السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3204. -- باب: نفقة الأبوين
-- باب: والدین کے نفقہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 15741
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّعِيرِيُّ، نا مَحْمَشُ بْنُ عِصَامٍ، نا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكًا فَمَرَّ بِنَا شَابٌّ نَشِيطٌ يَسُوقُ غُنَيْمَةً لَهُ فَقُلْنَا: لَوْ كَانَ شَبَابُ هَذَا وَنَشَاطُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ كَانَ خَيْرًا لَهُ مِنْهَا فَانْتَهَى قَوْلُنَا حَتَّى بَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا قُلْتُمْ؟" قُلْنَا: كَذَا وَكَذَا قَالَ:" أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى عِيَالٍ يَكْفِيهِمْ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى نَفْسِهِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مل کر) غزوہ تبوک لڑا، ہمارے پاس سے ایک پھرتیلا نوجوان گزرا، اس کے ساتھ اس کی بکریاں تھیں۔ ہم نے کہا: کاش اس کی جوانی اور اس کی بہادری اللہ کے راستے میں ہوتی، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہوتا۔ ہماری بات ختم ہوئی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کیا کہا؟“ ہم نے کہا: ہم نے اس طرح اس طرح کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک (کی خدمت) پر کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے؛ اگر یہ اپنے اہل و عیال کی کفالت کے لیے کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے؛ اگر یہ اپنے نفس پر (اپنی ضروریات پوری کرنے کی) کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15741]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15742
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، نا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، نا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ، نا شَرِيكٌ، عَنْ مَغْرَاءَ الْعَبْدِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ بِهِمْ رَجُلٌ فَتَعَجَّبُوا مِنْ خَلْقِهِ فَقَالُوا: لَوْ كَانَ هَذَا فِي سَبِيلِ اللهِ فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى أَبَوَيْهِ شَيْخَيْنِ كَبِيرَيْنِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى وَلَدٍ صِغَارٍ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى نَفْسِهِ لِيُغْنِيَهَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس سے ایک آدمی گزرا، انہوں نے اس کی کامل ساخت پر تعجب کیا۔ انہوں نے کہا: کاش! یہ اللہ کے راستے میں ہوتا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کرتا ہے تو وہ اللہ کے راستے میں ہے اور اگر یہ اپنے چھوٹے بچے پر کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے۔ اگر یہ اپنے نفس پر کوشش کرتا ہے اس کو غنی کرنے کے لیے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15742]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 15743
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ أَنَّهَا ⦗٧٨٧⦘ سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي حِجْرِي يَتِيمٌ فَآكُلُ مِنْ مَالِهِ، فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَطْيَبِ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ" وَقَدْ قِيلَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
عمارہ بن عمیر رحمہ اللہ اپنی پھوپھی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ میری گود میں (یتیم) بچہ ہے، کیا میں اس کے مال سے کھا سکتی ہوں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ پاکیزہ چیز جو آدمی کھاتا ہے وہ اس کی اپنی کمائی ہے اور اس کا بچہ (بھی) اس کی کمائی ہی میں سے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15743]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15744
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ" قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَزَادَ فِيهِ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَيْهِ وَهُوَ مُنْكَرٌ قَالَهُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا بیٹا اس کی کمائی میں سے ہے، اس کی زیادہ پاکیزہ کمائی میں سے ہے، تم ان کے مالوں میں سے کھاؤ۔“
اسے حماد بن ابی سلیمان نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اور اس میں ”جب تمہیں اس کی ضرورت ہو“ کا اضافہ کیا ہے، اور یہ (اضافہ) منکر ہے، یہ بات ابو داود سجستانی نے کہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15744]
اسے حماد بن ابی سلیمان نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اور اس میں ”جب تمہیں اس کی ضرورت ہو“ کا اضافہ کیا ہے، اور یہ (اضافہ) منکر ہے، یہ بات ابو داود سجستانی نے کہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15744]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15745
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْحَافِظُ بِمَرْوَ، نا حَمَّادُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: أنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَوْلَادَكُمْ هِبَةُ اللهِ لَكُمْ {يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ} [الشورى: ٤٩] فَهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ لَكُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَيْهَا".
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری اولادیں تمہارے لیے اللہ کا عطیہ ہیں، ﴿يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ﴾ [سورة الشورى: 49] ”اللہ جس کو وہ چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو وہ چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے“، وہ تمہاری اولاد ہیں اور ان کے مال تمہارے لیے ہیں جب تم اس کی طرف محتاج ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15745]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 15746
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَرَّاحِيُّ بِمَرْوَ، نا يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، نا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، نا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْمُبَارَكِ عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" فَهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ لَكُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَيْهَا" فَقَالَ: حَدَّثَنِي بِهِ سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ حَمَّادٍ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: سَأَلْتُ أَصْحَابَ سُفْيَانَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَحْفَظُوا قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَهَذَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ لَيْسَ فِيهِ الْأَسْوَدُ وَلَيْسَ فِيهِ إِذَا احْتَجْتُمْ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ وَهُوَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرُ مَحْفُوظٍ.
سفیان بن عبدالملک فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ”وہ اور ان کے مال تمہارے ہیں جب تم ان کی طرف محتاج ہو“ کے متعلق پوچھا تو انھوں نے فرمایا: مجھے یہ حدیث سفیان نے حماد عن ابراہیم عن اسود عن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے بیان کی، سفیان نے کہا: یہ حماد کا وہم ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں: میں نے سفیان کے شاگردوں سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے اسے یاد نہیں رکھا تھا۔ عبداللہ کہتے ہیں: اس کی حدیث عمارہ بن عمیر سے ہے، اس میں اسود نہیں ہے اور اس میں یہ الفاظ بھی نہیں ہیں کہ جب تم محتاج ہو۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اعمش سے روایت کیا گیا، وہ ابراہیم سے اور وہ اسود سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس لفظ کے علاوہ بیان فرماتے ہیں، یہ ان اسناد کے ساتھ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15746]
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اعمش سے روایت کیا گیا، وہ ابراہیم سے اور وہ اسود سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس لفظ کے علاوہ بیان فرماتے ہیں، یہ ان اسناد کے ساتھ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15746]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15747
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَزْمَوَيْهِ، نا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ⦗٧٨٨⦘ أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ وَاللهُ أَعْلَمُ وَرُوِيَ عَنْ مَطَرٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ شُرَيْحٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زیادہ پاکیزہ چیز جو آدمی کھاتا ہے وہ اس کی کمائی ہے اور اس کی اولاد اس کی کمائی ہے۔“ اسی طرح اس کو یعلیٰ بن عبید نے اعمش سے روایت کیا ہے۔
یہ مطر عن الحکم عن ابراہیم عن شریح عن عائشہ رضی اللہ عنہا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے بھی روایت کیا گیا ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15747]
یہ مطر عن الحکم عن ابراہیم عن شریح عن عائشہ رضی اللہ عنہا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے بھی روایت کیا گیا ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15747]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15748
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْخُرَاسَانِيِّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي قَالَ:" أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ، إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ فَكُلُوهُ هَنِيئًا".
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: ”میرا باپ میرے مال کو لینا چاہتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے اور زیادہ پاک جو تم کھاتے ہو تمہاری کمائی ہے، تم اس کو آسانی کے ساتھ کھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15748]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15749
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا وَإِنَّ وَالِدِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي، فَقَالَ:" أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: میرا مال بھی ہے اور میری اولاد بھی ہے اور میرا والد میرا مال لینا چاہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے۔ تمہاری اولاد تمہاری سب سے زیادہ پاکیزہ کمائی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15749]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15750
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا وَإِنَّ وَالِدِي يَجْتَاحُ مَالِي قَالَ:" أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ".
یزید بن زریع نے اپنی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا بیٹا ہے اور میرا مال بھی ہے اور میرا والد میرے مال کو لینا چاہتا ہے۔ فرمایا: ”تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے۔ تمہاری اولاد تمہاری زیادہ پاکیزہ کمائی ہے۔ تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15750]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح