🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3650. -- باب: قدر الخراج الذي وضع على السواد
-- باب: سواد کے علاقے پر مقرر کردہ خراج کی مقدار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18382
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ وَعُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ إِلَى الْكُوفَةِ، وَبَعَثَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ عَلَى الصَّلَاةِ وَعَلَى الْجُيُوشِ، وَبَعَثَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَلَى الْقَضَاءِ وَعَلَى بَيْتِ الْمَالِ، وَبَعَثَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ عَلَى مِسَاحَةِ الْأَرْضِ، وَجَعَلَ بَيْنَهُمْ كُلَّ يَوْمٍ شَاةً، شَطْرُهَا وَسَوَاقِطُهَا لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَالنِّصْفُ بَيْنَ هَذَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: أَنْزَلْتُكُمْ وَإِيَّايَ مِنْ هَذَا الْمَالِ كَمَنْزِلَةِ وَالِي مَالِ الْيَتِيمِ، {مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ} [النساء: ٦] ، وَمَا أَرَى قَرْيَةً يُؤْخَذُ مِنْهَا كُلَّ يَوْمٍ شَاةٌ إِلَّا كَانَ ذَلِكَ سَرِيعًا فِي خَرَابِهَا. قَالَ: فَوَضَعَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ عَلَى جَرِيبِ الْكَرْمِ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ، وَعَلَى جَرِيبِ النَّخْلِ أَظُنُّهُ قَالَ: ثَمَانِيَةً، وَعَلَى جَرِيبِ الْقَصَبِ سِتَّةَ دَرَاهِمَ، وَعَلَى جَرِيبِ الْبُرِّ أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ، وَعَلَى جَرِيبِ الشَّعِيرِ دِرْهَمَيْنِ، وَعَلَى رُءُوسِهِمْ عَنْ كُلِّ رَجُلٍ أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ كُلَّ سَنَةٍ، وَعَطَّلَ مِنْ ذَلِكَ مِنَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ، وَفِيمَا يُخْتَلَفُ بِهِ مِنْ تِجَارَاتِهِمْ نِصْفَ الْعُشْرِ. قَالَ: ثُمَّ كَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَجَازَ ذَلِكَ وَرَضِيَ بِهِ، وَقِيلَ لِعُمَرَ رَضَيَ اللهُ عَنْهُ: كَيْفَ نَأْخُذُ مِنْ تُجَّارِ الْحَرْبِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْنَا؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَيْفَ يَأْخُذُونَ مِنْكُمْ إِذَا أَتَيْتُمْ بِلَادَهُمْ؟ قَالُوا: الْعُشْرَ. قَالَ: فَكَذَلِكَ خُذُوا مِنْهُمْ. وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَقَالَ: وَعَلَى جَرِيبِ النَّخْلِ ثَمَانِيَةٌ وَعَلَى جَرِيبِ الْقَصَبِ سِتَّةٌ لَمْ يَشُكَّ.
لاحق بن حمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہم کو کوفہ روانہ کیا تو سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی ڈیوٹی نماز اور لشکروں پر تھی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کو قاضی اور بیت المال کا عہدہ سونپا گیا اور سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کو زمین کے متعلقہ ذمہ داری دی گئی۔ ان کے لیے ایک دن میں ایک بکری دی گئی۔ نصف سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو اور باقی نصف دونوں ساتھیوں کو دی گئی۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تمہیں اس مال پر مقرر کیا ہے جیسے یتیم کے مال کا انسان والی ہوتا ہے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَابْتَلُوا الْيَتَامَى حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة النساء: 6] ”اور یتیموں کی آزمائش کرو یہاں تک کہ وہ بلوغت کو پہنچ جائیں، اگر تم ان میں بھلائی پاؤ تو ان کے مال ان کے سپرد کر دو اور تم ان کے مال زیادتی اور جلدبازی سے نہ کھاؤ کہ وہ بڑے ہوجائیں اور جو کوئی غنی ہو تو وہ اس سے بچے اور جو کوئی فقیر ہو انصاف کے ساتھ کھائے۔“
میرے خیال میں جس بستی سے ہر روز ایک بکری وصول کی جائے تو یہ اس کی جلد بربادی کا سبب بن جائے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے انگور کی فصل والوں پر دس درہم اور کھجور کے باغ والوں کے ذمہ آٹھ درہم اور «القَضْبِ» (ایک درخت کا نام) کے کھیت والوں پر چھ درہم اور گندم کی فصل والے کسانوں پر چار درہم اور جو کی فصل پر دو درہم مقرر فرمائے۔ ہر انسان سے سال میں 24 درہم وصول کرتے تھے۔ عورتوں اور بچوں کو چھوڑ رکھا تھا اور مختلف قسم کی تجارت کرنے والوں پر نصف عشر تھا۔ پھر انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، انہوں نے اجازت دے دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہم حربی تاجروں سے کتنا ٹیکس لیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم ان کے شہروں میں جاتے ہو وہ تم سے کتنا وصول کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: دسواں حصہ۔ فرمایا: تم بھی ان سے اسی طرح لو۔
(ب) سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کھجور کے باغ پر آٹھ درہم اور «القَضْبِ» کے کھیت پر چھ درہم مقرر فرمائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18382]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18383
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ فَمَسَحَ السَّوَادَ فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ جَرِيبٍ عَامِرٍ أَوْ غَامِرٍ حَيْثُ يَنَالُهُ الْمَاءُ قَفِيزًا أَوْ دِرْهَمًا، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي الْحِنْطَةَ وَالشَّعِيرَ وَضَعَ عَلَى كُلِّ جَرِيبِ الْكَرْمِ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ وَعَلَى جَرِيبِ الرِّطَابِ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ.
حکم فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کو سواد نامی جگہ بھیجا تو انہوں نے ہر آباد اور ویران کھیت پر جہاں تک پانی پہنچتا ہو، ایک «قَفِيز» (پیمانہ) اور درہم مقرر کیا۔ وکیع کہتے ہیں: یعنی گندم اور جو کا اور ہر انگور والے کھیت پر دس درہم اور تر کھجوروں پر پانچ درہم مقرر فرمائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18383]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18384
قَالَ: وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ وَضَعَ عَلَى النَّخْلِ عَلَى الدِّفْلَتَيْنِ دِرْهَمًا، وَعَلَى الْفَارِسِيَّةِ دِرْهَمًا.
ابان بن تغلب ایک شخص سے روایت کرتے ہیں، وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ردی کھجوروں اور فارسی کھجوروں پر ایک درہم مقرر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18384]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18385
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنَعَتِ الْعِرَاقُ دِرْهَمَهَا وَقَفِيزَهَا، وَمَنَعَتِ الشَّامُ مُدْيَهَا وَدِينَارَهَا، وَمَنَعَتْ مِصْرُ إِرْدَبَّهَا وَدِينَارَهَا، وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ، وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ، وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ". شَهِدَ عَلَى ذَلِكَ لَحْمُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَدَمُهُ. قَالَ يَحْيَى: يُرِيدُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الْقَفِيزَ وَالدِّرْهَمَ قَبْلَ أَنْ يَضَعَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْأَرْضِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ يَعِيشَ وَإِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عراقیوں نے درہم اور قفیز (پیمانہ) کو روک لیا اور شامیوں نے مد اور دینار کو روک لیا، مصر نے اردب (چوبیس صاع کا پیمانہ) اور دینار کو روک لیا اور تم وہیں لوٹ آؤ گے جہاں سے تم نے ابتدا کی تھی“، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا خون اور گوشت اس بات پر گواہ ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں: اس حدیث سے ان کی مراد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قفیز اور درہم کا ذکر کیا، اس سے پہلے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے زمین والوں پر مقرر کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18385]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ٢٨٩٦»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں