السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3688. -- باب: الشهيد يشفع
-- باب: شہید کی شفاعت (سفارش) کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18527
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ الذِّمَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي نِمْرَانُ بْنُ عُتْبَةَ الذِّمَارِيُّ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ وَنَحْنُ أَيْتَامٌ فَقَالَتْ: أَبْشِرُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُشَفَّعُ الشَّهِيدُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ: صَوَابُهُ رَبَاحُ بْنُ الْوَلِيدِ.
ولید بن رباح ذماری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے چچا نمران بن عتبہ ذماری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم ام درداء رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ ہم یتیم تھے۔ کہنے لگیں: تم خوش ہو جاؤ؛ کیونکہ میں نے ابو درداء رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”شہید آدمی کی ستر گھر والوں کے بارے میں سفارش قبول کی جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18527]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ بدون قصه الدخول علي ام الدردائ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره