علوم حدیث
اسناد دین میں سے ہیں
تحریر: حافظ زبیر علی زئی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہو یا صحابی کا اثر، سلف صالحین کی روایات ہوں یا کسی شخص کا منقول قول و فعل ہو، اہلِ سنت کے نزدیک ہر روایت و منقول کے لئے متصل اور مقبول (صحیح و حسن) سند کا ہونا ضروری ہے، جیسا کہ مشہور ثقہ امام عبداللہ بن المبارک المروزی رحمہ اللہ (متوفی 181 ھ) نے فرمایا:
«الإسناد من الدين ولو لا الإسناد لقال من شاء ما شاء»
سندیں (بیان کرنا) دین میں سے ہے اور اگر سندیں نہ ہوتیں تو ہر آدمی جو چاہتاکہہ دیتا۔
[مقدمه صحيح مسلم ج1ص 12، ترقيم دارالسلام: 32 وسنده صحيح]
امام یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ (متوفی 198ھ) نے فرمایا:
«لا تنظروا إلى الحديث ولكن انظروا إلى الإسناد فإن صح الإسناد و إلا فلا تغترّ بالحديث إذا لم يصح الإسناد .»
حدیث نہ دیکھو بلکہ سند دیکھو، پھر اگر سند صحیح ہو تو (ٹھیک ہے اور) اگر سند صحیح نہ ہو تو دھوکے میں نہ آنا۔
[الجامع لاخلاق الراوي و آداب السامع 2/ 102 ح 1301، وسنده صحيح]
ضعیف و مردود اور بے سند روایات کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے، جیسا کہ حافظ ابن حبان نے فرمایا:
«لأن ما روي الضعيف و مالم يرو: فى الحكم سيان»
کیونکہ جو روایت ضعیف بیان کرے اور جس کی روایت ہی نہ ہو: دونوں حکم میں برابر ہیں۔
[المجروحين لابن حبان ج1ص 328، دوسرانسخه ج1ص 412 ترجمة سعيد بن زياد]
اہلِ سنت کے نزدیک قرآن مجید کے بعد صحیح بخاری اور صحیح مسلم کا مقام ہے اور صحیحین کی تمام مسند متصل مرفوع احادیث صحیح ہیں، کیونکہ انہیں اُمت کی طرف سے تلقی بالقبول حاصل ہے۔ دیکھئے: [اختصار علوم الحديث لابن كثير 1/ 124۔ 128، نوع اول اور مقدمه ابن الصلاح مع التقييد والايضاح ص 41۔ 42، دوسرانسخه ص 97، نوع اول]
صحیحین کے علاوہ ہر کتاب کی روایت اور حوالہ صرف وہی مقبول ہے جس میں تین شرطیں ہوں:
➊ صاحبِ کتاب ثقہ و صدوق عند جمہور المحدثین ہو۔
➋ کتابِ مذکور اپنے مصنف (صاحبِ کتاب) سے ثابت ہو۔
➌ صاحبِ کتاب سے آخری راوی یا قائل و فاعل تک سند متصل و مقبول (صحیح یا حسن) ہو۔
ان میں سے اگر ایک شرط بھی مفقود ہو تو حوالہ بے کار ہے اور روایتِ مذکورہ مردود ہے۔
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
مقالات جلد 4 صفحہ 319
اور ماہنامہ الحدیث شمارہ 78 صفحہ 40
حافظ ابونصر عبید اللہ بن سعید بن حاتم الوائلی السجزی [حنفی] رحمہ اللہ (متوفی 444ھ) نے فرمایا:
«فكل مدعٍ للسنة يجب أن يطالب بالنقل الصحيح بما يقوله فإن أتي بذلك علم صدقه و قبل قوله . . .»
پس ہر شخص جو سنت (ماننے) کا مدعی ہے، یہ ضروری ہے کہ وہ جو کہتا ہے اُس کے بارے میں اُس سے صحیح سند کا مطالبہ کیا جائے پھر وہ اگر یہ (صحیح سند) پیش کر دے تو اس کی سچائی معلوم ہو جاتی ہے اور اس کی بات قبول کی جاتی ہے۔۔۔
[رسالة السجزي اليٰ اهل زبيد فى الرد عليٰ من انكر الحرف والصوت ص 146]
اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
➊ ہر روایت اور ہر حوالے کے لئے صحیح و مقبول سند پیش کرنی چاہئے۔
➋ بے سند روایت اور بے سند حوالہ مردود ہوتا ہے۔
امام شافعی نے فرمایا:
جو شخص حجت (دلیل اور سند) کے بغیر علم طلب کرتا ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے رات میں لکڑیاں اکٹھی کرنے والا، جو لکڑیاں اٹھا کر لے جا رہا ہے جن میں زہریلا سانپ ہے، جو اسے ڈس لے گا اور اسے پتا بھی نہیں ہو گا۔
[المدخل اليٰ كتاب الاكليل للحاكم ص 28 وسنده صحيح]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ (جلد 3 صفحہ 215)
اور ماہنامہ الحدیث (شمارہ 69 صفحہ 2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہو یا صحابی کا اثر، سلف صالحین کی روایات ہوں یا کسی شخص کا منقول قول و فعل ہو، اہلِ سنت کے نزدیک ہر روایت و منقول کے لئے متصل اور مقبول (صحیح و حسن) سند کا ہونا ضروری ہے، جیسا کہ مشہور ثقہ امام عبداللہ بن المبارک المروزی رحمہ اللہ (متوفی 181 ھ) نے فرمایا:
«الإسناد من الدين ولو لا الإسناد لقال من شاء ما شاء»
سندیں (بیان کرنا) دین میں سے ہے اور اگر سندیں نہ ہوتیں تو ہر آدمی جو چاہتاکہہ دیتا۔
[مقدمه صحيح مسلم ج1ص 12، ترقيم دارالسلام: 32 وسنده صحيح]
امام یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ (متوفی 198ھ) نے فرمایا:
«لا تنظروا إلى الحديث ولكن انظروا إلى الإسناد فإن صح الإسناد و إلا فلا تغترّ بالحديث إذا لم يصح الإسناد .»
حدیث نہ دیکھو بلکہ سند دیکھو، پھر اگر سند صحیح ہو تو (ٹھیک ہے اور) اگر سند صحیح نہ ہو تو دھوکے میں نہ آنا۔
[الجامع لاخلاق الراوي و آداب السامع 2/ 102 ح 1301، وسنده صحيح]
ضعیف و مردود اور بے سند روایات کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے، جیسا کہ حافظ ابن حبان نے فرمایا:
«لأن ما روي الضعيف و مالم يرو: فى الحكم سيان»
کیونکہ جو روایت ضعیف بیان کرے اور جس کی روایت ہی نہ ہو: دونوں حکم میں برابر ہیں۔
[المجروحين لابن حبان ج1ص 328، دوسرانسخه ج1ص 412 ترجمة سعيد بن زياد]
اہلِ سنت کے نزدیک قرآن مجید کے بعد صحیح بخاری اور صحیح مسلم کا مقام ہے اور صحیحین کی تمام مسند متصل مرفوع احادیث صحیح ہیں، کیونکہ انہیں اُمت کی طرف سے تلقی بالقبول حاصل ہے۔ دیکھئے: [اختصار علوم الحديث لابن كثير 1/ 124۔ 128، نوع اول اور مقدمه ابن الصلاح مع التقييد والايضاح ص 41۔ 42، دوسرانسخه ص 97، نوع اول]
صحیحین کے علاوہ ہر کتاب کی روایت اور حوالہ صرف وہی مقبول ہے جس میں تین شرطیں ہوں:
➊ صاحبِ کتاب ثقہ و صدوق عند جمہور المحدثین ہو۔
➋ کتابِ مذکور اپنے مصنف (صاحبِ کتاب) سے ثابت ہو۔
➌ صاحبِ کتاب سے آخری راوی یا قائل و فاعل تک سند متصل و مقبول (صحیح یا حسن) ہو۔
ان میں سے اگر ایک شرط بھی مفقود ہو تو حوالہ بے کار ہے اور روایتِ مذکورہ مردود ہے۔
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
مقالات جلد 4 صفحہ 319
اور ماہنامہ الحدیث شمارہ 78 صفحہ 40
حافظ ابونصر عبید اللہ بن سعید بن حاتم الوائلی السجزی [حنفی] رحمہ اللہ (متوفی 444ھ) نے فرمایا:
«فكل مدعٍ للسنة يجب أن يطالب بالنقل الصحيح بما يقوله فإن أتي بذلك علم صدقه و قبل قوله . . .»
پس ہر شخص جو سنت (ماننے) کا مدعی ہے، یہ ضروری ہے کہ وہ جو کہتا ہے اُس کے بارے میں اُس سے صحیح سند کا مطالبہ کیا جائے پھر وہ اگر یہ (صحیح سند) پیش کر دے تو اس کی سچائی معلوم ہو جاتی ہے اور اس کی بات قبول کی جاتی ہے۔۔۔
[رسالة السجزي اليٰ اهل زبيد فى الرد عليٰ من انكر الحرف والصوت ص 146]
اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
➊ ہر روایت اور ہر حوالے کے لئے صحیح و مقبول سند پیش کرنی چاہئے۔
➋ بے سند روایت اور بے سند حوالہ مردود ہوتا ہے۔
امام شافعی نے فرمایا:
جو شخص حجت (دلیل اور سند) کے بغیر علم طلب کرتا ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے رات میں لکڑیاں اکٹھی کرنے والا، جو لکڑیاں اٹھا کر لے جا رہا ہے جن میں زہریلا سانپ ہے، جو اسے ڈس لے گا اور اسے پتا بھی نہیں ہو گا۔
[المدخل اليٰ كتاب الاكليل للحاكم ص 28 وسنده صحيح]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ (جلد 3 صفحہ 215)
اور ماہنامہ الحدیث (شمارہ 69 صفحہ 2)