🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3560. -- باب: من ليس للإمام أن يغزو به بحال
-- باب: اس شخص کا بیان جسے امام کے لیے کسی صورت اپنے ساتھ جہاد پر لے جانا جائز نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17859
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَزَا مَعَهُ بَعْضُ مَنْ يُعْرَفُ نِفَاقُهُ، فَانْخَزَلَ عَنْهُ يَوْمَ أُحُدٍ بِثَلَاثِمِائَةٍ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هُوَ بَيِّنٌ فِي الْمَغَازِي.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگیں لڑیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بعض ایسے لوگوں نے بھی جنگ لڑی جن کا نفاق ظاہر تھا اور احد کے دن تین سو آدمی آپ سے الگ ہو گئے تھے۔ شیخ فرماتے ہیں: اس کی وضاحت مغازی میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17859]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ للشافعي»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17860
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، وَغَيْرُهُمْ مِنْ عُلَمَائِنَا، عَنْ يَوْمِ أُحُدٍ فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، قَالَ فِيهَا:" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَلْفِ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشَّوْطِ بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَأُحُدٍ انْخَزَلَ عَنْهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِيٍّ الْمُنَافِقُ بِثُلُثِ النَّاسِ، فَرَجَعَ بِمَنِ اتَّبَعَهُ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ أَهْلِ الرَّيْبِ وَالنِّفَاقِ".
ابن شہاب رحمہ اللہ اور دیگر علماء فرماتے ہیں کہ احد کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ نکلے تھے۔ جب مدینہ اور احد کے درمیان شوط کے مقام پر پہنچے تو عبداللہ بن ابی منافق لوگوں کی ایک تہائی لے کر الگ ہو گیا اور اہل ریب اور منافق جو اس کے تابع تھے واپس لوٹ آئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17860]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17861
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ فِي قِصَّةِ أُحُدٍ قَالَ:" فَرَجَعَ عَنْهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ فِي ثَلَاثِمِائَةٍ، وَبَقِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبْعِمِائَةٍ".
سیدنا موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی منافق احد کے دن اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ لوٹ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات سو آدمی تھے جو باقی بچے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17861]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17862
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ:" فَمَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلَ أُحُدًا، وَرَجَعَ عَنْهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ فِي ثَلَاثِمِائَةٍ، وَبَقِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبْعِمِائَةٍ".
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کی طرف چلے، جب احد میں پہنچے تو عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ وہاں سے لوٹ آیا، آپ کے ساتھ سات سو باقی رہ گئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17862]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17863
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِيُّ بِهَا، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ رَجَعَ قَوْمٌ مِنَ الطَّرِيقِ، فَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ: فِرْقَةٌ تَقُولُ: نَقْتُلُهُمْ، وَفِرْقَةٌ تَقُولُ: لَا نَقْتُلُهُمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا} [النساء: ٨٨] . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ:" ثُمَّ شَهِدُوا مَعَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَتَكَلَّمُوا بِمَا حَكَى الله عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَوْلِهِمْ: {مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا} [الأحزاب: ١٢] . قَالَ الشَّيْخُ:" هُوَ بَيِّنٌ فِي الْمَغَازِي عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَغَيْرِهِمَا. قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ - الْإِسْنَادُ الَّذِي تَقَدَّمَ فِي قِصَّةِ الْخَنْدَقِ -: فَلَمَّا اشْتَدَّ الْبَلَاءُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ نَافَقَ نَاسٌ كَثِيرٌ وَتَكَلَّمُوا بِكَلَامٍ قَبِيحٍ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِيهِ ⦗٥٥⦘ النَّاسُ مِنَ الْبَلَاءِ وَالْكَرْبِ جَعَلَ يُبَشِّرُهُمْ وَيَقُولُ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُفَرَّجَنَّ عَنْكُمْ مَا تَرَوْنَ مِنَ الشِّدَّةِ وَالْبَلَاءِ، فَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ آمِنًا، وَأَنْ يَدْفَعَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مَفَاتِحَ الْكَعْبَةِ، وَلَيُهْلِكَنَّ اللهُ كِسْرَى وَقَيْصَرَ، وَلَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللهِ". فَقَالَ رَجُلٌ مِمَّنْ مَعَهُ لِأَصْحَابِهِ: أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ مُحَمَّدٍ يَعِدُنَا أَنْ نَطُوفَ بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ وَأَنْ نَغْنَمَ كُنُوزَ فَارِسَ وَالرُّومِ، وَنَحْنُ هَا هُنَا لَا يَأْمَنُ أَحَدُنَا أَنْ يَذْهَبَ إِلَى الْغَائِطِ، وَاللهِ لَمَا يَعِدُنَا إِلَّا غُرُورًا. وَقَالَ آخَرُونَ مِمَّنْ مَعَهُ: ائْذَنْ لَنَا فَإِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ. وَقَالَ آخَرُونَ: يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مَقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا. وَسَمَّى ابْنُ إِسْحَاقَ الْقَائِلَ الْأَوَّلَ مُعَتِّبَ بْنَ قُشَيْرٍ، وَالْقَائِلَ الثَّانِيَ أَوْسَ بْنَ قَيْظِيٍّ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کی طرف گئے تو کچھ لوگ راستے سے ہی واپس آگئے، جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ان میں دو گروہ تھے؛ ایک کہتا تھا: ”ہم ان سے قتال کریں گے۔“ ایک کہتا تھا: ”ہم ان سے قتال نہیں کریں گے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا﴾ [سورة النساء: 88] ”پھر تمہیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہو گئے۔ حالانکہ اللہ نے انہیں اس وجہ سے الٹا کر دیا جو انہوں نے کیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر یہ لوگ خندق میں شریک ہوئے تو انہوں نے کلام کیا۔ اس میں جو اس نے بیان کیا تھا: ﴿مَّا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا﴾ [سورة الأحزاب: 12] ”اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ دھوکے کا وعدہ کیا ہے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ مغازی میں بالتفصیل موسیٰ بن عقبہ سے اور محمد بن اسحاق اور دیگر سے بیان ہوا ہے اور خندق کے قصے میں گزر گیا ہے کہ جب آزمائش سخت ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں پر اکثر لوگ منافق ہو گئے اور کلامِ قبیح (ناپسندیدہ) کرنے لگے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزمائش اور تکلیف کی وجہ سے لوگوں کی یہ حالت دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوشخبری دینے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو سخت آزمائش تم دیکھ رہے ہو وہ ضرور دور ہو جائے گی۔ مجھے امید ہے ہم بیت اللہ کا طواف پُرامن ہو کر کریں گے اور اللہ تعالیٰ مجھے کعبہ کی چابیاں دے گا اور وہ ضرور کسریٰ و قیصر کو ہلاک کرے گا اور تم ان کا خزانہ اس کی راہ میں خرچ کرو گے۔“ منافقوں میں سے ایک آدمی نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”کیا تم کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر حیرانی نہیں ہوئی؟ وہ ہمیں بیت اللہ کے طواف اور فارس و روم کے خزانوں کی تقسیم کے وعدے دیتا ہے، جبکہ ہم اپنی حاجت کے لیے جائیں تو بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اللہ کی قسم! یہ ہمارے ساتھ دھوکا کرتا ہے۔“ دوسروں نے کہا: ”ہمیں اجازت دیں (ہمارے گھر جانے کی)۔“ اور کچھ نے کہا: ﴿يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا﴾ [سورة الأحزاب: 13] ”اے یثرب والو! یہاں تمہارے لیے کوئی ٹھکانا نہیں ہے، لوٹ جاؤ۔“ ابن اسحاق نے پہلے قائل کا نام معتب بن قشیر اور دوسرے کا نام اوس بن قیظی نقل کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17863]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17864
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ: ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ:" فَلَمَّا اشْتَدَّ الْبَلَاءُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ، مِثْلَ قَوْلِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهَا: وَقَالَ رِجَالٌ مِنْهُمْ يُخَذِّلُونَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا". قَالَ الشَّافِعِيُّ:" ثُمَّ غَزَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَشَهِدَهَا مَعَهُ مِنْهُمْ عَدَدٌ، فَتَكَلَّمُوا بِمَا حَكَى اللهُ مِنْ قَوْلِهِمْ: {لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ} [المنافقون: ٨] ، وَغَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا حَكَى اللهُ مِنْ نِفَاقِهِمْ".
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ساتھیوں پر آزمائش سخت ہوئی (پھر موسیٰ بن عقبہ کی پوری حدیث مذکورہ نمبر 17861 بیان ہوئی ہے) مگر آخر میں یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا (جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد کا ہاتھ کھینچ چکے تھے) کہ اے یثرب والو! یہاں سے لوٹ چلو، تمہارے لیے یہاں کوئی قیام گاہ نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: منافقین میں سے کچھ لوگ غزوہ بنی مصطلق میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، انہوں نے بھی نازیبا باتیں کیں جن کو اللہ نے حکایتاً بیان فرمایا ہے: ﴿یَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَی الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾ [سورة المنافقون: 8] ”اگر ہم مدینہ واپس گئے تو زیادہ عزت والا اس میں سے ذلیل تر کو ضرور ہی نکال باہر کرے گا۔“ اس کے علاوہ دوسری آیات ہیں جن میں اللہ نے ان کے نفاق کو بیان فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17864]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17865
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، لَمَّا قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ: لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا، وَقَالَ أَيْضًا: لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، أُخْبِرْتُ بِذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" إِنَّ اللهَ صَدَّقَكَ وَعَذَرَكَ، وَنَزَّلَ: {هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا} [المنافقون: ٧] الْآيَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ.
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی نے کہا کہ اللہ کے رسول کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو حتیٰ کہ وہ لوٹ جائیں اور اسی طرح کہا: اگر ہم مدینہ واپس گئے تو زیادہ عزت والا ذلیل کو ضرور نکال دے گا۔ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تیری تصدیق کی ہے اور عذر بیان کیا ہے۔“ قرآن نازل ہوا ﴿هُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا﴾ [سورة المنافقون: 7] ”یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو تاکہ وہ منتشر ہوجائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17865]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17866
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو، وَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ ⦗٥٦⦘ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كُنَّا فِي غَزَاةٍ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: كُنَّا فِي جَيْشٍ فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا بَالُ دَعْوَى جَاهِلِيَّةٍ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ. فَقَالَ:" دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ". فَسَمِعَ بِذَلِكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلُوهَا، أَمَا وَاللهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ. فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهُ؛ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ". قَالَ: وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ أَكْثَرَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، ثُمَّ إِنَّ الْمُهَاجِرِينَ كَثُرُوا بَعْدُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَجَمَاعَةٍ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ بِالْإِسْنَادِ الَّذِي تَقَدَّمَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَكَذَلِكَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ:" ثُمَّ غَزَا غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَشَهِدَهَا مَعَهُ مِنْهُمْ قَوْمٌ نَفَرُوا بِهِ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ لِيَقْتُلُوهُ، فَوَقَاهُ اللهُ شَرَّهُمْ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هُوَ بَيِّنٌ فِي الْمَغَازِي.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم کسی غزوہ میں تھے کہ مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کی سرین پر مارا، تو انصاری نے کہا: اے انصار! (مدد کو آؤ) اور مہاجر نے کہا: اے مہاجرین! (مدد کو آؤ)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا: ”یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کی سرین پر مارا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، یہ بدبودار بات ہے۔“ عبداللہ بن ابی نے یہ سنا تو کہا: کیا انہوں نے ایسا کیا ہے؟ اللہ کی قسم! ﴿لَئِنْ رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾ [سورة المنافقون: 8] ”اگر ہم مدینہ واپس گئے تو معزز، ذلیل کو ضرور نکال دے گا۔“ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔“ جب مہاجرین مدینہ آئے تو انصار زیادہ تھے، پھر مہاجرین زیادہ ہو گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غزوہ تبوک میں بھی منافقین میں سے کچھ لوگ شریک تھے۔ عقبہ کی رات کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لیے نکلے تھے مگر اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی تفصیل مغازی میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17866]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17867
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي قِصَّةِ تَبُوكَ، قَالَ: فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّنِيَّةَ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ خُذُوا بَطْنَ الْوَادِي؛ فَهُوَ أَوْسَعُ عَلَيْكُمْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذَ الثَّنِيَّةَ، وَكَانَ مَعَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُزَاحِمَهُ فِي الثَّنِيَّةِ أَحَدٌ، فَسَمِعَهُ نَاسٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ فَتَخَلَّفُوا، ثُمَّ اتَّبَعَهُ رَهْطٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِسَّ الْقَوْمِ خَلْفَهُ، فَقَالَ لِأَحَدِ صَاحِبَيْهِ:" اضْرِبْ وُجُوهَهُمْ". فَلَمَّا سَمِعُوا ذَلِكَ وَرَأَوَا الرَّجُلَ مُقْبِلًا نَحْوَهُمْ وَهُوَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ انْحَدَرُوا جَمِيعًا وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَضْرِبُ رَوَاحِلَهُمْ، وَقَالُوا: إِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ أَحْمَدَ، وَهُمْ مُتَلَثِّمُونَ لَا يُرَى شَيْءٌ إِلَّا أَعْيُنُهُمْ، فَجَاءَ صَاحِبُهُ بَعْدَ مَا انْحَدَرَ الْقَوْمُ، فَقَالَ:" هَلْ عَرَفْتَ الرَّهْطَ؟" فَقَالَ: لَا وَاللهِ يَا نَبِيَّ ⦗٥٧⦘ اللهِ، وَلَكِنْ قَدْ عَرَفْتُ رَوَاحِلَهُمْ. فَانْحَدَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الثَّنِيَّةِ، وَقَالَ لِصَاحِبَيْهِ:" هَلْ تَدْرُونَ مَا أَرَادَ الْقَوْمُ؟ أَرَادُوا أَنْ يَزْحَمُونِي مِنَ الثَّنِيَّةِ فَيَطْرَحُونِي مِنْهَا". فَقَالَا: أَفَلَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ إِذَا اجْتَمَعَ إِلَيْكَ النَّاسُ؟ فَقَالَ:" أَكْرَهُ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا قَدْ وَضَعَ يَدَهُ فِي أَصْحَابِهِ يَقْتُلُهُمْ". وَذَكَرَ الْقِصَّةَ.
ابن اسحاق رحمہ اللہ غزوہ تبوک کے بارے میں فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثنیہ (گھاٹی) پر پہنچے تو آپ کے ایلچی نے اعلان کیا کہ وادی کے درمیانی حصہ پر قبضہ کر لیں، وہ تمہارے لیے وسیع جگہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ثنیہ پر چلے گئے، آپ کے ساتھ حذیفہ بن یمان اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کرتے تھے کہ کوئی ثنیہ کے بارے میں ان سے مقابلہ کرے۔ جب منافقین کے گروہ نے یہ نداء سنی تو یہ پیچھے ہٹ گئے پھر منافقین کا ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے لوگوں کی آہٹ سنی تو اپنے ایک ساتھی سے کہا: ”ان کے منہ پر مارو۔“ جب منافقین نے یہ سنا اور دیکھا کہ ایک آدمی ان کی طرف آ رہا ہے جو حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ تھے تو سب نیچے اتر آئے۔ ایک سواریوں کو مارنے لگا اور انہوں نے کہا: ہم احمد کے ساتھی ہیں، وہ نقاب پوش تھے ان کی صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔ جب آپ کا ساتھی آیا قوم کے اترنے کے بعد تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے گروہ کو پہچانا تھا؟“ تو اس نے کہا: میں نے ان کو نہیں پہچانا مگر ان کی سواریوں کو پہچانا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ثنیہ سے اترے اور ساتھیوں سے کہا: ”کیا تم جانتے ہو یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ یہ چاہتے تھے کہ گھاٹی پر مجھ پر ہجوم کر کے مجھے اس سے نیچے گرا دیں۔“ تو ساتھیوں نے کہا: کیا آپ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم ان کی گردن مار دیں جب وہ آپ کے پاس آئیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پسند نہیں کرتا کہ لوگ باتیں کریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17867]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن اسحاق عن النبي (صلي الله عليه وآله وسلم) مرسل»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17868
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ:" وَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا مِنْ تَبُوكَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَكَرَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَتَآمَرُوا أَنْ يَطْرَحُوهُ مِنْ عَقَبَةٍ فِي الطَّرِيقِ". ثُمَّ ذَكَرَ الْقِصَّةَ بِمَعْنَى ابْنِ إِسْحَاقَ.
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے تو راستے میں کچھ لوگوں نے آپ کے خلاف چال چلی اور مشورہ کیا کہ آپ کو راستے میں عقبہ سے نیچے گرا دیں گے۔ پھر ابن اسحاق کے ہم معنی قصہ نقل کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17868]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں