السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3687. -- باب: فضل الشهادة في سبيل الله عز وجل
-- باب: اللہ عزوجل کی راہ میں شہادت پانے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18517
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، ح وأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا أَجِدُ أَحَدًا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَيَتَمَنَّى أَنْ يَخْرُجَ مِنْهَا، وَإِنَّ لَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا الشَّهِيدَ فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ عَشْرَ مِرَارٍ لِمَا رَأَى مِنَ الْكَرَامَةِ". لَفْظُ حَدِيثِ الْعَقَدِيِّ فِي رِوَايَةِ الطَّيَالِسِيِّ:" مَا مِنْ عَبْدٍ لَهُ عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا إِلَّا الشَّهِيدُ فَإِنَّهُ يَوَدُّ لَوْ أَنَّهُ رَجَعَ فَقُتِلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ؛ لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں داخل ہونے کے بعد کوئی بھی شخص دوبارہ دنیا میں آنا پسند نہیں کرے گا، اگرچہ اسے دنیا کی تمام چیزیں بھی دی جائیں مگر شہید آرزو کرے گا کہ وہ دنیا میں جائے اور دس بار شہید کیا جائے کیونکہ وہ عزت و شرف دیکھ چکا ہوتا ہے۔“
(ب)۔ طیالسی کی روایت میں ہے کہ: ”کوئی بندہ ایسا نہیں کہ وہ اللہ رب العزت سے جنت حاصل کرنے کے بعد دنیا میں آنا پسند کرے سوائے شہید کے؛ کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت کو دیکھ چکا ہوگا، اس لیے وہ دس مرتبہ شہید کیے جانے کی خواہش کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18517]
(ب)۔ طیالسی کی روایت میں ہے کہ: ”کوئی بندہ ایسا نہیں کہ وہ اللہ رب العزت سے جنت حاصل کرنے کے بعد دنیا میں آنا پسند کرے سوائے شہید کے؛ کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت کو دیکھ چکا ہوگا، اس لیے وہ دس مرتبہ شہید کیے جانے کی خواہش کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18517]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18518
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو مُوسَى، أنبا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبا جَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَرْوَاحِ الشُّهَدَاءِ، قَالَ: قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ، أَرْوَاحُهُمْ كَطَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ فِي الْعَرْشِ، تَسْرَحُ حَيْثُ شَاءَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَى قَنَادِيلِهَا، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذِ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً فَيَقُولُ: مَا تَشْتَهُونَ؟ فَيَقُولُونَ: وَمَا نَشْتَهِي وَنَحْنُ فِي الْجَنَّةِ نَسْرَحُ حَيْثُ شِئْنَا، فَإِذَا رَأَوْا أَنْ لَا بُدَّ مِنْ أَنْ يَسْأَلُوا، قَالُوا: تُرَدُّ أَرْوَاحُنَا فِي أَجْسَادِنَا فَنُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللهِ فَنُقْتَلُ مَرَّةً أُخْرَى، فَإِذَا رَأَى أَنْ لَا يَسْأَلُوهُ ⦗٢٧٥⦘ شَيْئًا تَرَكَهُمْ. لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي رِوَايَةِ الْمُقْرِئِ قَالَ: سَأَلْنَا عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَرِحِينَ} [آل عمران: ١٧٠] قَالَ: أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ..
مسروق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے شہداء کی روحوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ہم نے بھی اس کے بارے میں پوچھا تھا: ”ان شہداء کی ارواح سبز پرندوں کی طرح ہیں۔ ان کے لیے عرش سے فانوس معلق ہیں، وہ جہاں چاہتے ہیں اڑتے پھرتے ہیں۔ پھر ان فانوسوں میں رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتا ہے کہ تمہیں کچھ چاہیے؟ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کیا چاہیے جب کہ ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں اڑتے پھرتے ہیں اور جب انہوں نے محسوس کیا کہ ان سے پوچھا جاتا رہے گا۔ تب انہوں نے عرض کیا: اے پروردگار! ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری ارواح کو ہمارے جسموں میں داخل فرمائیں تاکہ ایک مرتبہ پھر تیرے راستے میں کٹ مریں۔ جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ انہیں ضرورت نہیں تو ان کو ویسے چھوڑ دیا جائے گا۔“ (ب)۔ مقری کی روایت میں ہے کہ ہم نے اس آیت کے بارے میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ * فَرِحِينَ﴾ [سورة آل عمران: 169-170] جو لوگ اللہ کے راہ میں مارے گئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور انہیں رزق مل رہا ہے۔ کہتے ہیں: ہم نے بھی اس کے بارے میں پوچھا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18518]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18519
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَسْبَاطٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَا: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، وَقَالَ: سَأَلْنَا عَبْدَ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةَ فَذَكَرَهَا، وَقَالَ: أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ.
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس آیت کے بارے میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”شہداء کی ارواح سبز پرندوں کے پیٹوں میں ہوتی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18519]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٨٨٧»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18520
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ، تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا، وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ مُعَلَّقَةٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ، فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَأْكَلِهِمْ وَمَشْرَبِهِمْ وَمَقِيلِهِمْ قَالُوا: مَنْ يُبَلِّغُ إِخْوَانَنَا عَنَّا أَنَّا أَحْيَاءٌ فِي الْجَنَّةِ نُرْزَقُ؛ لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ وَلَا يَنْكُلُوا عِنْدَ الْحَرْبِ؟ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ. قَالَ: وَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ} [آل عمران: ١٦٩] إِلَى آخِرِ الْآيَاتِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے بھائی احد کے دن شہید ہو گئے تو اللہ نے ان کی ارواح کو سبز پرندوں میں داخل فرما دیا۔ جو جنت کی نہروں پر اڑتے پھرتے ہیں اور اس کے پھلوں سے کھاتے ہیں، عرش کے نیچے ان کے لیے سونے کے فانوس معلق ہیں جن میں وہ رہتے ہیں۔ جب انہوں نے کھانے پینے اور اچھی آرام گاہ کو پایا تو کہا کہ ہمارے بھائیوں کو ہماری بات کون پہنچائے گا کہ ہم جنت میں زندہ ہیں، رزق دیے جاتے ہیں تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی اور لڑائی کے وقت بزدلی نہ دکھائیں۔ اللہ رب العزت نے فرمایا: میں تمہاری بات ان تک پہنچا دیتا ہوں۔“ اللہ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ [سورة آل عمران: 169] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18520]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 18521
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا عَوْفٌ، حَدَّثَتْنَا حَسْنَاءُ بِنْتُ مُعَاوِيَةَ، قَالَتْ: حَدَّثَنِي عَمِّي، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ:" النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ وَالشَّهِيدُ وَالْمَوْلُودُ وَالْوَئِيدُ".
حناء بنت معاویہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے چچا رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”جنت میں کون داخل ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی، شہید، پیدا ہونے والا بچہ اور زندہ درگور کی گئی بچی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18521]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18522
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا يُهَرَاقُ مِنْ دَمِ الشَّهِيدِ تُغْفَرُ لَهُ ذُنُوبُهُ".
سہل بن ابی امامہ بن سہل بن حنیف اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید کے خون کے پہلے قطرے پر اللہ اس کے گناہ معاف کر دیتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18522]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18523
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ⦗٢٧٦⦘ السَّكْسَكِيُّ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْأَمْلُوكِيِّ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْقَتْلَى ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ، فَذَلِكَ الْمُمْتَحَنُ فِي خَيْمَةِ اللهِ تَحْتَ عَرْشِهِ لَا يَفْضُلُهُ النَّبِيُّونَ إِلَّا بِدَرَجَةِ النُّبُوَّةِ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ فَرِقَ عَلَى نَفْسِهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا لَقِيَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ، فَتِلْكَ مَصْمَصَةٌ تَحُتُّ ذُنُوبَهُ وَخَطَايَاهُ، إِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءٌ لِلْخَطَايَا، وَقِيلَ لَهُ ادْخُلْ مِنْ أِيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شِئْتَ، فَإِنَّهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ وَلِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، بَعْضُهَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ - يَعْنِي أَبْوَابَ الْجَنَّةِ - وَرَجُلٌ مُنَافِقٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَقَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ، فَذَاكَ فِي النَّارِ، إِنَّ السَّيْفَ لَا يَمْحُو النِّفَاقَ".
سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مقتول تین قسم کے ہیں؛ ایسا شخص جو اپنی جان اور مال لے کر دشمن کے مقابلہ میں لڑتے ہوئے شہید ہو جاتا ہے تو اللہ اس شخص کو عرش کے نیچے جگہ عطا کرتے ہیں اور انبیاء نبوت کی وجہ سے ایک درجہ اس سے اوپر ہوتے ہیں، اور ایسا شخص جو گناہ کرنے کے بعد میدانِ جہاد میں دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہو جاتا ہے تو یہ شہادت اس کے گناہوں اور غلطیوں کو ختم کر دیتی ہے، کیونکہ تلوار غلطیوں کو ختم کرنے والی ہے اور ایسے شخص سے کہا جائے گا کہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے داخل ہو جائے۔ جنت کے آٹھ اور جہنم کے سات دروازے ہیں اور جنت کے دروازے ایک دوسرے سے فضیلت رکھتے ہیں، اور منافق آدمی جو اپنے مال و جان کے ساتھ میدانِ جہاد میں لڑائی کرتے ہوئے مارا جائے تو یہ جہنمی ہے کیونکہ تلوار نفاق کو ختم نہیں کرتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18523]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18524
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ المُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ: رَجُلٍ ثَارَ عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنِ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي، وَرَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللهِ فَانْهَزَمَ فَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فِي الِانْهِزَامِ وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ فَرَجَعَ حَتَّى أُهَرِيقَ دَمُهُ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي رَجَعَ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي حَتَّى أُهَرِيقَ دَمُهُ". وَرُوِيَ فِي مَعْنَاهُ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ مَرْفُوعًا.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ رب العزت دو آدمیوں سے تعجب فرماتے ہیں: ایک وہ جو اپنے بستر اور لحاف سے، اپنے محبوبوں اور گھر والوں کے درمیان سے نماز کے لیے اٹھتا ہے، میری نعمتوں میں رغبت کرتے ہوئے اور میرے عذاب سے ڈرتے ہوئے؛ اور ایک وہ شخص جو اللہ کے راستے میں لڑائی کرتے ہوئے شکست کھا جاتا ہے، وہ جانتا ہے کہ شکست کی وجہ سے اس پر ایک گناہ ہے اور واپس پلٹنے میں کیا ثواب ہے، تو وہ دوبارہ لڑائی کرتے ہوئے شہید ہو جاتا ہے۔ اللہ رب العزت اپنے فرشتوں سے فرماتے ہیں: ”میرے بندے کی طرف دیکھو کہ میری نعمتوں میں رغبت کرتے اور میرے عذاب سے ڈرتے ہوئے واپس پلٹ کر جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18524]
تخریج الحدیث: «صدوق»
الحكم على الحديث: صدوق
حدیث نمبر: 18525
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارَابَجِرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدٌ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهِيدُ لَا يَجِدُ أَلَمَ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ أَلَمَ الْقَرْصَةِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید قتل کی اتنی تکلیف بھی محسوس نہیں کرتا مگر جتنی تم چیونٹی کے ڈسنے کی وجہ سے محسوس کرتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18525]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 18526
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُبْشِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أِيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ". قِيلَ: أِيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" طُولُ الْقِيَامِ". قِيلَ: فَأِيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" جَهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ". قِيلَ: فَأِيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ هَجَرَ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ". قِيلَ: فَأِيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ". قِيلَ: فَأِيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ:" مَنْ أُهَرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ".
سیدنا عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل اعمال کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا ایمان جس میں شک نہ ہو، جہاد جس میں خیانت نہ ہو اور مقبول حج۔“ عرض کیا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لمبے قیام والی۔“ عرض کیا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کم مال سے خرچ کرنا۔“ عرض کیا گیا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میں اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو چھوڑ دیا جائے۔“ عرض کیا گیا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مشرکین سے اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کیا۔“ عرض کیا گیا: کون سا قتل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میں (مجاہد کا) خون بہا دیا جائے اور اس کا گھوڑا بھی مار دیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18526]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن