تفسير ابن كثير



تفسیر القرآن الکریم

(آیت 68) وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ: انسان کی جوانی جوں جوں ڈھلتی ہے، بڑھاپا، کمزوری اور ناتوانی آتی جاتی ہے، حتیٰ کہ وہ دوبارہ بچوں کی طرح کمزور اور ہر کام میں دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے۔ بڑے عالی دماغ کے باوجود سب کچھ بھول جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ وَ هُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ» ‏‏‏‏ [ الروم: ۵۴ ] اللہ وہ ہے جس نے تمھیں کمزوری سے پیدا کیا، پھر کمزوری کے بعد قوت بنائی، پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا بنا دیا، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا ہے، ہر چیز پر قادر ہے۔ اور فرمایا: «ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْـًٔا» ‏‏‏‏ [ الحج: ۵ ] پھر ہم تمھیں ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں، پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو قبض کر لیا جاتا ہے اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے نکمّی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے، تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔

اَفَلَا يَعْقِلُوْنَ: مفسرین نے پچھلی آیات کی مناسبت سے اس کی تفسیر دو طرح سے کی ہے، ایک یہ کہ زندگی کے ان انقلابات کو دیکھ کر بھی یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ یہ انقلابات لانے والی ہستی کے لیے انسان کو دوبارہ زندہ کرنا اور قیامت برپا کرنا کچھ مشکل نہیں، بلکہ آخرت اور جزائے اعمال حق ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: یعنی جیسے لڑکا سست تھا، بوڑھا بھی ویسا ہی ہوا، یہ بھی نشان ہے پھر پیدا ہونے کا۔ (موضح) دوسری تفسیر یہ کہ پھر بھی کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ جو پروردگار عمر دے کر بناوٹ میں الٹا کر دیتا ہے، وہ اس پر بھی قادر ہے کہ آنکھیں دینے کے بعد انھیں مٹا دے اور اچھی صورتیں عطا کرنے کے بعد انھیں مسخ کر دے۔