🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3601. -- قتل أبي رافع عبد الله بن أبي الحقيق، ويقال: سلام بن أبي الحقيق
-- ابو رافع عبداللہ بن ابی حقیق (ایک قول کے مطابق سلام بن ابی حقیق) کے قتل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18094
وَأَمَّا تَارِيخُ قَتْلِ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ، وَتَارِيخُ عُمْرَتِهِ، فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ هُوَ ابْنُ يَسَارٍ، قَالَ: فَلَمَّا انْقَضَى أَمْرُ الْخَنْدَقِ وَأَمْرُ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ سَلَّامُ بْنُ أَبِي الْحُقَيْقِ مِمَّنْ كَانَ حَزَّبَ الْأَحْزَابَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اسْتَأْذَنَتِ الْخَزْرَجُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَتْلِ سَلَّامِ بْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ، وَكَانَ بِخَيْبَرَ، فَأَذِنَ لَهُمْ فِيهِ. قَالَ: ثُمَّ غَزَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ فِي شَعْبَانَ سَنَةَ سِتٍّ، ثُمَّ خَرَجَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ مُعْتَمِرًا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ". قَالَ الشَّيْخُ:" ثُمَّ كَانَتْ عُمْرَتُهُ الَّتِي تُسَمَّى عُمْرَةَ الْقَضَاءِ، ثُمَّ عُمْرَةُ الْجِعْرَانَةِ، ثُمَّ عُمْرَتُهُ فِي سَنَةِ حَجَّتِهِ، كُلُّهُنَّ بَعْدَ ذَلِكَ، وَقَتْلُ ابْنُ أَبِي الْحُقَيْقِ كَانَ قَبْلَهُنَّ، فَكَيْفَ يَكُونُ نَهْيُهُ فِي قِصَّةِ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ نَاسِخًا لِحَدِيثِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ الَّذِي كَانَ بَعْدَهُ؟ وَزَعَمُوا أَنَّهُ هَاجَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَاتَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَإِنْ كَانَ سَمَاعُهُ الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا هَاجَرَ فَيَكُونُ ذَلِكَ أَيْضًا بَعْدَ قِصَّةِ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ، فَإِنَّ فِي حَدِيثِ الْهَدِيَّةِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ أَوَّلُ مَا الْتَقَى بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَكُونُ وَجْهُ الْحَدِيثَيْنِ مَا أَشَارَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ مِنَ اخْتِلَافِ الْحَالَيْنِ وَاللهُ أَعْلَمُ".
محمد بن اسحاق بن یسار فرماتے ہیں کہ جب خندق اور بنو قریظہ کا معاملہ ختم ہوا تو ابو رافع سلام بن ابی الحقیق، جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لشکر ترتیب دیے تھے، خزرج والوں نے سلام بن ابی الحقیق کے قتل کی اجازت مانگی، یہ اس وقت خیبر میں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ پھر شعبان 6 ہجری میں بنو مصطلق ہوا۔ پھر حدیبیہ کے سال ذوالقعدہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لیے نکلے۔
شیخ فرماتے ہیں: اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمرۃ القضاء تھا، پھر جعرانہ والا، پھر وہ عمرہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے ساتھ کیا اور ابن ابی الحقیق اس سے پہلے قتل ہو چکا تھا۔
پھر کیسے ممکن ہے کہ آپ کا ابن ابی الحقیق کے قصہ میں عورتوں و بچوں کے قتل سے منع فرمانا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو منسوخ کرنے والا ہو جو اس کے بعد کی ہے؟ اور ان کا گمان ہے کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وفات پائی۔ اگر ہجرت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، تب بھی ابن ابی الحقیق کے قصہ کے بعد کی بات ہے، کیونکہ ہدیہ والی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی پہلی ملاقات تھی۔ لہٰذا دونوں حدیثوں کی توجیہ وہی ہے جس کی طرف امام شافعی رحمہ اللہ نے اشارہ کیا ہے کہ دونوں حالتیں مختلف ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18094]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18095
وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ فِي جَوَازِ التَّبْيِيتِ أَيْضًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ، أَنَّ نَافِعًا كَتَبَ إِلَيْهِ يُخْبِرُهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَغَارَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ فِي نَعَمِهِمْ بِالْمُرَيْسِيعِ، فَقَتَلَ الْمُقَاتِلَةَ، وَسَبَى الذُّرِّيَّةَ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ كَمَا مَضَى.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر شب خون مارا اور مریسیع نامی جگہ پر ان کے چوپاؤں پر حملہ کیا تو جنگجو افراد کو قتل کر دیا اور بچوں کو قیدی بنا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18095]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18096
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، وَأَبُو عَامِرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، ثنا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" أَمَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَغَزَوْنَا نَاسًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَبَيَّتْنَاهُمْ فَقَتَلَهُمْ، وَكَانَ شِعَارُنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ أَمِتْ أَمِتْ، قَالَ سَلَمَةُ: فَقَتَلْتُ بِيَدِي تِلْكَ اللَّيْلَةَ سَبْعَةَ أَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ".
ایاس بن سلمہ رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے خلاف ایک غزوہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر فرمایا، ہم نے رات کے وقت ان پر حملہ کر کے ان کو قتل کیا اور اس رات ہماری علامت «أَمِتْ أَمِتْ» ”مار دو، مار دو“ تھی، سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس رات میں نے مشرکین کے سات گھرانوں کے افراد کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18096]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18097
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَنَا لَيْلًا وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَوْمًا بِاللَّيْلِ لَا يُغِيرُ عَلَيْهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتْ يَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُ، قَالُوا: مُحَمَّدٌ وَاللهِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ {فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ} [الصافات: ١٧٧] ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر آئے تو رات کے وقت پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی قوم کے پاس رات کے وقت آتے تو صبح سے پہلے حملہ نہیں فرماتے تھے۔ جب صبح ہوئی تو یہودی اپنے زرعی ساز و سامان کے ساتھ نکلے، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے: ”اللہ کی قسم! محمد اور اس کا لشکر۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“، «خَرِبَتْ خَيْبَرُ» ”خیبر ہلاک ہو گیا“، یعنی وہاں کے رہنے والے، «إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ» ”جب ہم کسی قوم کے پاس صبح کے وقت آتے ہیں تو ڈرائے گئے کی صبح بری ہوتی ہے“ ﴿فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ﴾ [سورة الصافات: 177] ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18097]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18098
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَانْتَهَى إِلَيْهَا لَيْلًا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَرَقَ قَوْمًا لَمْ يُغِرْ عَلَيْهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ، وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا يُصَلُّونَ أَغَارَ عَلَيْهِمْ حِينَ يُصْبِحُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَكِبَ وَرَكِبَ الْمُسْلِمُونَ، وَخَرَجَ أَهْلُ الْقَرْيَةِ وَمَعَهُمْ مَكَاتِلُهُمْ وَمَسَاحِيهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ {فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ} [الصافات: ١٧٧] ". قَالَ أَنَسٌ: وَإِنِّي لَرِدْفٌ لِأَبِي طَلْحَةَ، وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر رات کے وقت پہنچے، لیکن جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم کے پاس رات کے وقت آتے تو صبح سے پہلے حملہ نہیں فرماتے تھے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اذان کی آواز سنتے تو حملہ سے رک جاتے۔ اگر وہ نماز نہیں پڑھتے تو صبح کے وقت ان پر حملہ کر دیتے۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان سوار ہوئے۔ بستی والے نکلے، ان کے پاس زرعی سازو سامان تھا۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور لشکر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ» ”اللہ اکبر، خیبر برباد ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ﴿فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ﴾ [سورة الصافات: 177] (ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح اچھی نہیں ہوتی)۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار تھا تو میرے پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کے ساتھ لگ رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18098]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18099
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ أَنَسٍ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُغِيرُ حَتَّى يُصْبِحَ لَيْسَ بِتَحْرِيمٍ لِلْإِغَارَةِ لَيْلًا وَلَا نَهَارًا، وَلَا غَارِّينَ فِي حَالٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَلَكِنَّهُ عَلَى أَنْ يَكُونَ يُبْصِرُ مَنْ مَعَهُ كَيْفَ يُغِيرُونَ احْتِيَاطًا مِنْ أَنْ يُؤْتَوْا مِنْ كَمِينٍ، أَوْ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ، وَقَدْ يَخْتَلِطُ الْحَرْبُ إِذَا أَغَارُوا لَيْلًا فَيَقْتُلُ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ بَعْضًا، قَدْ أَصَابَهُمْ ذَلِكَ فِي قَتْلِ ابْنِ عَتِيكٍ، فَقَطَعُوا رِجْلَ أَحَدِهِمْ" ⦗١٣٧⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغَارَةِ عَلَى غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ يَهُودَ فَقَتَلُوهُ.
