السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3649. -- باب: السواد
-- باب: سواد (عراق کے زرخیز علاقے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 18357
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَا أَعْرِفُ مَا أَقُولُ فِي أَرْضِ السَّوَادِ إِلَّا ظَنًّا مَقْرُونًا إِلَى عِلْمٍ، وَذَلِكَ أَنِّي وَجَدْتُ أَصَحَّ حَدِيثٍ يَرْوِيهِ الْكُوفِيُّونَ عِنْدَهُمْ فِي السَّوَادِ لَيْسَ فِيهِ بَيَانٌ، وَوَجَدْتُ أَحَادِيثَ مِنْ أَحَادِيثِهِمْ تُخَالِفُهُ مِنْهَا أَنَّهُمْ يَقُولُونَ: السَّوَادُ صُلْحٌ، وَيَقُولُونَ: السَّوَادُ عَنْوَةٌ، وَيَقُولُونَ: بَعْضُ السَّوَادِ صُلْحٌ وَبَعْضُهُ عَنْوَةٌ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ارضِ سواد (عراق کی زرعی زمین) کے بارے میں علم سے ملے ہوئے گمان کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتا، کیونکہ میں نے دیکھا کہ سواد کے بارے میں کوفی جو سب سے صحیح حدیث روایت کرتے ہیں اس میں وضاحت نہیں ہے، اور میں نے ان کی احادیث میں ایسی احادیث بھی پائیں جو اس کے مخالف ہیں؛ ان میں سے یہ کہ وہ کہتے ہیں: سواد صلح سے فتح ہوا، اور کہتے ہیں: سواد زبردستی (قوت سے) فتح ہوا، اور کہتے ہیں: سواد کا کچھ حصہ صلح سے اور کچھ زبردستی فتح ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18357]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18358
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو زُبَيْدٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: السَّوَادُ مِنْهُ صُلْحٌ وَمِنْهُ عَنْوَةٌ، فَمَا كَانَ مِنْهُ عَنْوَةٌ فَهُوَ لِلْمُسْلِمِينَ، وَمَا كَانَ مِنْهُ صُلْحٌ فَلَهُمْ أَمْوَالُهُمْ.
اشعث، ابن سیرین رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ «السَّوَاد» کا کچھ حصہ صلح سے اور کچھ زبردستی فتح ہوا؛ جو زبردستی حاصل ہوا وہ مسلمانوں کے لیے ہے اور جہاں پر صلح ہوئی تو ان کے مال انہی کے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18358]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18359
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ يَحْيَى: عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: لَا تُبَاعُ أَرْضٌ دُونَ الْجَبَلِ إِلَّا أَرْضُ بَنِي صَلُوبَا وَأَرْضُ الْحِيرَةِ، فَإِنَّ لَهُمْ عَهْدًا. قَالَ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ: كُنَّا نَسْمَعُ أَنَّ مَا دُونَ الْجَبَلِ مِمَّا وَرَاءَهُ صُلْحٌ.
عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہاڑ کے اِس طرف کی کوئی زمین فروخت نہ کی جائے سوائے بنو صلوبا اور حیرہ کی زمین کے، کیونکہ ان کے ساتھ معاہدہ ہے۔ حسن بن صالح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم سنا کرتے تھے کہ پہاڑ کے اِس طرف کا علاقہ، اُس طرف کے مقابلے میں، صلح سے حاصل ہوا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18359]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18360
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: لَيْسَ لِأَهْلِ السَّوَادِ عَهْدٌ إِلَّا أَرْضَ الْحِيرَةِ وَأَلِيسَ وَبَانِقْيَا. قَالَ شَرِيكٌ: إِنَّ أَهْلَ بَانِقْيَا كَانُوا دَلُّوا جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَلَى مَخَاضَةٍ، وَأَهْلُ أَلِيسَ كَانُوا أَنْزَلُوا أَبَا عُبَيْدَةَ وَدَلُّوهُ عَلَى شَيْءٍ. قَالَ يَحْيَى: أَظُنُّهُ يَعْنِي عَوْرَةً لِلْعَدُوِّ.
عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل سواد کا کوئی معاہدہ نہیں سوائے حیرہ، لیّس اور بانقیا کی زمین کے، شریک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل بانقیا نے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی (دریا کی) ایک گزرگاہ کی طرف راہنمائی کی تھی اور اہل لیّس نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اپنے ہاں ٹھہرایا تھا اور کسی چیز کی طرف ان کی راہنمائی کی تھی، یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ان کی مراد دشمن کی کمزور جگہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18360]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18361
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: صَالَحَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَهْلَ الْحِيرَةِ وَأَهْلَ عَيْنِ التَّمْرِ، قَالَ: وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَجَازَهُ، قَالَ يَحْيَى: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ: فَأَهْلُ عَيْنِ التَّمْرِ مِثْلُ أَهْلِ الْحِيرَةِ إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ عَلَيْهِمْ وَلَيْسَ عَلَى أَرْضِهِمْ شَيْءٌ، قَالَ: نَعَمْ.
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے حیرہ اور اہل عین التمر سے صلح کی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو انہوں نے اجازت دے دی۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن صالح رحمہ اللہ سے کہا کہ عین التمر والے حیرہ والوں کی مثل ہیں، ان کے ذمہ کچھ ہوتا ہے، لیکن ان کی زمین پر کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ فرمایا: ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18361]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18362
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: انْتَهَيْنَا إِلَى أَهْلِ الْحِيرَةِ فَصَالَحْنَاهُمْ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ وَرَحْلٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: مَا صَنَعْتُمْ بِذَلِكَ الرَّحْلِ؟ قَالَ: صَاحِبٌ لَنَا لَمْ يَكُنْ لَهُ رَحْلٌ. كَذَا فِي كِتَابِي: أَلْفِ دِرْهَمٍ، وَقَالَ غَيْرُهُ: سَبْعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ.
اسود بن قیس رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ہم حیرہ والوں کے پاس پہنچے تو ایک ہزار درہم اور سواری کے عوض ان سے صلح کی۔ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد سے کہا: تم نے اس سواری کا کیا کیا؟ کہتے ہیں: ہمارا ایک ساتھی تھا جس کے پاس سواری نہ تھی۔ اس طرح میری کتاب میں ہزار درہم تو دوسروں نے کہا: ستر ہزار درہم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18362]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18363
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: كَانُوا يُرَخِّصُونَ أَنْ يَشْتَرُوا مِنْ أَرْضِ الْحِيرَةِ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمْ صُلْحٌ.
اشعث، حضرت حکم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ حیرہ کی زمین خریدنے کی رخصت دیتے تھے، کیونکہ ان سے صلح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18363]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18364
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَهْلُ الْحِيرَةِ إِنَّمَا صُولِحُوا عَلَى مَا لَمْ يَقْتَسِمُوهُ بَيْنَهُمْ، وَلَيْسَ عَلَى رُءُوسِ الرِّجَالِ شَيْءٌ.
مجالد بن سعید کہتے ہیں کہ حیرہ والوں سے صرف اس مال پر صلح ہوئی تھی جو انہوں نے اپنے درمیان تقسیم نہیں کیا تھا، اور مَردوں کے سروں پر کچھ (جزیہ) نہیں تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18364]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18365
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: لِأَهْلِ الْأَنْبَارِ عَهْدٌ أَوْ قَالَ: عَقْدٌ.
جابر (جعفی)، شعبی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ اہل انبار سے معاہدہ تھا، یا فرمایا: عقد تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18365]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18366
حَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: لَيْسَ لِأَهْلِ السَّوَادِ عَهْدٌ، إِنَّمَا نَزَلُوا عَلَى حُكْمٍ.
جابر (جعفی)، عامر (شعبی) رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ اہل سواد سے معاہدہ نہ تھا، وہ تو صرف حکم پر اترے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18366]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح