تفسير ابن كثير



تفسیر القرآن الکریم

(آیت 55،54) كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌ …: یعنی ان مشرکین نے جو قرآن کو جادو یا انسانی کلام قرار دیا ہے یہ بات ہر گز درست نہیں، بلکہ یہ قرآن تو اللہ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ایک یاد دہانی ہے، اب جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