السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3203. -- باب: ما جاء في قول الله عز وجل: وعلى الوارث مثل ذلك
-- باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”اور وارث پر بھی اسی طرح کی ذمہ داری ہے“ کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15737
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، نا أَشْعَثُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَعَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ: {وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ} [البقرة: ٢٣٣] قَالَ:" أَنْ لَا يُضَارَّ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَٰلِكَ﴾ [سورة البقرة: 233] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اسے تکلیف نہ دی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15737]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15738
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا آدَمُ، نا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ: وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ قَالَ:" يَعْنِي الْوَالِدَاتِ الْمُطَلَّقَاتِ"، لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا يَقُولُ:" لَا تَأْبَى أَنْ تُرْضِعَهُ ضِرَارًا يَشُقُّ عَلَى أَبِيهِ"، وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ يَقُولُ:" وَلَا يُضَارَّ الْوَالِدُ بِوَلَدِهِ فَيَمْنَعُ أُمَّهُ أَنْ تُرْضِعَهُ لِيُحْزِنَهَا بِذَلِكَ"، وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ قَالَ:" يَعْنِي الْوَلِيَّ مَنْ كَانَ"، فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ،" غَيْرَ مُسِيئِينَ فِي ظُلْمِ أَنْفُسِهِمَا وَلَا إِلَى صَبِيِّهِمَا دُونَ الْحَوْلَيْنِ"، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا، وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ خِيفَةَ الضَّيْعَةِ عَلَى الصَّبِيِّ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ، يَعْنِي بِحِسَابِ مَا أَرْضَعَ الصَّبِيَّ".
مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ﴾ [سورة البقرة: 233] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد طلاق شدہ دودھ پلانے والیاں ہیں۔ ﴿لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا﴾ [سورة البقرة: 233] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اس کو دودھ پلانے سے انکار نہ کریں تکلیف دیتے ہوئے کہ وہ اپنے باپ پر بوجھ بنے۔ ﴿وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ﴾ [سورة البقرة: 233] کے بارے میں کہتے ہیں کہ والد اپنے بچے کے ذریعے تکلیف نہ پہنچائے کہ وہ اس کی ماں کو دودھ پلانے سے روکے تاکہ اس کے ذریعے اسے غمگین کرے۔ ﴿وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ﴾ [سورة البقرة: 233] کے بارے میں کہا: یعنی ولی جو بھی ہو۔ ﴿فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَن تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ﴾ [سورة البقرة: 233] کے بارے میں کہا: اس حال میں کہ وہ دونوں دو سال سے پہلے نہ اپنے اوپر زیادتی کرنے والے ہوں اور نہ اپنے بچے پر، ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا﴾ تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔ ﴿وَإِنْ أَرَدتُّمْ أَن تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ﴾ [سورة البقرة: 233] کے بارے میں کہتے ہیں: بچے پر ضائع ہونے کے خوف سے۔ ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُم مَّا آتَيْتُم بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة البقرة: 233] کے بارے میں کہتے ہیں: یعنی حساب کے ساتھ جو بچے کو دودھ پلایا گیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15738]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15739
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" جَبَرَ عَصَبَةَ صَبِيٍّ أَنْ يُنْفِقُوا عَلَيْهِ الرِّجَالُ دُونَ النِّسَاءِ" وَرَوَاهُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" جَبَرَ عَمًّا عَلَى رَضَاعِ ابْنِ أَخِيهِ" وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بچے کے عصبہ پر جبر کیا کہ اس پر مرد خرچ کریں، عورتوں کے علاوہ۔ اسے لیث بن ابی سلیم نے ایک آدمی سے، اس نے ابن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک چچا کو اس کے بھتیجے کی رضاعت (کے خرچ) پر مجبور کیا اور یہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15739]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15740
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَغْرَمَ ثَلَاثَةً كُلُّهُمْ يَرِثُ الصَّبِيَّ أَجْرَ رَضَاعَةٍ" هَذَا مُنْقَطِعٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تینوں کو قرض ادا کرنے کے لیے مجبور کیا، وہ تمام بچے کے وارث ہیں اس کی رضاعت کے بدلے۔ یہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15740]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف