🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3202. جماع أبواب النفقة على الأقارب -- باب: النفقة على الأولاد
قریبی رشتہ داروں پر نفقہ کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: اولاد پر خرچ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q15733
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: 233] وَقَالَ: {فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ} [الطلاق: 6] .
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ ”اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں، (یہ) اس کے لیے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے، اور جس کا بچہ ہے (یعنی باپ) اس پر دستور کے مطابق ان (ماؤں) کا کھانا اور ان کا لباس لازم ہے۔“ [سورة البقرة: 233]
اور فرمایا: ﴿فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ﴾ ”پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دو۔“ [سورة الطلاق: 6] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: Q15733]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15733
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، نا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ هِنْدًا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا؟ قَالَ:" خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابوسفیان رضی اللہ عنہ کنجوس آدمی ہے، کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے اگر میں اس کے مال میں سے کچھ لے لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ» ”تو لے لے جو تجھے اور تیرے بچے کو کافی ہو جائے معروف انداز میں۔“ اس کو بخاری نے سفیان ثوری کی حدیث سے صحیح میں نکالا ہے اور اس کو مسلم نے دوسری سندوں سے ہشام بن عروہ سے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15733]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15734
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ الْبَصْرِيُّ، نا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَثَّ عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ ⦗٧٨٤⦘ عِنْدِي دِينَارٌ قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ" قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ" قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى زَوْجَتِكَ" قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ:" أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ" قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ:" أَنْتَ أَبْصَرُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ پر ابھارا۔ ایک آدمی آیا، اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے آپ پر خرچ کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بچے پر خرچ کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی بیوی پر خرچ کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے خادم پر خرچ کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو زیادہ دیکھنے والا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15734]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15735
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو الْيَمَانِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِهَمَذَانَ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْأَلُنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَأَخَذَتْهَا فَشَقَّتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَيْهَا فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمیں عبداللہ بن ابوبکر نے خبر دی کہ انہیں عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں، اس نے مجھ سے سوال کیا، اس نے میرے پاس ایک کھجور کے علاوہ کوئی چیز نہ پائی، وہ میں نے اسے دے دی، اس نے وہ کھجور پکڑی اور اس کو پھاڑ کر اپنی دونوں بیٹیوں کو دے دیا اور اس میں سے اس نے کچھ بھی نہ کھایا، پھر وہ کھڑی ہوئی اور وہ اور اس کی بیٹیاں چلی گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ واقعہ بیان کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی کسی چیز کے ساتھ بیٹیوں سے آزمایا گیا، پھر اس نے ان کے ساتھ نیکی کی، تو وہ اس کے لیے آگ سے آڑ ہوں گی۔“ اس کو بخاری نے ابوالیمان سے صحیح میں روایت کیا ہے اور اس کو مسلم نے عبداللہ بن عبدالرحمن اور ابوبکر بن اسحاق سے، انہوں نے ابوالیمان سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15735]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15736
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا أَبُو كُرَيْبٍ، نا أَبُو أُسَامَةَ، نا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِي أَجْرٌ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ؟ قَالَ:" نَعَمْ لَكِ فِيهِمْ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میرے لیے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بیٹوں میں اجر ہے اگر میں ان پر خرچ کروں اور میں ان کو اس طرح اور اس طرح چھوڑنے والی نہیں ہوں، وہ میرے بھی بیٹے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تیرے لیے ان میں اجر ہے جو تو ان پر خرچ کرے گی۔“ اس کو مسلم نے ابو کریب سے صحیح میں روایت کیا ہے اور اس کو بخاری نے ہشام سے ایک دوسری سند سے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15736]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں