السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3562. -- باب: من يبدأ بجهاده من المشركين
-- باب: مشرکین میں سے کس کے خلاف جہاد کی ابتدا کی جائے گی۔
حدیث نمبر: Q17881
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُمْ مِنَ الْكُفَّارِ} [التوبة: 123] ..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُمْ مِنَ الْكُفَّارِ﴾ ’ان کافروں سے لڑو جو تمہارے قریب ہیں۔‘ [سورة التوبة: 123] ...“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: Q17881]
حدیث نمبر: 17881
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَهَيَّأَ لِلْحَرْبِ، فَقَامَ فِيمَا أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ جِهَادِ عَدُوِّهِ وَقِتَالِ مَنْ أَمَرَهُ بِهِ مِمَّنْ يَلِيهِ مِنْ مُشْرِكِي الْعَرَبِ". ⦗٦٥⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ:" فَإِنِ اخْتَلَفَ حَالُ الْعَدُوِّ فَكَانَ بَعْضُهُمْ أَنْكَى مِنْ بَعْضٍ، أَوْ أَخْوَفَ مِنْ بَعْضٍ، فَلْيَبْدَأ الْإِمَامُ بِالْعَدُوِّ الْأَخْوَفِ أَوِ الْأَنْكَى، وَإِنْ كَانَتْ دَارُهُ أَبْعَدَ إِنْ شَاءَ اللهُ، وَتَكُونُ هَذِهِ بِمَنْزِلَةِ ضَرُورَةٍ". قَالَ:" وَقَدْ بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ أَنَّهُ يَجْمَعُ لَهُ، فَأَغَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَقُرْبَهُ عَدُوٌّ أَقْرَبُ مِنْهُ.
ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی کا ارادہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد ان دشمنوں سے شروع کیا جن سے آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے پہلے قریبی مشرکین سے لڑنے کا حکم دیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر دشمن کی حالت مختلف ہو یعنی بعض بعض سے زیادہ ضرر کا باعث ہوں اور زیادہ خوف کا باعث ہوں تو سپہ سالار لڑائی اس دشمن سے پہلے کرے گا جس سے خدشہ زیادہ ہو، اگرچہ وہ گھر کے لحاظ سے دور ہو اور یہ ضرورت کے وقت ہوگا۔
فرمایا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ حارث بن ابی ضرار لشکر جمع کر رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر رات کو حملہ کر دیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد دشمن تھے جو حارث بن ابی ضرار سے قریب تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17881]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر دشمن کی حالت مختلف ہو یعنی بعض بعض سے زیادہ ضرر کا باعث ہوں اور زیادہ خوف کا باعث ہوں تو سپہ سالار لڑائی اس دشمن سے پہلے کرے گا جس سے خدشہ زیادہ ہو، اگرچہ وہ گھر کے لحاظ سے دور ہو اور یہ ضرورت کے وقت ہوگا۔
فرمایا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ حارث بن ابی ضرار لشکر جمع کر رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر رات کو حملہ کر دیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد دشمن تھے جو حارث بن ابی ضرار سے قریب تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17881]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17882
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ أَنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ يَجْمَعُونَ لَهُ، وَقَائِدُهُمُ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ضِرَارٍ أَبُو جُوَيْرِيَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلَ بِالْمُرَيْسِيعِ مَاءٌ مِنْ مِيَاهِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَعَدُّوا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَزَاحَفَ النَّاسُ فَاقْتَتَلُوا، فَهَزَمَ اللهُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَقُتِلَ مَنْ قُتِلَ مِنْهُمْ، وَنَفَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْنَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ، وأَقَامَ عَلَيْهِ مِنْ نَاحِيَةِ قُدَيْدٍ إِلَى السَّاحِلِ. قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: غَزَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَعْبَانَ سَنَةَ سِتٍّ".
عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ بنو مصطلق والے لشکر تیار کر رہے ہیں اور ان کی قیادت ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے والد حارث بن ابی ضرار کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مریسیع نامی کنویں پر پہنچے، یہ بنو مصطلق کے کنوؤں میں سے ایک تھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائی کی تیاری کی اور لوگ ایک دوسرے کے قریب ہونا شروع ہوئے۔ پھر لڑائی ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق کو شکست دی۔ ان میں سے کچھ قتل ہوئے اور ان کے بچے، مال اور عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زائد حاصل کیں اور قدید کے ساحل کی طرف سے ان پر حملہ کیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ چھ ہجری کو ہوا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17882]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17883
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الدُّعَاءِ قَبْلَ الْقِتَالِ، قَالَ:" فَكَتَبَ إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ - أَحْسَبُهُ قَالَ: جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ. حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَبَلَغَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ سُفْيَانَ بْنِ نُبَيْحٍ يَجْمَعُ لَهُ، فَأَرْسَلَ ابْنَ أُنَيْسٍ فَقَتَلَهُ وَقُرْبَهُ عَدُوٌّ أَقْرَبُ مِنْهُ".
ابن عون کہتے ہیں: میں نے نافع کو خط لکھ کر پوچھا کہ قتال (لڑائی) سے قبل دعا (دعوت) کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے لکھا: یہ ابتدائے اسلام میں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر شب خون مارا (رات کو حملہ کیا) اور وہ بے خبر تھے جبکہ ان کے جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا، تو لڑائی کے اہل لوگوں کو قتل کر دیا گیا اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا۔ اس دن (راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے کہا) سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آئیں۔ یہ حدیث مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی، اور وہ اس لشکر میں شامل تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب یہ خبر آئی کہ خالد بن سفیان بن نبیح لشکر تیار کر رہا ہے تو اس طرف ابن انیس رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا۔ انہوں نے اس کو قتل کر دیا جبکہ اس کے قریب بھی دشمن موجود تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17883]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب یہ خبر آئی کہ خالد بن سفیان بن نبیح لشکر تیار کر رہا ہے تو اس طرف ابن انیس رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا۔ انہوں نے اس کو قتل کر دیا جبکہ اس کے قریب بھی دشمن موجود تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17883]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17884
أَخْبَرْنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنِ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَالِدِ بْنِ سُفْيَانَ الْهُذَلِيِّ وَكَانَ نَحْوَ عُرَنَةَ وَعَرَفَاتٍ، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ". قَالَ: فَرَأَيْتُهُ وَحَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَقُلْتُ: إِنِّي لَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مَا أَنْ أُؤَخِّرَ الصَّلَاةَ، فَانْطَلَقْتُ أَمْشِي وَأَنَا أُصَلِّي أُومِي إِيمَاءً نَحْوَهُ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ قَالَ لِي: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ، بَلَغَنِي ⦗٦٦⦘ أَنَّكَ تَجْمَعُ لِهَذَا الرَّجُلِ، فَجِئْتُكَ فِي ذَاكَ. قَالَ: إِنِّي لَفِي ذَاكَ. فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي عَلَوْتُهُ بِسَيْفِي حَتَّى بَرَكَ".
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے بیٹے اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خالد بن سفیان کی طرف بھیجا، وہ عرنہ اور عرفات کی طرف تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اسے قتل کرو۔“ یہ کہتے ہیں: میں نے اس کو دیکھا تو اس وقت عصر کی نماز کا وقت آگیا، میں نے سوچا کہ میرے اور اس کے درمیان معاملے میں نماز کے مؤخر ہونے کا خدشہ ہے، تو میں نماز پڑھتے ہوئے اس کی طرف چل پڑا اور (رکوع و سجود کے لیے) اشارہ کرتا رہا، جب میں اس کے قریب ہو گیا تو اس نے مجھے کہا: تو کون ہے؟ میں نے کہا: عرب ہوں، مجھے خبر ملی ہے کہ تو اس شخص کے خلاف لشکر جمع کر رہا ہے تو میں بھی اسی سلسلے میں تیرے پاس آیا ہوں، اس نے کہا: میں یہ کام کر رہا ہوں، تو میں کچھ دیر اس کے ساتھ چلا جب میں نے اس پر موقع پایا تو اپنی تلوار سے اس پر حملہ کر دیا حتیٰ کہ وہ مر گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17884]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف