تفسير ابن كثير



تفسیر القرآن الکریم

(آیت 3) وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ: رَبَّكَ کو پہلے لانے سے یہ معنی پیدا ہو گیا کہ صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ فَكَبِّرْ میں فاء پہلے قُمْ کے جواب ہی میں ہے، یعنی قُمْ فَكَبِّرْ رَبَّكَ۔ اسی طرح وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ اور وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ میں بھی فاء اسی قُمْ کے جواب میں ہے۔ وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ کے الفاظ میں صرف اپنے رب کو بڑا جان اور صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کر دونوں معنی موجود ہیں، یعنی دعوت دیتے وقت کوئی کتنا بڑا سردار یا مال دار یا بادشاہ یا بدمعاش ہو اس کی بڑائی تمھاری دعوت کے لیے رکاوٹ نہ بنے، بلکہ صرف اپنے رب کو بڑا جانو۔ جب تمھارے دل و دماغ میں اور تمھاری آنکھوں کے سامنے صرف وہی بڑا ہو گا تو ساری مخلوق تمھاری نظروں میں ہیچ ہو گی اور تمھیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے احکام پہنچانے میں کسی کی بڑائی مانع نہیں ہوگی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کا وصف بیان فرمایا: «‏‏‏‏الَّذِيْنَ يُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ يَخْشَوْنَهٗ وَ لَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ» ‏‏‏‏ [ الأحزاب: ۳۹ ] وہ لوگ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور صرف اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے۔

دوسرے معنی ہیں صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کر یعنی جاہل اور مشرک لوگ جن جن کی بڑائی مان رہے ہیں ان سب کی نفی کر دو اور صاف اعلان کر دو کہ اس کائنات میں بڑائی صرف اللہ کی شان ہے، اس کے علاوہ بڑا بننا کسی کا حق ہی نہیں ہے، اس لیے عبادت کے لائق بھی صرف اسی کی ہستی ہے۔