علوم حدیث
منسوب الیہ کے اعتبارسے حدیث کی قسمیں
حدیث یا خبر کسی ذات یا شخص سے منسوب ہوتی ہے یعنی ہرحدیث اورخبرکاایک مصدرہوتا ہے اس کو منسوب الیہ کہتے ہیں، اس اعتبارسے حدیث کی مندرجہ ذیل قسمیں ہیں:
◈ حدیث قدسی ◈ حدیث مرفوع ◈ موقوف ◈ مقطوع
اور یہ اقسام صحیح ضعیف دونوں میں مشترک ہیں۔
حدیث قدسی: وہ حدیث ہے جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف کریں، جیسے آپ کا یہ فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔
مرفوع: وہ حدیث جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہو، قولی ہویافعلی یاتقریری، احادیث کا بیشترحصہ حدیث مرفوع ہی پر مشتمل ہے، جیسے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدارنیتوں پرہے“۔
موقوف: وہ خبرجوکسی صحابی کی طرف منسوب ہو، قولی ہویا فعلی یا تقریری جیسے: ”عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورتوںکی مہروںمیں غلونہ کرو“ (اس کو اثربھی کہتے ہیں)۔
مقطوع: وہ خبرجس کی نسبت تابعی یا تبع تابعی کی طرف ہو، جیسے حسن بصری کا فرمان ہے”بدعتی کے پیچھے نمازپڑھ سکتے ہواس کی بدعت کاوبال اسی کے اوپرہوگا“۔
◈ حدیث قدسی ◈ حدیث مرفوع ◈ موقوف ◈ مقطوع
اور یہ اقسام صحیح ضعیف دونوں میں مشترک ہیں۔
حدیث قدسی: وہ حدیث ہے جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف کریں، جیسے آپ کا یہ فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔
مرفوع: وہ حدیث جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہو، قولی ہویافعلی یاتقریری، احادیث کا بیشترحصہ حدیث مرفوع ہی پر مشتمل ہے، جیسے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدارنیتوں پرہے“۔
موقوف: وہ خبرجوکسی صحابی کی طرف منسوب ہو، قولی ہویا فعلی یا تقریری جیسے: ”عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورتوںکی مہروںمیں غلونہ کرو“ (اس کو اثربھی کہتے ہیں)۔
مقطوع: وہ خبرجس کی نسبت تابعی یا تبع تابعی کی طرف ہو، جیسے حسن بصری کا فرمان ہے”بدعتی کے پیچھے نمازپڑھ سکتے ہواس کی بدعت کاوبال اسی کے اوپرہوگا“۔