امام شافعی رحمہ اللہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح سے پہلے حملہ نہ کرتے تھے، لیکن حملہ دن اور رات کے کسی بھی وقت کرنا جائز ہے، حرام نہیں ہے اور حالتِ غفلت میں بھی حملہ کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم احتیاط کی غرض سے ایسا کرتے تاکہ آپ کے ساتھی دیکھ سکیں کہ وہ کیسے حملہ کر رہے ہیں اور کہیں کسی گھات سے یا بے خبری میں ان پر حملہ نہ ہو جائے، اور رات کو حملہ اس لیے نہ کرتے کہ کہیں مسلمان ایک دوسرے کو قتل نہ کر بیٹھیں۔ جیسے ابن عتیک کے قتل میں ہوا کہ انہوں نے اپنے ساتھی کی ٹانگ کاٹ ڈالی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو کئی یہودیوں پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ جیسے ابو رافع عبداللہ بن ابی الحقیق جن کو سلام بن ابی الحقیق بھی کہا جاتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18099]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18100
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى الشَّطَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي رَافِعٍ الْيَهُودِيِّ وَكَانَ يَسْكُنُ أَرْضَ الْحِجَازِ، فَنَدَبَ لَهُ سَرَايَا مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَمَرَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَتِيكٍ، وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ يُؤْذِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُعِينُ عَلَيْهِ، وَكَانَ فِي حَصِينٍ لَهُ بِأَرْضِ الْحِجَازِ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنْهْ غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَرَاحَ النَّاسُ بِسَرْحِهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللهِ: اجْلِسُوا مَكَانَكُمْ فَإِنِّي مُنْطَلِقٌ فَمُتَطَلِّعٌ الْأَبْوَابَ لَعَلِّي أَدْخُلُ فَأَقْتُلُهُ. حَتَّى إِذَا دَنَا مِنَ الْبَابِ تَقَنَّعَ بِثَوْبِهِ كَأَنَّهُ يَقْضِي حَاجَةً، وَقَدْ دَخَلَ النَّاسُ فَهَتَفَ بِهِ الْبَوَّابُ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تَدْخُلَ فَادْخُلْ، فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُغْلِقَ الْبَابَ، قَالَ: فَدَخَلْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ النَّاسُ أَغْلَقَ الْبَابَ ثُمَّ عَلَّقَ الْأَقَالِيدَ عَلَى وَتَدٍ. قَالَ: فَقُمْتُ إِلَى الْأَقَالِيدِ فَأَخَذْتُهَا فَفَتَحْتُ الْبَابَ، وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ يُسْمَرُ عِنْدَهُ فِي عَلَالِيَّ لَهُ، فَلَمَّا نَزَلَ عَنْهُ أَهْلُ سَمَرِهِ صَعِدْتُ إِلَيْهِ، فَجَعَلْتُ كُلَّمَا فَتَحْتُ بَابًا أَغْلَقْتُ عَلَيَّ مِنْ دَاخِلٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ الْقَوْمَ نَذِرُوا بِي لَمْ يَخْلُصُوا إِلِيَّ حَتَّى أَقْتُلَهُ. قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ فِي بَيْتٍ مُظْلِمٍ وَسْطَ عِيَالِهِ لَا أَدْرِي أَيْنَ هُوَ مِنَ الْبَيْتِ، فَقُلْتُ: أَبَا رَافِعٍ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ فَأَهْوِي نَحْوَ الصَّوْتِ فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً غَيْرَ طَائِلٍ وَأَنَا دَهِشٌ، فَلَمْ أُغْنِ عَنْهُ شَيْئًا وَصَاحَ، فَخَرَجْتُ مِنَ الْبَيْتِ فَمَكَثْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ: مَا هَذَا الصَّوْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ، فَقَالَ: لِأُمِّكَ الْوَيْلُ رَجُلٌ فِي الْبَيْتِ ضَرَبَنِي قَبْلُ بِالسَّيْفِ، قَالَ: فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً ثَانِيَةً وَلَمْ أَقْتُلْهُ، ثُمَّ وَضَعْتُ ضَبَابَةَ السَّيْفِ فِي بَطْنِهِ ثُمَّ اتَّكَيْتُ عَلَيْهِ حَتَّى سَمِعْتُهُ أَخَذَ فِي ظَهْرِهِ، فَعَرَفْتُ أَنِّي قَدْ قَتَلْتُهُ، فَجَعَلْتُ أَفْتَحُ الْأَبْوَابَ بَابًا بَابًا حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى دَرَجَةٍ، فَوَضَعْتُ رِجْلِي وَأَنَا أَرَى أَنِّي قَدِ انْتَهَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ فَوَقَعْتُ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ، فَانْكَسَرَتْ رِجْلِي فَعَصَبْتُهَا بِعِمَامَتِي، ثُمَّ إِنِّي انْطَلَقْتُ حَتَّى جَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ، قُلْتُ: وَاللهِ لَا أَخْرُجُ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَعْلَمَ أَنِّي قَدْ قَتَلْتُهُ أَوْ لَا، فَلَمَّا صَاحَ الدِّيكُ قَامَ النَّاعِي عَلَى السُّورِ، فَقَالَ: أَنْعَى أَبَا رَافِعٍ تَاجِرَ أَهْلِ الْحِجَازِ، فَانْطَلَقْتُ أَتَعَجَّلُ إِلَى أَصْحَابِي، فَقُلْتُ: النَّجَاءَ، قَدْ قَتَلَ اللهُ أَبَا رَافِعٍ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ:" ابْسُطْ رِجْلَكَ"، فَبَسَطْتُهَا فَمَسَحَهَا فَكَأَنَّمَا لَمْ أَشْتَكِهَا قَطُّ. ⦗١٣٨⦘.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع یہودی، جو حجاز میں رہائش پذیر تھا، اس کے لیے ایک انصاری گروہ کی ذمہ داری لگائی تھی، جس کے امیر سیدنا عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ تھے۔ ابو رافع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مدد کرتا تھا، اس کا قلعہ حجاز میں تھا۔ جب صحابہ کا یہ گروہ اس کے قریب ہوا تو سورج غروب ہونے کو تھا، لوگ اپنے مویشی لے کر جا رہے تھے تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”تم اپنی جگہ ٹھہرو، میں جا کر دروازے کے متعلق معلومات حاصل کرتا ہوں، شاید میں داخل ہو کر اسے قتل کر سکوں۔“ جب وہ دروازے کے قریب ہوئے تو اپنا کپڑا اس طرح لپیٹ لیا جیسے کوئی قضائے حاجت کرنے والا کرتا ہے۔ لوگ قلعہ میں داخل ہو گئے تو دربان نے آواز لگائی: ”اے اللہ کے بندے! اگر اندر آنا ہے تو آ جاؤ، میں دروازہ بند کرنا چاہتا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں بھی داخل ہو گیا۔ جب لوگ سارے داخل ہو گئے، اس نے دروازہ بند کر دیا اور چابیاں ایک تند پر لٹکا دیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے چابیاں لے کر دروازہ کھول دیا اور ابو رافع کے پاس رات کو قصہ گو موجود ہوتے۔ جب رات کو باتیں کرنے والے آ گئے تو میں ابو رافع کی طرف چڑھا۔ میں جب دروازہ کھولتا تو اندر سے دروازہ بند کر لیتا، میں نے کہا: میرے قتل کرنے تک لوگ مجھے چھوڑے رکھیں۔ جب میں اس تک پہنچا، وہ اندھیرے گھر اور اپنے اہل و عیال کے درمیان میں تھا۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ کس جگہ ہے، میں نے کہا: ابو رافع! اس نے کہا: یہ کون ہے؟ میں نے آواز کی طرف مائل ہو کر وار کیا لیکن بے فائدہ، میں گھبرا گیا، مجھے کچھ فائدہ نہ ہوا۔ وہ چیخا، میں گھر سے نکل کر زیادہ دور نہ گیا، پھر میں آیا اور میں نے پوچھا: اے ابو رافع! یہ آواز کیسی تھی؟ اس نے کہا: تیری ماں کی ہلاکت ہو، گھر میں کوئی شخص ہے جو مجھے تلوار سے مار رہا ہے۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے دوسرا حملہ کیا لیکن میں اسے قتل نہ کر سکا، پھر میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ میں رکھ کر اوپر سے زور دیا تو تلوار کے دوسری طرف نکلنے کی آواز سن لی، تو میں نے جان لیا کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ پھر میں ایک ایک دروازہ کھولتے کھولتے سیڑھیوں تک آ گیا۔ میں نے پاؤں رکھا اور خیال کیا کہ میں زمین تک پہنچ گیا ہوں، میں چاندنی رات میں گر پڑا، میری ٹانگ ٹوٹ گئی تو میں نے اپنی پگڑی سے باندھ لی۔ پھر میں نکل کر دروازے کے پاس بیٹھ گیا۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! اتنی دیر نہ جاؤں گا جب تک معلوم نہ کر لوں کہ میں نے اس کو قتل کر دیا ہے یا نہیں۔ جب مرغ نے اذان دی تو دیوار پر ایک موت کی خبر دینے والے نے کہا: میں ابو رافع کی موت کی خبر دیتا ہوں۔ میں جلدی سے اپنے ساتھیوں کے پاس گیا، میں نے کہا: اللہ نے ابو رافع کو ہلاک کر دیا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاؤں پھیلاؤ۔“ میں نے پاؤں پھیلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ مبارک پھیرا تو یوں محسوس ہوا کہ مجھے کبھی تکلیف ہوئی ہی نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18100]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٣٠٢٢-٣٠٢٣-٤٠٣٨-٤٠٤٠»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18101
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ح، قَالَ وَأَخْبَرَنِي الْمُنَيْعِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي رَافِعٍ الْيَهُودِيِّ رِجَالًا مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللهِ بْنَ فُلَانٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَإِنِّي مُنْطَلِقٌ فَمُتَلَطِّفٌ لِلْبَوَّابِ، وَقَالَ: فَدَخَلْتُ فَكَمَنْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ النَّاسُ أَغْلَقَ الْبَابَ، ثُمَّ عَلَّقَ الْأَقَالِيدَ عَلَى وَتَدٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى." وَيُذْكَرُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ بِخَيْبَرَ، وَأَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُنَيْسٍ هُوَ الَّذِي قَتَلَهُ، وَفِي حَدِيثٍ آخَرَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُنَيْسٍ ضَرَبَهُ، وَابْنَ عَتِيكٍ ذَفَفَ عَلَيْهِ، وَفِي الرِّوَايَاتِ كُلِّهَا أَنَّ ابْنَ عَتِيكٍ ذَفَفَ عَلَيْهِ، وَفِي الرِّوَايَاتِ كُلِّهَا أَنَّ ابْنَ عَتِيكٍ سَقَطَ فَوَثِئَتْ رِجْلُهُ".
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع کی جانب کچھ انصاری لوگ بھیجے اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا، اسی طرح اس نے حدیث کو ذکر کیا علاوہ اس کے کہ انہوں نے کہا: میں چلتا رہا اور دربان کو چمٹا رہا، پھر میں داخل ہوا اور چھپ گیا، جب لوگ داخل ہوئے تو اس نے دروازہ بند کر دیا اور چابیاں ایک کیل پر لٹکا دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18101]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں