قرآن مجيد

سورۃ غافر/مومن
اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کیجئیے۔

[ترجمہ محمد جوناگڑھی][ترجمہ فتح محمد جالندھری][ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آيات تفسیر

--
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ﴿﴾
شروع کرتا ہوں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1
حم (1)
حم۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
حٰم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
حٰم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
حم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
تفسیر آیت نمبر 1,2,3

2
تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (2)
تنزيل الكتاب من الله العزيز العليم۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
اس کتاب کا نازل فرمانا اس اللہ کی طرف سے ہے جو غالب اور دانا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب ودانا کی طرف سے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے، جو سب پر غالب ، ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

3
غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ (3)
غافر الذنب وقابل التوب شديد العقاب ذي الطول لا إله إلا هو إليه المصير۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
گناه کا بخشنے واﻻ اور توبہ کا قبول فرمانے واﻻ سخت عذاب واﻻ انعام و قدرت واﻻ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف واپس لوٹنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
جو گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے اور سخت عذاب دینے والا اور صاحب کرم ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف پھر کر جانا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا، بہت سخت سزا والا، بڑے فضل والا، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

4
مَا يُجَادِلُ فِي آيَاتِ اللَّهِ إِلَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَا يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ (4)
ما يجادل في آيات الله إلا الذين كفروا فلا يغررك تقلبهم في البلاد۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں پس ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
خدا کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں۔ تو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اللہ کی آیات میں جھگڑا نہیں کرتے مگر وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تو ان کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
تفسیر آیت نمبر 4,5,6

5
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَالْأَحْزَابُ مِنْ بَعْدِهِمْ وَهَمَّتْ كُلُّ أُمَّةٍ بِرَسُولِهِمْ لِيَأْخُذُوهُ وَجَادَلُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ فَأَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ (5)
كذبت قبلهم قوم نوح والأحزاب من بعدهم وهمت كل أمة برسولهم ليأخذوه وجادلوا بالباطل ليدحضوا به الحق فأخذتهم فكيف كان عقاب۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
قوم نوح نے اور ان کے بعد کے گروہوں نے بھی جھٹلایا تھا۔ اور ہر امت نے اپنے رسول کو گرفتار کر لینے کا اراده کیا اور باطل کے ذریعہ کج بحثیاں کیں، تاکہ ان سے حق کو بگاڑ دیں پس میں نے ان کو پکڑ لیا، سو میری طرف سے کیسی سزا ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد اور اُمتوں نے بھی (پیغمبروں کی) تکذیب کی۔ اور ہر اُمت نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہی قصد کیا کہ اس کو پکڑ لیں اور بیہودہ (شہبات سے) جھگڑتے رہے کہ اس سے حق کو زائل کردیں تو میں نے ان کو پکڑ لیا (سو دیکھ لو) میرا عذاب کیسا ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور ان کے بعد بھی کئی جماعتوں نے اور ہر امت نے اپنے رسول کے متعلق ارادہ کیا کہ اسے گرفتار کر لیں اور انھوں نے باطل کے ساتھ جھگڑا کیا، تاکہ اس کے ذریعے حق کو پھسلا دیں، تو میں نے انھیں پکڑ لیا، پھر میری سزا کیسی تھی؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

6
وَكَذَلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ أَصْحَابُ النَّارِ (6)
وكذلك حقت كلمت ربك على الذين كفروا أنهم أصحاب النار۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
اور اسی طرح آپ کے رب کا حکم کافروں پر ﺛابت ہو گیا کہ وه دوزخی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور اسی طرح کافروں کے بارے میں بھی تمہارے پروردگار کی بات پوری ہوچکی ہے کہ وہ اہل دوزخ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اور اس طرح ان لوگوں پر تیرے رب کی بات ثابت ہوگئی جنھوں نے کفر کیا کہ بے شک وہی آگ والے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

7
الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ (7)
الذين يحملون العرش ومن حوله يسبحون بحمد ربهم ويؤمنون به ويستغفرون للذين آمنوا ربنا وسعت كل شيء رحمة وعلما فاغفر للذين تابوا واتبعوا سبيلك وقهم عذاب الجحيم۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
عرش کے اٹھانے والے اور اسکے آس پاس کے (فرشتے) اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے استفغار کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو نے ہر چیز کو اپنی بخشش اور علم سے گھیر رکھا ہے، پس تو انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری راه کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
جو لوگ عرش کو اٹھائے ہوئے اور جو اس کے گردا گرد (حلقہ باندھے ہوئے) ہیں (یعنی فرشتے) وہ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور مومنوں کے لئے بخشش مانگتے رہتے ہیں۔ کہ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کو احاطہ کئے ہوئے ہے تو جن لوگوں نے توبہ کی اور تیرے رستے پر چلے ان کو بخش دے اور دوزخ کے عذاب سے بچالے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
وہ(فرشتے) جو عرش کواٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو اس کے ارد گرد ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اورا ن لوگوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو ایمان لائے، اے ہمارے رب! تو نے ہر چیز کو رحمت اور علم سے گھیر رکھا ہے، تو ان لوگوں کو بخش دے جنھوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے اور انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
تفسیر آیت نمبر 7,8,9

8
رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (8)
ربنا وأدخلهم جنات عدن التي وعدتهم ومن صلح من آبائهم وأزواجهم وذرياتهم إنك أنت العزيز الحكيم۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
اے ہمارے رب! تو انہیں ہمیشگی والی جنتوں میں لے جا جن کا تو نے ان سے وعده کیا ہے اور ان کے باپ دادوں اور بیویوں اور اوﻻد میں سے (بھی) ان (سب) کو جو نیک عمل ہیں۔ یقیناً تو تو غالب و باحکمت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کے بہشتوں میں داخل کر جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اے ہمارے رب! اور انھیں ہمیشہ رہائش والی ان جنتوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کو بھی جو ان کے باپ دادوںاور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے لائق ہیں۔ بلاشبہ تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

9
وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ وَمَنْ تَقِ السَّيِّئَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (9)
وقهم السيئات ومن تق السيئات يومئذ فقد رحمته وذلك هو الفوز العظيم۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
انہیں برائیوں سے بھی محفوظ رکھ، حق تو یہ ہے کہ اس دن تونے جسے برائیوں سے بچا لیا اس پر تو نے رحمت کر دی اور بہت بڑی کامیابی تو یہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور ان کو عذابوں سے بچائے رکھ۔ اور جس کو تو اس روز عذابوں سے بچا لے گا تو بےشک اس پر مہربانی فرمائی اور یہی بڑی کامیابی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اور انھیں برائیوں سے بچا اور تو جسے اس دن برائیوں سے بچا لے تو یقینا تو نے اس پر مہربانی فرمائی اور یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

10
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللَّهِ أَكْبَرُ مِنْ مَقْتِكُمْ أَنْفُسَكُمْ إِذْ تُدْعَوْنَ إِلَى الْإِيمَانِ فَتَكْفُرُونَ (10)
إن الذين كفروا ينادون لمقت الله أكبر من مقتكم أنفسكم إذ تدعون إلى الإيمان فتكفرون۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
بےشک جن لوگوں نے کفر کیا انہیں یہ آواز دی جائے گی کہ یقیناً اللہ کا تم پر غصہ ہونااس سے بہت زیاده ہے جو تم غصہ ہوتے تھے اپنے جی سے، جب تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے پھر کفر کرنے لگتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
جن لوگوں نے کفر کیا ان سے پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ جب تم (دنیا میں) ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے اور مانتے نہیں تھے تو خدا اس سے کہیں زیادہ بیزار ہوتا تھا جس قدر تم اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا انھیں پکار کر کہا جائے گا کہ یقینا اللہ کا ناراض ہونا بہت زیادہ تھا تمھارے اپنے آپ پر ناراض ہونے سے، جب تمھیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
تفسیر آیت نمبر 10,11,12,13,14

11
قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلْ إِلَى خُرُوجٍ مِنْ سَبِيلٍ (11)
قالوا ربنا أمتنا اثنتين وأحييتنا اثنتين فاعترفنا بذنوبنا فهل إلى خروج من سبيل۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
وه کہیں گے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں دوبار مارا اور دو بار ہی جلایا، اب ہم اپنے گناہوں کے اقراری ہیں، تو کیا اب کوئی راه نکلنے کی بھی ہے؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو دفعہ بےجان کیا اور دو دفعہ جان بخشی۔ ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
وہ کہیں گے اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو دفعہ موت دی اور تو نے ہمیں دو دفعہ زندہ کیا، سو ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا، تو کیا نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

12
ذَلِكُمْ بِأَنَّهُ إِذَا دُعِيَ اللَّهُ وَحْدَهُ كَفَرْتُمْ وَإِنْ يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُكْمُ لِلَّهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ (12)
ذلكم بأنه إذا دعي الله وحده كفرتم وإن يشرك به تؤمنوا فالحكم لله العلي الكبير۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
یہ (عذاب) تمہیں اس لیے ہے کہ جب صرف اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا تو تم انکار کر جاتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے تھے پس اب فیصلہ اللہ بلند و بزرگ ہی کا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
یہ اس لئے کہ جب تنہا خدا کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کردیتے تھے۔ اور اگر اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جاتا تھا تو تسلیم کرلیتے تھے تو حکم تو خدا ہی کا ہے جو (سب سے) اوپر اور (سب سے) بڑا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
یہ اس لیے کہ حقیقت یہ ہے کہ جب اس اکیلے اللہ کو پکارا جاتا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرا یا جاتا تو تم مان لیتے تھے، اب فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے جو بہت بلند، بہت بڑا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

13
هُوَ الَّذِي يُرِيكُمْ آيَاتِهِ وَيُنَزِّلُ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ رِزْقًا وَمَا يَتَذَكَّرُ إِلَّا مَنْ يُنِيبُ (13)
هو الذي يريكم آياته وينزل لكم من السماء رزقا وما يتذكر إلا من ينيب۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھلاتا ہے اور تمہارے لیےآسمان سے روزی اتارتا ہے، نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو (اللہ کی طرف) رجوع کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تم پر آسمان سے رزق اُتارتا ہے۔ اور نصیحت تو وہی پکڑتا ہے جو (اس کی طرف) رجوع کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
وہی ہے جو تمھیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمھارے لیے آسمان سے رزق اتارتا ہے اور اس کے سوا کوئی نصیحت حاصل نہیں کرتا جو رجوع کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

14
فَادْعُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (14)
فادعوا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
تم اللہ کو پکارتے رہو اس کے لیے دین کو خالص کر کے گو کافر برا مانیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
تو خدا کی عبادت کو خالص کر کر اُسی کو پکارو اگرچہ کافر برا ہی مانیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
پس اللہ کو پکا رو، اس حال میں کہ دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہو، اگرچہ کافر برا مانیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

15
رَفِيعُ الدَّرَجَاتِ ذُو الْعَرْشِ يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ (15)
رفيع الدرجات ذو العرش يلقي الروح من أمره على من يشاء من عباده لينذر يوم التلاق۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
بلند درجوں واﻻ عرش کامالک وه اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی نازل فرماتا ہے، تاکہ وه ملاقات کے دن سے ڈرائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
مالک درجات عالی اور صاحب عرش ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ڈراوے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
وہ بہت بلند درجوں والا، عرش کا مالک ہے، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی اتارتا ہے، تاکہ ملاقات کے دن سے ڈرائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
تفسیر آیت نمبر 15,16,17

16
يَوْمَ هُمْ بَارِزُونَ لَا يَخْفَى عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (16)
يوم هم بارزون لا يخفى على الله منهم شيء لمن الملك اليوم لله الواحد القهار۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
جس دن سب لوگ ﻇاہر ہو جائیں گے، ان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیده نہ رہے گی۔ آج کس کی بادشاہی ہے؟ فقط اللہ واحد و قہار کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
جس روز وہ نکل پڑیں گے ان کی کوئی چیز خدا سے مخفی نہ رہے گی۔ آج کس کی بادشاہت ہے؟ خدا کی جو اکیلا اور غالب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
جس دن وہ صاف ظاہر ہوں گے، ان کی کوئی چیز اللہ پر چھپی نہ ہوگی۔ آج کس کی بادشاہی ہے؟ اللہ ہی کی جو ایک ہے، بہت دبدبے والا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

17
الْيَوْمَ تُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (17)
اليوم تجزى كل نفس بما كسبت لا ظلم اليوم إن الله سريع الحساب۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
آج ہر نفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا۔ آج (کسی قسم کا) ﻇلم نہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کرنے واﻻ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
آج کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ آج (کسی کے حق میں) بےانصافی نہیں ہوگی۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
آج ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا، آج کوئی ظلم نہیں۔ بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

18
وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْآزِفَةِ إِذِ الْقُلُوبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كَاظِمِينَ مَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ حَمِيمٍ وَلَا شَفِيعٍ يُطَاعُ (18)
وأنذرهم يوم الآزفة إذ القلوب لدى الحناجر كاظمين ما للظالمين من حميم ولا شفيع يطاع۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
اور انہیں بہت ہی قریب آنے والی (قیامت سے) آگاه کر دیجئے، جب کہ دل حلق تک پہنچ جائیں گے اور سب خاموش ہوں گے، ﻇالموں کا نہ کوئی دلی دوست ہوگا نہ سفارشی، کہ جس کی بات مانی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ جب کہ دل غم سے بھر کر گلوں تک آرہے ہوں گے۔ (اور) ظالموں کا کوئی دوست نہ ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات قبول کی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اور انھیں قریب آنے والی گھڑی کے دن سے ڈرا جب دل گلوں کے پاس غم سے بھرے ہوں گے، ظالموں کے لیے نہ کوئی دلی دوست ہو گا اور نہ کوئی سفارشی، جس کی بات مانی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
تفسیر آیت نمبر 18,19,20

19
يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ (19)
يعلم خائنة الأعين وما تخفي الصدور۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
وه آنکھوں کی خیانت کو اور سینوں کی پوشیده باتوں کو (خوب) جانتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو (باتیں) سینوں میں پوشیدہ ہیں (ان کو بھی)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

20
وَاللَّهُ يَقْضِي بِالْحَقِّ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَقْضُونَ بِشَيْءٍ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (20)
والله يقضي بالحق والذين يدعون من دونه لا يقضون بشيء إن الله هو السميع البصير۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
اور اللہ تعالیٰ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا اس کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وه کسی چیز کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے، بیشک اللہ تعالیٰ خوب سنتا خوب دیکھتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور خدا سچائی کے ساتھ حکم فرماتا ہے اور جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی حکم نہیں دے سکتے۔ بےشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور وہ لوگ جنھیں وہ اس کے سوا پکارتے ہیں کسی بھی چیز کا فیصلہ نہیں کرتے۔ بے شک اللہ ہی تو سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

21
أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ كَانُوا مِنْ قَبْلِهِمْ كَانُوا هُمْ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَآثَارًا فِي الْأَرْضِ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَاقٍ (21)
أولم يسيروا في الأرض فينظروا كيف كان عاقبة الذين كانوا من قبلهم كانوا هم أشد منهم قوة وآثارا في الأرض فأخذهم الله بذنوبهم وما كان لهم من الله من واق۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا نتیجہ کیسا کچھ ہوا؟ وه باعتبار قوت و طاقت کے اور باعتبار زمین میں اپنی یادگاروں کے ان سے بہت زیاده تھے، پس اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا اور کوئی نہ ہوا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا لیتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ وہ ان سے زور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے لحاظ سے کہیں بڑھ کر تھے تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ اور ان کو خدا (کے عذاب) سے کوئی بھی بچانے والا نہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، وہ تو قوت میں ان سے بہت زیادہ سخت تھے اور زمین میں یادگاروں کے اعتبار سے بھی، پھر اللہ نے انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا اور انھیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
تفسیر آیت نمبر 21,22

22
ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانَتْ تَأْتِيهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَكَفَرُوا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ إِنَّهُ قَوِيٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ (22)
ذلك بأنهم كانت تأتيهم رسلهم بالبينات فكفروا فأخذهم الله إنه قوي شديد العقاب۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر معجزے لے لے کرآتے تھے تو وه انکار کر دیتے تھے، پس اللہ انہیں پکڑ لیتا تھا۔ یقیناً وه طاقتور اور سخت عذاب واﻻ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی دلیلیں لاتے تھے تو یہ کفر کرتے تھے سو خدا نے ان کو پکڑ لیا۔ بےشک وہ صاحب قوت (اور) سخت عذاب دینے والا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
یہ اس لیے کہ وہ لوگ، ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں لے کر آتے رہے تو انھوں نے انکار کیا تو اللہ نے انھیں پکڑ لیا۔ بے شک وہ بہت قوت والا، بہت سخت سزا دینے والا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

23
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِينٍ (23)
ولقد أرسلنا موسى بآياتنا وسلطان مبين۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیلوں کے ساتھ بھیجا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
تفسیر آیت نمبر 23,24,25,26,27

24
إِلَى فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَقَارُونَ فَقَالُوا سَاحِرٌ كَذَّابٌ (24)
إلى فرعون وهامان وقارون فقالوا ساحر كذاب۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
فرعون ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا (یہ تو) جادوگر اور جھوٹا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
(یعنی) فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو انھوں نے کہا جادوگر ہے، بہت جھوٹا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

25
فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوا أَبْنَاءَ الَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ وَاسْتَحْيُوا نِسَاءَهُمْ وَمَا كَيْدُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ (25)
فلما جاءهم بالحق من عندنا قالوا اقتلوا أبناء الذين آمنوا معه واستحيوا نساءهم وما كيد الكافرين إلا في ضلال۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
پس جب ان کے پاس (موسیٰ علیہ السلام) ہماری طرف سے (دین) حق کولے کر آئے توانہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ جوایمان والے ہیں ان کے لڑکوں کو تو مار ڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زنده رکھو اور کافروں کی جو حیلہ سازی ہے وه غلطی میں ہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو۔ اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
پس جب وہ ہمارے ہاں سے حق لے کر ان کے پاس آیا تو انھوں نے کہا ان لوگوں کے بیٹوں کو، جو اس کے ہمراہ ایمان لائے ہیں، قتل کرو اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں کافروں کی چال مگر سراسر ناکام۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

26
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسَى وَلْيَدْعُ رَبَّهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ (26)
وقال فرعون ذروني أقتل موسى وليدع ربه إني أخاف أن يبدل دينكم أو أن يظهر في الأرض الفساد۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو مار ڈالوں اور اسے چاہئے کہ اپنے رب کو پکارے، مجھے تو ڈر ہے کہ یہ کہیں تمہارا دین نہ بدل ڈالے یا ملک میں کوئی (بہت بڑا) فساد برپا نہ کردے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسیٰ کو قتل کردوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلالے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو نہ بدل دے یا ملک میں فساد (نہ) پیدا کردے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں اور وہ اپنے رب کو پکار لے، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ تمھارا دین بدل دے گا، یا یہ کہ زمین میں فساد پھیلا دے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

27
وَقَالَ مُوسَى إِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ مِنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ (27)
وقال موسى إني عذت بربي وربكم من كل متكبر لا يؤمن بيوم الحساب۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں اپنے اور تمہارے رب کی پناه میں آتا ہوں ہر اس تکبر کرنے والے شخص (کی برائی) سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
موسیٰ نے کہا کہ میں ہر متکبر سے جو حساب کے دن (یعنی قیامت) پر ایمان نہیں لاتا۔ اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اور موسیٰ نے کہا بے شک میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی پناہ لی ہے ہر اس متکبر سے جو یوم حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

28
وَقَالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ وَإِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ (28)
وقال رجل مؤمن من آل فرعون يكتم إيمانه أتقتلون رجلا أن يقول ربي الله وقد جاءكم بالبينات من ربكم وإن يك كاذبا فعليه كذبه وإن يك صادقا يصبكم بعض الذي يعدكم إن الله لا يهدي من هو مسرف كذاب۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
اور ایک مومن شخص نے، جو فرعون کے خاندان میں سے تھا اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، کہا کہ کیا تم ایک شحض کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وه کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں لے کر آیا ہے، اگر وه جھوٹا ہو تو اس کا جھوٹ اسی پر ہے اور اگر وه سچا ہو، تو جس (عذاب) کا وه تم سے وعده کر رہا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ تو تم پر آ پڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتا جو حد سے گزر جانے والے اور جھوٹے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا۔ اور اگر سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اور فرعون کی آل میں سے ایک مومن آدمی نے کہا جو اپنا ایمان چھپاتا تھا، کیا تم ایک آدمی کو اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے ’’میرا رب اللہ ہے ‘‘حالانکہ یقینا وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیلیں لے کر آیا ہے اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر ہے اور اگر وہ سچا ہے تو تمھیں اس کا کچھ حصہ پہنچ جائے گا جس کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے۔ بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھنے والا، سخت جھوٹا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
تفسیر آیت نمبر 28,29

29
يَا قَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَاهِرِينَ فِي الْأَرْضِ فَمَنْ يَنْصُرُنَا مِنْ بَأْسِ اللَّهِ إِنْ جَاءَنَا قَالَ فِرْعَوْنُ مَا أُرِيكُمْ إِلَّا مَا أَرَى وَمَا أَهْدِيكُمْ إِلَّا سَبِيلَ الرَّشَادِ (29)
يا قوم لكم الملك اليوم ظاهرين في الأرض فمن ينصرنا من بأس الله إن جاءنا قال فرعون ما أريكم إلا ما أرى وما أهديكم إلا سبيل الرشاد۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
اے میری قوم کے لوگو! آج تو بادشاہت تمہاری ہے کہ اس زمین پر تم غالب ہو لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آ گیا تو کون ہماری مدد کرے گا؟ فرعون بوﻻ، میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود دیکھ رہا ہوں اور میں تو تمہیں بھلائی کی راه ہی بتلا رہا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اے قوم آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو۔ (لیکن) اگر ہم پر خدا کا عذاب آگیا تو (اس کے دور کرنے کے لئے) ہماری مدد کون کرے گا۔ فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی بات سُجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اے میری قوم ! آج تمھی کو بادشاہی حاصل ہے ، اس حال میں کہ (تم) اس سر زمین میں غالب ہو، پھر اللہ کے عذاب سے کون ہماری مدد کرے گا، اگر وہ ہم پر آگیا؟ فرعون نے کہا میں تو تمھیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود رائے رکھتا ہوں اور میں تمھیں بھلائی کا راستہ ہی بتا رہا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

30
وَقَالَ الَّذِي آمَنَ يَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِثْلَ يَوْمِ الْأَحْزَابِ (30)
وقال الذي آمن يا قوم إني أخاف عليكم مثل يوم الأحزاب۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
اس مومن نے کہا اے میری قوم! (کے لوگو) مجھے تو اندیشہ ہے کہ تم پر بھی ویسا ہی روز (بد عذاب) نہ آئے جو اور امتوں پر آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
تو جو مومن تھا وہ کہنے لگا کہ اے قوم مجھے تمہاری نسبت خوف ہے کہ (مبادا) تم پر اور اُمتوں کی طرح کے دن کا عذاب آجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اور اس شخص نے کہا جو ایمان لایا تھا، اے میری قوم! بے شک میں تم پر (گزشتہ) جماعتوں کے دن کی مانند سے ڈرتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
تفسیر آیت نمبر 30,31,32,33,34,35

31
مِثْلَ دَأْبِ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَالَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِلْعِبَادِ (31)
مثل دأب قوم نوح وعاد وثمود والذين من بعدهم وما الله يريد ظلما للعباد۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
جیسے امت نو ح اور عاد وﺛمود اور ان کے بعد والوں کا (حال ہوا)، اللہ اپنے بندوں پر کسی طرح کا ﻇلم کرنا نہیں چاہتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
یعنی) نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے پیچھے ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح (تمہارا حال نہ ہوجائے) اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ان لوگوں کے حال کی مانند سے جو ان کے بعد تھے اور اللہ اپنے بندوں پر کسی طرح کے ظلم کا ارادہ نہیں کرتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

32
وَيَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ (32)
ويا قوم إني أخاف عليكم يوم التناد۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
اور مجھے تم پر ہانک پکار کے دن کابھی ڈر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور اے قوم مجھے تمہاری نسبت پکار کے دن (یعنی قیامت) کا خوف ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اور اے میری قوم! یقینا میں تم پر ایک دوسرے کو پکارنے کے دن سے ڈرتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

33
يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِينَ مَا لَكُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ (33)
يوم تولون مدبرين ما لكم من الله من عاصم ومن يضلل الله فما له من هاد۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
جس دن تم پیٹھ پھیر کر لوٹو گے، تمہیں اللہ سے بچانے واﻻ کوئی نہ ہوگا اور جسے اللہ گمراه کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
جس دن تم پیٹھ پھیر کر (قیامت کے دن سے) بھاگو گے (اس دن) تم کو کوئی (عذاب) خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
جس دن تم پیٹھ پھیرتے ہوئے بھاگو گے، تمھارے لیے اللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہو گا اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

34
وَلَقَدْ جَاءَكُمْ يُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا زِلْتُمْ فِي شَكٍّ مِمَّا جَاءَكُمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ رَسُولًا كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُرْتَابٌ (34)
ولقد جاءكم يوسف من قبل بالبينات فما زلتم في شك مما جاءكم به حتى إذا هلك قلتم لن يبعث الله من بعده رسولا كذلك يضل الله من هو مسرف مرتاب۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
اور اس سے پہلے تمہارے پاس (حضرت) یوسف دلیلیں لے کر آئے، پھر بھی تم ان کی ﻻئی ہوئی (دلیل) میں شک و شبہ ہی کرتے رہے یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہو گئی تو کہنے لگے ان کے بعد تو اللہ کسی رسول کو بھیجے گا ہی نہیں اسی طرح اللہ گمراه کرتا ہے ہر اس شخص کو جو حد سے بڑھ جانے واﻻ شک و شبہ کرنے واﻻ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور پہلے یوسف بھی تمہارے پاس نشانیاں لے کر آئے تھے تو جو وہ لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک ہی میں رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تو تم کہنے لگے کہ خدا اس کے بعد کبھی کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح خدا اس شخص کو گمراہ کر دیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اور بلاشبہ یقینا اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلیلیں لے کر آیا تو تم اس کے بارے میں شک ہی میں رہے، جو وہ تمھارے پاس لے کر آیا، یہاں تک کہ جب وہ فوت ہو گیا تو تم نے کہا اس کے بعد اللہ کبھی کوئی رسول نہ بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ ہر اس شخص کو گمراہ کرتا ہے جو حد سے بڑھنے والا، شک کرنے والا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

35
الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ الَّذِينَ آمَنُوا كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ (35)
الذين يجادلون في آيات الله بغير سلطان أتاهم كبر مقتا عند الله وعند الذين آمنوا كذلك يطبع الله على كل قلب متكبر جبار۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
جو بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، اللہ کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ تو بہت بڑی ناراضگی کی چیز ہے، اللہ تعالیٰ اسی طرح ہر ایک مغرور سرکش کے دل پر مہر کردیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
جو لوگ بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی دلیل آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں۔ خدا کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ جھگڑا سخت ناپسند ہے۔ اسی طرح خدا ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
وہ لوگ جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں، بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو، بڑی ناراضی کی بات ہے اللہ کے نزدیک اور ان کے نزدیک جو ایمان لائے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر، سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

36
وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ (36)
وقال فرعون يا هامان ابن لي صرحا لعلي أبلغ الأسباب۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
فرعون نے کہا اے ہامان! میرے لیے ایک باﻻخانہ بنا شاید کہ میں آسمان کے جو دروازے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور فرعون نے کہا کہ ہامان میرے لئے ایک محل بناؤ تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) رستوں پر پہنچ جاؤں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اور فرعون نے کہا اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت بنا، تاکہ میں راستوں پر پہنچ جاؤں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
تفسیر آیت نمبر 36,37

37
أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَى إِلَهِ مُوسَى وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا وَكَذَلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيلِ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِي تَبَابٍ (37)
أسباب السماوات فأطلع إلى إله موسى وإني لأظنه كاذبا وكذلك زين لفرعون سوء عمله وصد عن السبيل وما كيد فرعون إلا في تباب۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
(ان) دروازوں تک پہنچ جاؤں اور موسیٰ کے معبود کو جھانک لوں اور بیشک میں سمجھتا ہوں وه جھوٹا ہے اور اسی طرح فرعون کی بدکرداریاں اسے بھلی دکھائی گئیں اور راه سے روک دیا گیا اور فرعون کی (ہر) حیلہ سازی تباہی میں ہی رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
(یعنی) آسمانوں کے رستوں پر، پھر موسیٰ کے خدا کو دیکھ لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔ اور اسی طرح فرعون کو اس کے اعمال بد اچھے معلوم ہوتے تھے اور وہ رستے سے روک دیا گیا تھا۔ اور فرعون کی تدبیر تو بےکار تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
آسمانوں کے راستوں پر، پس موسیٰ کے معبود کی طرف جھانکوں اور بے شک میں اسے یقینا جھوٹا گمان کرتا ہوں۔ اور اس طرح فرعون کے لیے اس کا برا عمل خوش نما بنا دیا گیا اور وہ سیدھی راہ سے روک دیا گیا اور فرعون کی تدبیر تباہی ہی میں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

38
وَقَالَ الَّذِي آمَنَ يَا قَوْمِ اتَّبِعُونِ أَهْدِكُمْ سَبِيلَ الرَّشَادِ (38)
وقال الذي آمن يا قوم اتبعون أهدكم سبيل الرشاد۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
اور اس مومن شخص نے کہا کہ اے میری قوم! (کے لوگو) تم (سب) میری پیروی کرو میں نیک راه کی طرف تمہاری رہبری کروں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور وہ شخص جو مومن تھا اس نے کہا کہ بھائیو میرے پیچھے چلو میں تمہیں بھلائی کا رستہ دکھاؤ ں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اور اس شخص نے کہا جو ایمان لایا تھا، اے میری قوم! میرے پیچھے چلو، میں تمھیں بھلائی کا راستہ بتاؤں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
تفسیر آیت نمبر 38,39,40

39
يَا قَوْمِ إِنَّمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَإِنَّ الْآخِرَةَ هِيَ دَارُ الْقَرَارِ (39)
يا قوم إنما هذه الحياة الدنيا متاع وإن الآخرة هي دار القرار۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
اے میری قوم! یہ حیات دنیا متاع فانی ہے، (یقین مانو کہ قرار) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
بھائیو یہ دنیا کی زندگی (چند روزہ) فائدہ اٹھانے کی چیز ہے۔ اور جو آخرت ہے وہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو معمولی فائدے کے سوا کچھ نہیں اور یقینا آخرت، وہی رہنے کا گھر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

40
مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزَى إِلَّا مِثْلَهَا وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ (40)
من عمل سيئة فلا يجزى إلا مثلها ومن عمل صالحا من ذكر أو أنثى وهو مؤمن فأولئك يدخلون الجنة يرزقون فيها بغير حساب۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
جس نے گناه کیا ہے اسے تو برابر برابر کا بدلہ ہی ہے اور جس نے نیکی کی ہے خواه وه مرد ہو یا عورت اور وه ایمان واﻻ ہو تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور وہاں بےشمار روزی پائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
جو برے کام کرے گا اس کو بدلہ بھی ویسا ہی ملے گا۔ اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے وہاں ان کو بےشمار رزق ملے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
جس نے کوئی برائی کی تو اسے ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا اور جس نے کوئی نیک عمل کیا، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہوا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اس میں بے حساب رزق دیے جائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

41
وَيَا قَوْمِ مَا لِي أَدْعُوكُمْ إِلَى النَّجَاةِ وَتَدْعُونَنِي إِلَى النَّارِ (41)
ويا قوم ما لي أدعوكم إلى النجاة وتدعونني إلى النار۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
اے میری قوم! یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلا رہا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلا رہے ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور اے قوم میرا کیا (حال) ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے (دوزخ کی) آگ کی طرف بلاتے ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اور اے میری قوم !مجھے کیا ہے کہ میں تمھیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف بلاتے ہو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
تفسیر آیت نمبر 41,42,43,44,45,46

42
تَدْعُونَنِي لِأَكْفُرَ بِاللَّهِ وَأُشْرِكَ بِهِ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَأَنَا أَدْعُوكُمْ إِلَى الْعَزِيزِ الْغَفَّارِ (42)
تدعونني لأكفر بالله وأشرك به ما ليس لي به علم وأنا أدعوكم إلى العزيز الغفار۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
تم مجھے یہ دعوت دے رہے ہوکہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ شرک کروں جس کا کوئی علم مجھے نہیں اور میں تمہیں غالب بخشنے والے (معبود) کی طرف دعوت دے رہا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
تم مجھے اس لئے بلاتے ہو کہ خدا کے ساتھ کفر کروں اور اس چیز کو اس کا شریک مقرر کروں جس کا مجھے کچھ بھی علم نہیں۔ اور میں تم کو (خدائے) غالب (اور) بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
تم مجھے بلاتے ہو کہ میں اللہ کا انکار کروں اور اس کے ساتھ اسے شریک ٹھہراؤں جس کا مجھے کچھ علم نہیں اور میں تمھیں سب پرغالب، بے حد بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

43
لَا جَرَمَ أَنَّمَا تَدْعُونَنِي إِلَيْهِ لَيْسَ لَهُ دَعْوَةٌ فِي الدُّنْيَا وَلَا فِي الْآخِرَةِ وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحَابُ النَّارِ (43)
لا جرم أنما تدعونني إليه ليس له دعوة في الدنيا ولا في الآخرة وأن مردنا إلى الله وأن المسرفين هم أصحاب النار۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
یہ یقینی امر ہے کہ تم مجھے جس کی طرف بلا رہے ہو وه تو نہ دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے نہ آخرت میں، اور یہ (بھی یقینی بات ہے) کہ ہم سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے اور حد سے گزر جانے والے ہی (یقیناً) اہل دوزخ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
سچ تو یہ ہے کہ جس چیز کی طرف تم مجھے بلاتے ہو اس کو دنیا اور آخرت میں بلانے (یعنی دعا قبول کرنے) کا مقدور نہیں اور ہم کو خدا کی طرف لوٹنا ہے اور حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
کوئی شک نہیں کہ تم مجھے جس کی طرف بلاتے ہو اس کے لیے کسی طرح پکارنا نہ دنیا میں (درست) ہے اور نہ آخرت میں اور یہ کہ یقینا ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف ہے اور یہ کہ یقینا حدسے بڑھنے والے، وہی آگ میں رہنے والے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

44
فَسَتَذْكُرُونَ مَا أَقُولُ لَكُمْ وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ (44)
فستذكرون ما أقول لكم وأفوض أمري إلى الله إن الله بصير بالعباد۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
پس آگے چل کر تم میری باتوں کو یاد کرو گے میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، یقیناً اللہ تعالیٰ بندوں کا نگراں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
جو بات میں تم سے کہتا ہوں تم اسے آگے چل کر یاد کرو گے۔ اور میں اپنا کام خدا کے سپرد کرتا ہوں۔ بےشک خدا بندوں کو دیکھنے والا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
پس عنقریب تم یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، بے شک اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

45
فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ (45)
فوقاه الله سيئات ما مكروا وحاق بآل فرعون سوء العذاب۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
پس اسے اللہ تعالیٰ نے تمام بدیوں سے محفوظ رکھ لیا جو انہوں نے سوچ رکھی تھیں اور فرعون والوں پر بری طرح کا عذاب الٹ پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
غرض خدا نے موسیٰ کو ان لوگوں کی تدبیروں کی برائیوں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آگھیرا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
تو اللہ نے اسے ان کے برے نتائج سے بچالیا جو انھوں نے تدبیریں کیں اور آل فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

46
النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ (46)
النار يعرضون عليها غدوا وعشيا ويوم تقوم الساعة أدخلوا آل فرعون أشد العذاب۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
آگ ہے جس کے سامنے یہ ہر صبح شام ﻻئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی (فرمان ہوگا کہ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
یعنی) آتش (جہنم) کہ صبح وشام اس کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔ اور جس روز قیامت برپا ہوگی (حکم ہوگا کہ) فرعون والوں کو نہایت سخت عذاب میں داخل کرو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
جو آگ ہے، وہ اس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہو گی، آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

47
وَإِذْ يَتَحَاجُّونَ فِي النَّارِ فَيَقُولُ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنْتُمْ مُغْنُونَ عَنَّا نَصِيبًا مِنَ النَّارِ (47)
وإذ يتحاجون في النار فيقول الضعفاء للذين استكبروا إنا كنا لكم تبعا فهل أنتم مغنون عنا نصيبا من النار۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
اور جب کہ دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ تکبر والوں سے (جن کے یہ تابع تھے) کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے تو کیا اب تم ہم سے اس آگ کا کوئی حصہ ہٹا سکتے ہو؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور جب وہ دوزخ میں جھگڑیں گے تو ادنیٰ درجے کے لوگ بڑے آدمیوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے تو کیا تم دوزخ (کے عذاب) کا کچھ حصہ ہم سے دور کرسکتے ہو؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اور جب وہ آگ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ ان سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ بے شک ہم تمھارے ہی پیچھے چلنے والے تھے، توکیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ ہٹانے والے ہو؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
تفسیر آیت نمبر 47,48,49,50

48
قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُلٌّ فِيهَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبَادِ (48)
قال الذين استكبروا إنا كل فيها إن الله قد حكم بين العباد۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
وه بڑے لوگ جواب دیں گے ہم تو سبھی اس آگ میں ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کر چکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
بڑے آدمی کہیں گے کہ تم (بھی اور) ہم (بھی) سب دوزخ میں (رہیں گے) خدا بندوں میں فیصلہ کرچکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
وہ لوگ کہیں گے جو بڑے بنے تھے بے شک ہم سب اس میں ہیں، بے شک اللہ نے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

49
وَقَالَ الَّذِينَ فِي النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوا رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِنَ الْعَذَابِ (49)
وقال الذين في النار لخزنة جهنم ادعوا ربكم يخفف عنا يوما من العذاب۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
اور (تمام) جہنمی مل کر جہنم کے داروغوں سے کہیں گے کہ تم ہی اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وه کسی دن تو ہمارے عذاب میں کمی کردے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور جو لوگ آگ میں (جل رہے) ہوں گے وہ دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ ایک روز تو ہم سے عذاب ہلکا کردے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اور وہ لوگ جو آگ میں ہوں گے جہنم کے نگرانوں سے کہیں گے اپنے رب سے دعا کرو، وہ ہم سے ایک دن کچھ عذاب ہلکا کر دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

50
قَالُوا أَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا بَلَى قَالُوا فَادْعُوا وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ (50)
قالوا أولم تك تأتيكم رسلكم بالبينات قالوا بلى قالوا فادعوا وما دعاء الكافرين إلا في ضلال۔
[اردو ترجمہ محمد جونا گڑھی]
وه جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے رسول معجزے لے کر نہیں آئے تھے؟ وه کہیں گے کیوں نہیں، وه کہیں گے کہ پھر تم ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا محض بے اﺛر اور بےراه ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ فتح محمد جالندھری]
وہ کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے۔ وہ کہیں گے کیوں نہیں تو وہ کہیں گے کہ تم ہی دعا کرو۔ اور کافروں کی دعا (اس روز) بےکار ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
وہ کہیں گے اور کیا تمھارے پاس تمھارے رسول واضح دلیلیں لے کر نہیں آیا کرتے تھے ؟کہیں گے کیوں نہیں ،وہ کہیں گے پھر دعا کرو اور کافروں کی دعا تو بالکل ہی بے کار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر ابن کثیر
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

1    2    Next