🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3561. -- باب: ما جاء في الاستعانة بالمشركين
-- باب: مشرکین سے جنگ میں مدد لینے کے متعلق کیا احکامات وارد ہوئے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17877
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ بَدْرٍ، فَلَمَّا كَانَ بِحَرَّةِ الْوَبَرَةِ أَدْرَكَهُ رَجُلٌ قَدْ كَانَ يُذْكَرُ مِنْهُ جُرْأَةً وَنَجْدَةً، فَفَرِحَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَوْهُ، فَلَمَّا أَدْرَكَهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، جِئْتُ لِأَتِّبِعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُؤْمِنُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ؟". قَالَ: لَا. قَالَ:" فَارْجِعْ؛ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ". قَالَ: ثُمَّ مَضَى، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّجَرَةُ أَدْرَكَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، قَالَ:" فَارْجِعْ؛ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ". قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ فَأَدْرَكَهُ بِالْبَيْدَاءِ، فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ:" تُؤْمِنُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ؟". قَالَ: نَعَمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَانْطَلِقْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ. وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" لَعَلَّهُ رَدَّهُ رَجَاءَ إِسْلَامِهِ، وَذَلِكَ وَاسِعٌ لِلْإِمَامِ، وَقَدْ غَزَا بِيَهُودِ بَنِي قَيْنُقَاعَ بَعْدَ بَدْرٍ، وَشَهِدَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ حُنَيْنًا بَعْدَ الْفَتْحِ، وَصَفْوَانُ مُشْرِكٌ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: أَمَّا شُهُودُ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ مَعَهُ حُنَيْنًا وَصَفْوَانُ مُشْرِكٌ، فَإِنَّهُ مَعْرُوفٌ بَيْنَ أَهْلِ الْمَغَازِي، وَقَدْ مَضَى بِإِسْنَادِهِ، وَأَمَّا غَزْوُهُ بِيَهُودِ قَيْنُقَاعَ فَإِنِّي لَمْ أَجِدْهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ وَهُوَ ⦗٦٤⦘ ضَعِيفٌ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" اسْتَعَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِ قَيْنُقَاعَ فَرَضَخَ لَهُمْ، وَلَمْ يُسْهِمْ لَهُمْ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف نکلے تو حرہ الوبرہ کے مقام پر ایک آدمی ملا، وہ جرأت، بہادری اور دلیری میں مشہور تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اس کو دیکھ کر خوش ہوئے۔ اس نے آپ کے پاس آ کر کہا: میں آپ کے ساتھ ہونا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس جا، میں مشرک سے مدد نہیں لوں گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے چلے، جب شجرہ کے مقام پر پہنچے تو وہی آدمی پھر آ ملا اور پہلی مرتبہ کی طرح کہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سے پہلی مرتبہ کی طرح فرمایا: ”واپس جا، میں مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: وہ لوٹ گیا، پھر بیداء کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلی مرتبہ کی طرح پوچھا: ”کیا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہے؟“ اس نے ہاں میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس کو واپس بھیجا گیا شاید اس کے اسلام لانے کی امید کی وجہ سے تھا اور اس میں قائد کے لیے وسعت ہے۔
بدر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قینقاع کے یہودیوں کو ساتھ لے کر جنگ کی ہے اور صفوان بن امیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کی جنگ میں شریک تھا اور یہ فتح مکہ کے بعد ہوئی ہے اور اس وقت صفوان بن امیہ مشرک تھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مغازی والوں کے ہاں صفوان بن امیہ کا شرک کی حالت میں جنگ میں شریک ہونا تو مشہور ہے، یہ پہلے گزر گیا ہے اور اس کا غزوہ بنو قینقاع میں شریک ہونا یہ میں نے حسن بن عمارہ کی حدیث کے سوا کہیں اور نہیں پایا اور وہ (حسن بن عمارہ) ضعیف ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قینقاع کے یہودیوں سے مدد لی اور ان کو کچھ مال دیا، لیکن ان کا حصہ مقرر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17877]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17878
وَقَدْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَمْرٍو الْمَرْوَزِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا خَلَفَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ إِذَا كَتِيبَةٌ، قَالَ:" مَنْ هَؤُلَاءِ؟". قَالُوا: بَنُو قَيْنُقَاعَ وَهُمْ رَهْطُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ. قَالَ:" وَأَسْلَمُوا؟". قَالُوا: لَا. قَالَ:" بَلْ هُمْ عَلَى دِينِهِمْ". قَالَ:" قُلْ لَهُمْ فَلْيَرْجِعُوا؛ فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ". وَهَذَا الْإِسْنَادُ أَصَحُّ.
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ کے لیے نکلے، جب ثنیۃ الوداع سے آگے گئے تو ایک لشکر دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ لوگوں نے کہا: یہ بنو قینقاع کے لوگ ہیں اور وہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا قبیلہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہ اسلام لے آئے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ اپنے دین پر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے کہو واپس جائیں، ہم مشرکوں سے مدد نہیں لیتے۔“
یہ سند زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17878]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17879
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ، فَأَتَيْتُهُ أَنَا وَرَجُلٌ قَبْلَ أَنْ نُسْلِمَ، فَقُلْنَا: إِنَّا نَسْتَحْيِي أَنْ يَشْهَدَ قَوْمُنَا مَشْهَدًا فَلَا نَشْهَدُهُ. قَالَ:" أَسْلَمْتُمَا؟". قُلْنَا: لَا. قَالَ:" فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ". فَأَسْلَمْنَا وَشَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَتَلْتُ رَجُلًا، وَضَرَبَنِي الرَّجُلُ ضَرْبَةً، فَتَزَوَّجْتُ ابْنَتَهُ، فَكَانَتْ تَقُولُ: لَا عَدِمْتُ رَجُلًا وَشَّحَكَ هَذَا الْوِشَاحَ. فَقُلْتُ: لَا عَدِمْتِ رَجُلًا أَعْجَلَ أَبَاكِ إِلَى النَّارِ". جَدُّهُ خُبَيْبُ بْنُ يَسَافٍ، وَيُقَالُ: إِسَافٌ، لَهُ صُحْبَةٌ.
خبیب بن عبدالرحمن اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا خبیب بن یساف رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے کے لیے نکلے۔ میں اور ایک اور آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ابھی ہم نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، ہم نے عرض کیا: ہمیں شرم آتی ہے کہ ہماری قوم لڑائی میں جائے اور ہم نہ جائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم اسلام قبول کر چکے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم مشرکوں کے خلاف مشرکوں سے مدد نہیں لیں گے۔“ پھر ہم نے اسلام قبول کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائی میں گئے۔ میں نے ایک آدمی کو مارا اور ایک آدمی نے مجھے ضرب لگائی اور میں نے اس کی بیٹی سے شادی کی۔ وہ کہتی تھی: تو اس آدمی سے کبھی محروم نہ ہو جس نے تجھے یہ (زخم کا) ہار پہنایا، میں اسے کہتا: تو اس آدمی سے کبھی محروم نہ ہو جس نے تیرے باپ کو آگ کی طرف جلدی بھیج دیا۔ خبیب بن عبدالرحمن کے دادا کا نام خبیب بن یساف اور اساف بھی کہا جاتا ہے، رضی اللہ عنہ، ان کو صحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حاصل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17879]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17880
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" غَزَا بِقَوْمٍ مِنَ الْيَهُودِ فَرَضَخَ لَهُمْ".
شیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہود کے کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر لڑائی کی اور ان کو مال بھی دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17880]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ رجاله كلهم ثقات الا ان الشيباني عن سعد بن مالك مرسل»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں