وہ کعبے کے وجود کو مٹائیں ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ ان کی تمام فریب کاریاں ان کی تمام قوتیں سلب کر لیں انہیں برباد و غارت کر دیا۔

یہ لوگ مذہباً نصرانی تھے لیکن دین مسیح کو مسخ کر دیا تھا قریباً بت پرست ہو گئے تھے انہیں اس طرح نامراد کرنا یہ گویا پیش خیمہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا اور اطلاع تھی آپ کی آمد آمد کی نبی علیہ السلام اسی سال تولد ہوئے تھے۔

اکثر تاریخ داں حضرات کا یہی قول ہے تو گویا رب العالمین فرما رہا ہے کہ اے قریشیو! حبشہ کے اس لشکر پر تمہیں فتح تمہاری بھلائی کی وجہ سے نہیں دی گئی تھی بلکہ اس میں ہمارے گھر کا بچاؤ تھا جسے ہم شرف بزرگی عظمت و عزت میں اپنے آخر الزمان پیغمبر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے بڑھانے والے تھے۔
10854

غرض اصحاب فیل کا مختصر واقعہ تو یہ ہے جو بیان ہوا اور مطول واقعہ اصحاب الاخدود کے بیان میں گزر چکا ہے کہ قبیلہ حمیر کا آخری بادشاہ ذونواس جو مشرک تھا جس نے اپنے زمانے کے مسلمانوں کو کھائیوں میں قتل کیا تھا جو سچے نصرانی تھے اور تعداد میں تقریباً بیس ہزار تھے، سارے کے سارے شہید کر دئیے گئے تھے صرف دوس ذوثعلبان ایک بچا جو ملک شام جا پہنچا اور قیصر روم سے فریاد رسی چاہی۔

یہ بادشاہ نصرانی مذہب پر تھا اس نے حبشہ کے بادشاہ شاہ نجاشی کو لکھا کہ اس کے ساتھ اپنی پوری فوج کر دو اس لیے کہ یہاں سے دشمن کا ملک قریب تھا۔ اس بادشاہ نے ارباط اور ابویکسوم ابرہہ بن صباح کو امیر لشکر بنا کر بہت بڑا لشکر دے کر دونوں کو اس کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا یہ لشکر یمن پہنچا اور یمن کو اور یمنیوں کو تاخت و تاراج کر دیا۔ ذونواس بھاگ کھڑا ہوا اور دریا میں ڈوب کر مر گیا اور ان لوگوں کی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور سارے یمن پر شاہ حبشہ کا قبضہ ہو گیا اور یہ دونوں سردار یہاں رہنے سہنے لگے لیکن کچھ تھوڑی مدت کے بعد ان میں ناچاقی ہو گئی آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ دونوں نے آمنے سامنے صفیں باندھ لیں اور لڑنے کے لیے نکل آئے۔

عام حملہ ہو اس سے بیشتر ان دونوں سرداروں نے آپس میں کہا کہ فوجوں کو لڑانے اور لوگوں کو قتل کرانے کی کیا ضرورت، آؤ ہم تم دونوں میدان میں نکلیں اور ایک دوسرے سے لڑ کر فیصلہ کر لیں جو زندہ بچ جائے ملک و فوج اس کی۔ چنانچہ یہ بات طے ہو گئی اور دونوں میدان میں نکل آئے ارباط نے ابرہہ پر حملہ کیا اور تلوار کے ایک ہی وار سے چہرہ خونا خون کر دیا ناک ہونٹ اور منہ کٹ گیا، ابرہہ کے غلام عتودہ نے اس موقعہ پر ارباط پر ایک بےپناہ حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا ابرہہ زخمی ہو کر میدان سے زندہ واپس گیا، علاج معالجہ سے زخم اچھے ہو گئے اور یمن کا یہ مستقل بادشاہ بن بیٹھا۔

نجاشی شاہ حبشہ کو جب یہ واقعہ معلوم ہوا تو وہ سخت غصہ ہوا اور ایک خط ابرہہ کو لکھا اسے بڑی لعنت ملامت کی اور کہا کہ قسم اللہ کی میں تیرے شہروں کو پامال کر دوں گا۔ اور تیری چوٹی کاٹ لاؤں گا، ابرہہ نے اس کا جواب نہایت عاجزی سے لکھا اور قاصد کو بہت سارے ہدئیے دئیے اور ایک تھیلی میں یمن کی مٹی بھر دی اور اپنی پیشانی کے بال کاٹ کر اس میں رکھ دئیے۔ اور اپنے خط میں اپنے قصوروں کی معافی طلب کی اور لکھا کہ یہ یمن کی مٹی حاضر ہے اور چوٹی کے بال بھی، آپ اپنی قسم پوری کیجئے اور ناراضی معاف فرمائیے اس سے شاہ حبشہ خوش ہو گیا اور یہاں کی سرداری اسی کے نام کر دی، اب ابرہہ نے نجاشی کو لکھا کہ میں یہاں یمن میں آپ کے لیے ایک ایسا گرجا تعمیر کر رہا ہوں کہ اب تک دنیا میں ایسا نہ بنا ہو اور پھر اس نے گرجا گھر کا بنانا شروع کیا۔
10855

بڑے اہتمام اور کروفر سے بہت اونچا بہت مضبوط بےحد خوبصورت اور منقش و مزین گرجا بنایا۔ اس قدر بلند تھا کہ چوٹی تک نظر ڈالنے والے کی ٹوپی گر پڑتی تھی اسی لیے عرب اسے «قلیس» کہتے یعنی ٹوپی پھینک دینے والا۔ اب ابرہہ اشرم کو یہ سوجھی کہ لوگ بجائے کعبۃ اللہ کے حج کے اس کا حج کریں، اپنی ساری مملکت میں اس کی منادی کرا دی، عدنانیہ اور قحطانیہ عرب کو یہ بہت برا لگا، ادھر سے قریش بھی بھڑک اٹھے، تھوڑے دن میں کوئی شخص رات کے وقت اس کے اندر گھس گیا اور وہاں پاخانہ کر کے چلا آیا چوکیداروں نے جب یہ دیکھا تو بادشاہ کو خبر پہنچائی اور کہا کہ یہ کام قریشیوں کا ہے چونکہ آپ نے ان کا کعبہ روک دیا ہے۔

لہٰذا انہوں نے جوش اور غضب میں آ کر یہ حرکت کی ہے ابرہہ نے اسی وقت قسم کھا لی کہ میں مکہ پہنچوں گا اور بیت اللہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔

اور ایک روایت میں یوں بھی ہے کہ چند ملے جلے نوجوان قریشیوں نے اس گرجا میں آ ۤگ لگا دی تھی اور اس وقت ہوا بھی بہت تیز تھی سارا گرجا جل گیا اور منہ کے بل زمین پر گر گیا اس پر ابرہہ نے بہت بڑا لشکر ساتھ لے کر مکہ پر چڑھائی کی تاکہ کوئی روک نہ سکے اور اپنے ساتھ ایک بڑا اونچا اور موٹا ہاتھی لیا جسے محمود کہا جاتا تھا۔ اس جیسا ہاتھی اور کوئی نہ تھا شاہ حبشہ نے یہ ہاتھی اس کے پاس اسی غرض سے بھیجا تھا آٹھ یا بارہ ہاتھی اور بھی ساتھ تھے یہ کعبے کے ڈھانے کی نیت سے چلا یہ سوچ کر کہ کعبہ کی دیواروں میں مضبوط زنجیریں ڈال دوں گا اور ہاتھیوں کی گردنوں میں ان زنجیروں کو باندھ دوں گا ہاتھی ایک ہی جھٹکے میں چاروں دیواریں بیت اللہ کی جڑ سے گرا دیں گے۔

جب اہل عرب کو یہ خبریں معلوم ہوئیں تو ان پر بڑا بھاری اثر ہوا انہوں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ خواہ کچھ بھی ہو ہم ضرور اس سے مقابلہ کریں گے اور اسے اس کی اس بدکرداری سے روکیں گے ایک یمنی شریف سردار جو وہاں کے بادشاہوں کی اولاد میں سے تھا جسے ذونفر کہا جاتا تھا یہ کھڑا ہو گیا اپنی قوم کو اور کل آس پاس کے عرب کو جمع کیا اور اس بدنیت بادشاہ سے مقابلہ کیا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا عربوں کو شکست ہوئی اور ذونفر اس خبیث کے ہاتھ میں قید ہو گیا اس نے اسے بھی ساتھ لیا اور مکہ شریف کی طرف بڑھا۔
10856

خثم قبیلے کی زمین پر جب یہ پہنچا تو یہاں نفیل بن حبیب خثعمی نے اپنے لشکروں سے اس کا مقابلہ کیا لیکن ابرہہ نے انہیں بھی مغلوب کر لیا اور نفیل بھی قید ہو گیا پہلے تو اس ظالم نے اسے قتل کرنا چاہا لیکن پھر قتل نہ کیا اور قید کر کے ساتھ لے لیا تاکہ راستہ بنائے۔

جب طائف کے قریب پہنچا تو قبیلہ ثقیف نے اس سے صلح کر لی کہ ایسا نہ ہو ان کے بت خانوں کو جس میں لات نامی بت تھا یہ توڑ دے اس نے بھی ان کی بڑی آؤ بھگت کی انہوں نے ابورغال کو اس کے ساتھ کر دیا کہ یہ تمہیں وہاں کا راستہ بتائے گا۔ ابرہہ جب مکے کے بالکل قریب مغمس کے پہنچا تو اس نے یہاں پڑاؤ کیا اس کے لشکر نے آس پاس مکہ والوں کے جو جانور اونٹ وغیرہ چر چگ رہے تھے سب کو اپنے قبضہ میں کیا ان جانوروں میں دو سو اونٹ تو صرف عبدالمطلب کے تھے اسود بن مقصود جو اس کے لشکر کے ہراول کا سردار تھا اس نے ابرہہ کے حکم سے ان جانوروں کو لوٹا تھا، جس پر عرب شاعروں نے اس کی ہجو میں اشعار تصنیف کئے ہوئے ہیں جو سیرۃ ابن اسحاق میں موجود ہیں۔

اب ابرہہ نے اپنا قاصد حناطہٰ حمیری مکہ والوں کے پاس بھیجا کہ مکہ کے سب سے بڑے سردار کو میرے پاس لاؤ اور یہ بھی اعلان کر دو کہ میں مکہ والوں سے لڑنے نہیں آیا میرا ارادہ صرف بیت اللہ کو گرانے کا ہے ہاں اگر مکہ والے اس کے بچانے کے درپے ہوئے تو لامحالہ مجھے ان سے لڑائی کرنی پڑے گی، حناطہٰ جب مکہ میں آیا اور لوگوں سے ملا جلا تو معلوم ہوا کہ یہاں کا بڑا سردار عبدالمطلب بن ہاشم ہے، یہ عبدالمطلب سے ملا اور شاہی پیغام پہنچایا۔

جس کے جواب میں عبدالمطلب نے کہا: واللہ! نہ ہمارا ارادہ اس سے لڑنے کا ہے نہ ہم میں اتنی طاقت ہے یہ اللہ کا حرمت والا گھر ہے اس کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی زندہ یادگار ہے اللہ اگر چاہے گا تو اپنے گھر کی آپ حفاظت کرے گا، ورنہ ہم میں تو ہمت و قوت نہیں۔
10857

حناطہٰ نے کہا: اچھا تو آپ میرے ساتھ بادشاہ کے پاس چلے چلئیے عبدالمطلب ساتھ ہو لئے، بادشاہ نے جب انہیں دیکھا تو ہیبت میں آ گیا عبدالمطلب گورے چٹے سڈول اور مضبوط قوی والے حسین و جمیل انسان تھے، دیکھتے ہی ابرہہ تخت سے نیچے اتر آیا اور فرش پر عبدالمطلب کے ساتھ بیٹھ گیا اور اپنے ترجمان سے کہا کہ ان سے پوچھ کہ کیا چاہتا ہے؟

عبدالمطلب نے کہا میرے دو سو اونٹ جو بادشاہ نے لے لیے ہیں انہیں واپس کر دیا جائے بادشاہ نے کہا ان سے کہہ دے کہ پہلی نظر میں تیرا رعب مجھ پر پڑا تھا اور میرے دل میں تیری وقعت بیٹھ گئی تھی لیکن پہلے ہی کلام میں تو نے سب کچھ کھو دی، اپنے دو سو اونٹ کی تو تجھے فکر ہے اور اپنے اور اپنی قوم کے دین کی تجھے فکر نہیں میں تو تم لوگوں کا عبادت خانہ توڑنے اور اسے خاک میں ملانے کے لیے آیا ہوں۔

عبدالمطلب نے جواب دیا کہ سن بادشاہ اونٹ تو میرے ہیں اس لیے انہیں بچانے کی کوشش میں میں ہوں اور خانہ کعبہ اللہ کا ہے وہ خود اسے بچا لے گا اس پر یہ سرکش کہنے لگا کہ اللہ بھی آج اسے میرے ہاتھ سے نہیں بچا سکتا، عبدالمطلب نے کہا: بہتر ہے وہ جانے اور تو جان۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37989] ‏‏‏‏

یہ بھی مروی ہے کہ اہل مکہ نے تمام حجاز کا تہائی مال ابرہہ کو دینا چاہا کہ وہ اپنے اس بد ارادہ سے باز آئے لیکن اس نے قبول نہ کیا خیر عبدالمطلب تو اپنے اونٹ لے کر چل دئیے اور آ کر قریش کو حکم دیا کہ مکہ بالکل خالی کر دو اور پہاڑوں میں چلے جاؤ، اب عبدالمطلب اپنے ساتھ قریش کے چیدہ چیدہ لوگوں کو لے کر بیت اللہ میں آیا اور بیت اللہ کے دروازہ کا کنڈا تھام کر رو رو کر اور گڑگڑا گڑگڑا کر دعائیں مانگنی شروع کیں کہ باری تعالیٰ ابرہہ اور اس کے خونخوار لشکر سے اپنے پاک اور ذی عزت گھر کو بچا لے۔

عبدالمطلب نے اس وقت یہ دعائیہ اشعار پڑھے۔ «لَاهُمَّ إِنَّ الْمَرْء يَمْ نَع رَحْلَهُ فَامْنَعْ رِحَالك» *** «لَا يَغْلِبَنَّ صَلِيبُهُمْ وَمِحَالُهُمْ أَبَدًا مِحَالَك» یعنی ہم بےفکر ہیں ہم جانتے ہیں کہ ہر گھر والا اپنے گھر کا بچاؤ آپ کرتا ہے۔ اے اللہ! تو بھی اپنے گھر کو اپنے دشمنوں سے بچا یہ تو ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ان کی صلیب اور ان کی ڈولیں تیری ڈولوں پر غالب آ جائیں۔
10858

اب عبدالمطلب نے بیت اللہ کے دروازے کا کنڈا ہاتھ سے چھوڑ دیا اور اپنے تمام ساتھیوں کو لے کر آس پاس کے پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ گیا، یہ بھی مذکور ہے کہ جاتے ہوئے قربانی کے سو اونٹ بیت اللہ کے ارد گرد نشان لگا کر چھوڑ دئیے تھے اس نیت سے کہ اگر یہ بد دین آئے اور انہوں نے اللہ کے نام کی قربانی کے ان جانوروں کو چھیڑا تو عذاب الٰہی ان پر اترے گا،

دوسری صبح ابرہہ کے لشکر میں مکہ جانے کی تیاریاں ہونے لگیں اپنا خاص ہاتھی جس کا نام محمود تھا اسے تیار کیا لشکر میں کمر بندی ہو چکی تھی اور مکہ شریف کی طرف منہ اٹھا کر چلنے کی تیاری کی اس وقت نفیل بن حبیب جو اس سے راستے میں لڑا تھا اور اب بطور قیدی کے اس کے ساتھ تھا وہ آگے بڑھا اور شاہی ہاتھی کا کان پکڑ لیا اور کہا محمود بیٹھ جا اور جہاں سے آیا ہے وہیں خیریت کے ساتھ چلا جا تو اللہ تعالیٰ کے محترم شہر میں ہے یہ کہہ کر کان چھوڑ دیا اور بھاگ کر قریب کی پہاڑی میں جا چھپا۔

محمود ہاتھی یہ سنتے ہی بیٹھ گیا، اب ہزار جتن فیل بان کر رہے ہیں لشکری بھی کوششیں کرتے کرتے تھک گئے لیکن ہاتھی اپنی جگہ سے ہلتا ہی نہیں، سر پر آنکس مار رہے ہیں ادھر ادھر سے بھالے اور برچھے مار رہے ہیں آنکھوں میں آنکس ڈال رہے ہیں غرض تمام جتن کر لیے لیکن ہاتھی جنبش بھی نہیں کرتا پھر بطور امتحان کے اس کا منہ یمن کی طرف کر کے چلانا چاہا تو جھٹ سے کھڑا ہو کر دوڑتا ہوا چل دیا شام کی طرف چلانا چاہا تو بھی پوری طاقت سے آگے بڑھ گیا، مشرق کی طرف لے جانا چاہا تو بھی بھاگا بھاگا گیا پھر مکہ شریف کی طرف منہ کر کے آگے بڑھانا چاہا وہیں بیٹھ گیا -

انہوں نے پھر اسے مارنا شروع کیا دیکھا کہ ایک گھٹا ٹوپ پرندوں کا جھرمٹ بادل کی طرح سمندر کے کنارے کی طرف سے امڈا چلا آ رہا ہے ابھی پوری طرح دیکھ بھی نہیں پائے تھے کہ وہ جانور سر پر آ گئے چاروں طرف سے سارے لشکر کو گھیر لیا اور ان میں ہر ایک کی چونچ میں ایک مسور یا ماش کے دانے برابر کنکری تھی، اور دونوں پنجوں میں دو دو کنکریاں تھیں یہ ان پر پھینکنے لگے جس پر یہ کنکری آن پڑی وہ وہیں ہلاک ہو گیا۔

اب تو اس لشکر میں بھاگڑ پڑ گئی ہر ایک نفیل نفیل کرنے لگا کیونکہ اسے ان لوگوں نے اپنا راہبر اور راستے بتانے والا سمجھ رکھا تھا، نفیل تو ہاتھی کو کہہ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور دیگر اہل مکہ ان لوگوں کی یہ درگت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور نفیل وہیں کھڑا یہ اشعار پڑھ رہا تھا۔ «این المفر والا لہ الطالب» *** «والاشرم المغلوب لیس الغالب» اب جائے پناہ کہاں ہے؟ جبکہ اللہ خود تاک میں لگ گیا ہے سنو اشرم بدبخت مغلوب ہو گیا اب یہ پنپنے کا نہیں۔
10859

اور بھی نفیل نے اس واقعہ کے متعلق بہت سے اشعار کہے ہیں جن میں اس واقعہ کو بیان کیا ہے اور کہا ہے کاش کہ تو اس وقت موجود ہوتا جبکہ ان ہاتھی والوں کی شامت آئی ہے اور وادی محصب میں ان پر عذاب کے سنگریزے برسے ہیں تو اس وقت تو اس اللہ کے لشکر یعنی پرندوں کو دیکھ کر قطعاً سجدے میں گر پڑتا ہم تو وہاں کھڑے حمد رب کی راگنیاں الاپ رہے تھے گو کلیجے ہمارے بھی اونچے ہو گئے تھے کہ کہیں کوئی کنکری ہمارا کام بھی تمام نہ کر دے نصرانی منہ موڑے بھاگ رہے تھے اور نفیل نفیل پکار رہے تھے۔ گویا کہ نفیل پر ان کے باپ دادوں کا کوئی قرض تھا۔

واقدی فرماتے ہیں یہ پرندے زرد رنگ کے تھے کبوتر سے کچھ چھوٹے تھے ان کے پاؤں سرخ تھے اور روایت میں ہے کہ جب محمود ہاتھی بیٹھ گیا اور پوری کوشش کے باوجود بھی نہ اٹھا تو انہوں نے دوسرے ہاتھی کو آگے کیا اس نے قدم بڑھایا ہی تھا کہ اس کی پیشانی پر کنکری پڑی اور بلبلا کر پیچھے ہٹا اور پھرا اور ہاتھی بھی بھاگ کھڑے ہوئے ادھر برابر کنکریاں آنے لگیں اکثر تو وہیں ڈھیر ہو گئے۔

اور بعض جو ادھر ادھر بھاگ نکلے گا ان میں سے کوئی جانبر نہ ہوا بھاگتے بھاگتے ان کے اعضاء کٹ کٹ کر گرتے جاتے تھے اور بالآخر جان سے جاتے تھے۔ ابرہہ بادشاہ بھی بھاگا لیکن ایک ایک عضو بدن جھڑنا شروع ہوا یہاں تک کہ خثعم کے شہروں میں سے صنعاء میں جب وہ پہنچا تو بالکل گوشت کا لوتھڑا بنا ہوا تھا وہیں بلک بلک کر دم توڑا اور کتے کی موت مرا، دل تک پھٹ گیا قریشیوں کو بڑا مال ہاتھ لگا۔

عبدالمطلب نے تو سونے سے ایک کنواں پر کر لیا تھا، زمین عرب میں آبلہ اور چیچک اسی سال پیدا ہوتے ہوئے دیکھے گئے اور اسی سال سپند اور حنظل وغیرہ کے کڑوے درخت بھی اسی سال زمین عرب میں دیکھے گئے ہیں پس اللہ تعالیٰ بزبان رسول معصوم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی یہ نعمت یاد دلاتا ہے اور گویا فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم میرے گھر کی اسی طرح عزت و حرمت کرتے رہتے اور میرے رسول کو مانتے تو میں بھی اسی طرح تمہاری حفاظت کرتا اور تمہیں دشمنوں سے نجات دیتا۔
10860

«أَبَابِيلَ» جمع کا صیغہ ہے اس کا واحد لغت عرب میں پایا نہیں گیا، «سجیل» کے معنی ہیں بہت ہی سخت اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دو فارسی لفظوں سے مرکب ہے یعنی «سنگ» اور «گل» سے یعنی مٹی اور پتھر۔ غرض «سِجِّيلٍ» وہ ہے جس میں پتھر معہ مٹی کے ہو۔

«عَصْفٍ» جمع ہے «عَصْفَةٌ» کی کھیتی کے ان پتوں کو کہتے ہیں جو پک نہ گئے ہوں۔ «أَبَابِيلَ» کے معنی ہیں گروہ گروہ جھنڈ بہت سارے پے در پے جمع شدہ ادھر ادھر سے آنے والے، بعض نحوی کہتے ہیں اس کا واحد «ابیل» ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان پرندوں کی چونچ تھی پرندوں جیسی اور پنجے کتوں جیسے۔

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سبز رنگ کے پرند تھے جو سمندر سے نکلے تھے ان کے سر درندوں جیسے تھے اور اقوال بھی ہیں یہ پرند باقاعدہ ان لشکریوں کے سروں پر، پر باندھ کر کھڑے ہو گئے اور پھر چیخنے لگے پھر پتھراؤ کیا، جس کے سر میں لگا اس کے نیچے سے نکل گیا اور دو ٹکڑے ہو کر زمین پر گرا جس کے جس عضو پر گرا وہ عضو ساقط ہو گیا ساتھ ہی تیز آندھی آئی جس سے اور آس پاس کے کنکر بھی ان کی آنکھوں میں گھس گئے اور سب تہہ و بالا ہو گئے۔ «عَصْفٍ» کہتے ہیں چارے کو اور کٹی کھیتی کو اور گیہوں کے درخت کے پتوں کو اور «مَّأْكُولٍ» سے مراد ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوا ہے۔
10861

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «عصف» کہتے ہیں بھوسی کو جو اناج کے دانوں کے اوپر ہوتی ہے۔ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد کھیتوں کے وہ پتے ہیں جنہیں جانور چر چکے ہوں مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کو تہس نہس کر دیا اور عام خاص کو ہلاک کر دیا اس کی ساری تدبیریں الٹ ہو گئیں کوئی بھلائی انہیں نصیب نہ ہوئی ایسا بھی کوئی ان میں صحیح سالم نہ رہا جو کہ ان کی خبر پہنچائے، جو بھی بچا وہ زخمی ہو کر اور اس زخم سے پھر جاں بر نہ ہو سکا، خود بادشاہ بھی گو وہ ایک گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہو گیا تھا جوں توں صنعاء میں پہنچا لیکن وہاں جاتے ہی اس کا کلیجہ پھٹ گیا اور واقعہ بیان کر ہی چکا تھا کہ مر گیا۔

اس کے بعد اس کا لڑکا یکسوم یمن کا بادشاہ بنا پھر اس کے دوسرے بھائی مسروق بن ابرہہ کو سلطنت ملی اب سیف بن ذی یذن حمیری کسریٰ کے دربار میں پہنچا اور اس سے مدد طلب کی تاکہ وہ اہل حبشہ سے لڑے اور یمن ان سے خالی کرا لے کسریٰ نے اس کے ساتھ ایک لشکر جرار کر دیا اس لشکر نے اہل حبشہ کو شکست دی اور ابرہہ کے خاندان سے سلطنت نکل گئی اور پھر قبیلہ حمیر یہاں کا بادشاہ بن گیا عربوں نے اس پر بڑی خوشی منائی اور چاروں طرف سے مبارکبادیاں وصول ہوئیں۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ابرہہ کے لشکر کے فیل بان اور چرکٹے کو میں نے مکہ شریف میں دیکھا دونوں اندھے ہو گئے تھے چل پھر نہیں سکتے تھے اور بھیک مانگا کرتے تھے۔

سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اساف اور نائلہ بتوں کے پاس یہ بیٹھے رہتے تھے جہاں مشرکین اپنی قربانیاں کرتے تھے اور لوگوں سے بھیک مانگتے پھرتے تھے اس فیل بان کا نام انیسا تھا۔

بعض تاریخوں میں یہ بھی ہے کہ ابرہہ خود اس چڑھائی میں نہ تھا بلکہ اس نے اپنے لشکر کو بہ ماتختی شمس بن مقصود کے بھیجا تھا یہ لشکر بیس ہزار کا تھا اور یہ پرند ان کے اوپر رات کے وقت آئے تھے اور صبح تک ان سب کا ستیاناس ہو چکا تھا لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اور صحیح بات یہ ہے کہ خود ابرہہ اشرم حبشی ہی اپنے ساتھ لشکر لے کر آیا تھا یہ ممکن ہے کہ اس کے ہراول کے دستہ پر یہ شخص سردار ہو، اس واقعہ کو بہت سے عرب شاعروں نے اپنے شعروں میں بھی بسط کے ساتھ بیان کیا ہے۔

سورۃ الفتح کی تفسیر میں ہم اس واقعہ کو مفصل بیان کر آئے ہیں جس میں ہے کہ جب حدیبیہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ٹیلے پر چڑھے جہاں سے آپ قریشیوں پر جانے والے تھے تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی لوگوں نے اسے ڈانٹا ڈپٹا لیکن وہ نہ اٹھی لوگ کہنے لگے قصواء تھک گئی آپ نے فرمایا: نہ یہ تھکی نہ اس میں اڑنے کی عادت ہے اسے اس اللہ نے روک لیا ہے جس نے ہاتھیوں کو روک لیا تھا، پھر فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مکے والے جن شرائط پر مجھ سے صلح چاہیں گے میں سب مان لوں گا بشرطیکہ اللہ کی حرمتوں کی ہتک اس میں نہ ہو پھر آپ نے اسے ڈانٹا تو وہ فوراً اٹھ کھڑی ہو گئی ۔ [صحیح بخاری:2781] ‏‏‏‏ یہ حدیث صحیح بخاری میں ہے۔
10862

اور ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ پر سے ہاتھیوں کو روک لیا اور اپنے نبی کو وہاں کا قبضہ دیا اور اپنے ایماندار بندوں کو، سنو آج اس کی حرمت ویسی ہی لوٹ کر آ گئی ہے جیسے کل تھی، خبردار ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔ [صحیح بخاری:112] ‏‏‏‏

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ الفیل کی تفسیر ختم ہوئی۔
10863