السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3600. -- باب: قتل النساء والصبيان في التبييت والغارة من غير قصد، وما ورد في إباحة التبييت
-- باب: شب خون اور غارت گری میں غیر ارادی طور پر عورتوں اور بچوں کے قتل ہوجانے، اور شب خون کے جواز کے متعلق کیا وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 18091
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ عَنْ أَهْلِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ فَيُصَابُ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمْ مِنْهُمْ". وَزَادَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ:" هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ"" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي رِوَايَتِهِمَا، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ فِي الْحَدِيثِ:" هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی علاقہ کے ان مشرکوں کے بارے میں پوچھا گیا جن پر شب خون مارا جاتا ہے تو ان کی عورتیں اور بچے بھی مارے جاتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ انہیں میں سے ہیں۔“
(ب) عمرو بن دینار، زہری سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”وہ اپنے آباء سے ہیں۔“
(ج) سفیان حدیث میں کہتے ہیں کہ: ”وہ اپنے آباء سے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18091]
(ب) عمرو بن دینار، زہری سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”وہ اپنے آباء سے ہیں۔“
(ج) سفیان حدیث میں کہتے ہیں کہ: ”وہ اپنے آباء سے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18091]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18092
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ إِلَى ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ" نَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، زَادَ أَبُو عَبْدِ اللهِ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ:" فَكَانَ سُفْيَانُ يَذْهَبُ إِلَى أَنَّ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمْ مِنْهُمْ" إِبَاحَةٌ لِقَتْلِهِمْ، وَأَنَّ حَدِيثَ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ نَاسِخٌ لَهُ. قَالَ: وَكَانَ الزُّهْرِيُّ إِذَا حَدَّثَ بِحَدِيثِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ أَتْبَعَهُ حَدِيثَ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَحَدِيثُ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ كَانَ فِي عُمْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ كَانَ فِي عُمْرَتِهِ الْأُولَى فَقَدْ قُتِلَ ابْنُ أَبِي الْحُقَيْقِ قَبْلَهَا وَقِيلَ فِي سَنَتِهَا، وَإِنْ كَانَ فِي عُمْرَتِهِ الْآخِرَةِ فَهُوَ بَعْدَ أَمْرِ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ غَيْرَ شَكٍّ، وَاللهُ أَعْلَمُ". قَالَ:" وَلَمْ نَعْلَمْهُ رَخَّصَ فِي قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ ثُمَّ نَهَى عَنْهُ، ⦗١٣٤⦘ وَمَعْنَى نَهْيِهِ عِنْدَنَا وَاللهُ أَعْلَمُ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ أَنْ يَقْصِدَ قَصْدَهُمْ بِقَتْلٍ وَهُمْ يُعْرَفُونَ مُمَيَّزِينَ مِمَّنْ أُمِرَ بِقَتْلِهِ مِنْهُمْ. قَالَ: وَمَعْنَى قَوْلِهِ هُمْ مِنْهُمْ أَنَّهُمْ يَجْمَعُونَ خَصْلَتَيْنِ، أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حُكْمُ الْإِيمَانِ الَّذِي يَمْنَعُ الدَّمَ، وَلَا حُكْمُ دَارِ الْإِيمَانِ الَّذِي يَمْنَعُ الْغَارَةَ عَلَى الدَّارِ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" أَمَّا قَوْلُهُ فِي حَدِيثِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ إِنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي عُمْرَتِهِ".
ابن کعب بن مالک اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ابن ابی الحقیق کی طرف روانہ فرمایا تو ”عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سفیان کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان «هُمْ مِنْهُمْ» ”وہ انہیں میں سے ہیں“ سے مراد یہ ہے کہ ان کا قتل جائز ہے، اور ابن ابی الحقیق والی حدیث اس کو منسوخ کرنے والی ہے۔ فرماتے ہیں: زہری جب صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کرتے تو اس کے بعد ابن کعب بن مالک کی حدیث بیان کرتے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ کے بارے میں ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا عمرہ ہے تو ابن ابی الحقیق اس سے قبل قتل ہو چکا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سال میں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمرہ ہے تو یہ ابن ابی الحقیق کے بعد کی بات ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ راوی فرماتے ہیں: ہمیں علم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت کے بعد قتل سے منع فرمایا۔ عورتوں اور بچوں کا قتل کرنا قصداً ممنوع ہے۔ «هُمْ مِنْهُمْ»: 1۔ وہ اہل ایمان نہیں جس کی وجہ سے خون بہانا ممنوع ہو۔ 2۔ امن کے حکم پر نہیں جس کی وجہ سے غارت گری منع ہے۔ قال الشیخ: صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ کے بارے میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18092]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سفیان کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان «هُمْ مِنْهُمْ» ”وہ انہیں میں سے ہیں“ سے مراد یہ ہے کہ ان کا قتل جائز ہے، اور ابن ابی الحقیق والی حدیث اس کو منسوخ کرنے والی ہے۔ فرماتے ہیں: زہری جب صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کرتے تو اس کے بعد ابن کعب بن مالک کی حدیث بیان کرتے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ کے بارے میں ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا عمرہ ہے تو ابن ابی الحقیق اس سے قبل قتل ہو چکا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سال میں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمرہ ہے تو یہ ابن ابی الحقیق کے بعد کی بات ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ راوی فرماتے ہیں: ہمیں علم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت کے بعد قتل سے منع فرمایا۔ عورتوں اور بچوں کا قتل کرنا قصداً ممنوع ہے۔ «هُمْ مِنْهُمْ»: 1۔ وہ اہل ایمان نہیں جس کی وجہ سے خون بہانا ممنوع ہو۔ 2۔ امن کے حکم پر نہیں جس کی وجہ سے غارت گری منع ہے۔ قال الشیخ: صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ کے بارے میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18092]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم برقم ١٨٠٨٦»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18093
فَإِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ الْفَارَيَابِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ، فَأَهْدَيْتُ إِلَيْهِ لَحْمَ حِمَارِ وَحْشٍ، فَرَدَّهُ عَلَيَّ فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِي، قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ".
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں ابواء یا ودان نامی جگہ پر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب سے گزرے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیل گائے کا گوشت تحفے میں پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے تو فرمایا: ”ہم نے اسے کسی اور وجہ سے واپس نہیں کیا بجز اس کے کہ ہم حالتِ احرام میں ہیں۔“
وہ بیان فرماتے ہیں کہ مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا کہ جب شب خون کے وقت ان کی عورتیں اور بچے مارے جائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بھی انہی میں سے ہیں۔“
وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”چراگاہ صرف اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔“ علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان رحمہ اللہ نے مجلس کے دوران دو مرتبہ یہ بات کہی۔
سفیان رحمہ اللہ جب اس حدیث کو بیان فرماتے تو کہتے تھے کہ ابن کعب بن مالک اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ابن ابی الحقیق کی طرف بھیجا تو عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18093]
وہ بیان فرماتے ہیں کہ مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا کہ جب شب خون کے وقت ان کی عورتیں اور بچے مارے جائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بھی انہی میں سے ہیں۔“
وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”چراگاہ صرف اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔“ علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان رحمہ اللہ نے مجلس کے دوران دو مرتبہ یہ بات کہی۔
سفیان رحمہ اللہ جب اس حدیث کو بیان فرماتے تو کہتے تھے کہ ابن کعب بن مالک اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ابن ابی الحقیق کی طرف بھیجا تو عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18093]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح