السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3694. -- باب: من يسلم فيقتل مكانه في سبيل الله
-- باب: اس شخص کا بیان جو اسلام لائے اور اسی وقت اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے۔
حدیث نمبر: 18541
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ النِّيسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّكَ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَمِلَ هَذَا يَسِيرًا، وَأُجِرَ كَثِيرًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَنَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔“ پھر میدانِ جہاد میں لڑتا ہوا شہید ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل تو اس نے تھوڑا کیا ہے لیکن اجر زیادہ پایا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18541]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18542
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ بِالْحَدِيدِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أُقَاتِلُ أَوْ أُسْلِمُ؟ قَالَ:" لَا بَلْ أَسْلِمْ ثُمَّ قَاتِلْ". فَأَسْلَمَ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ، فَقَالَ:" هَذَا عَمِلَ قَلِيلًا، وَأُجِرَ كَثِيرًا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحِيمِ، عَنْ شَبَابَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لوہے میں چھپا ہوا آیا، اس نے کہا: جہاد کروں یا اسلام قبول کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے اسلام قبول کر، پھر جہاد کر“ تو وہ اسلام قبول کرنے کے بعد لڑائی کرتے ہوئے شہید ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل تھوڑا ہے اور اجر زیادہ دیا گیا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18542]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18543
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٢٨٢⦘ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ أُقَيْشٍ كَانَ لَهُ رِبًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَكَرِهَ أَنْ يُسْلِمَ حَتَّى يَأْخُذَهُ، فَجَاءَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ: أَيْنَ بَنُو عَمِّي؟ فَقَالُوا: بِأُحُدٍ، فَقَالَ: أَيْنَ فُلَانٌ؟ قَالُوا: بِأُحُدٍ، قَالَ: أَيْنَ فُلَانٌ؟ قَالُوا: بِأُحُدٍ، فَلَبِسَ لَأْمَتَهُ وَرَكِبَ فَرَسَهُ ثُمَّ تَوَجَّهَ قِبَلَهُمْ، فَلَمَّا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ قَالُوا: إِلَيْكَ عَنَّا يَا عَمْرُو. فَقَالَ: إِنِّي قَدْ آمَنْتُ. فَقَاتَلَ حَتَّى جُرِحَ، فَحُمِلَ إِلَى أَهْلِهِ جَرِيحًا، فَجَاءَهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ لِأُخْتِهِ: سَلِيهِ حَمِيَّةً لِقَوْمِكَ أَمْ غَضَبًا لَهُمْ أَمْ غَضَبًا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ؟ فَقَالَ: بَلْ غَضَبًا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ. فَمَاتَ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَا صَلَّى لِلَّهِ صَلَاةً.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عمرو بن اقیس کا جاہلیت کا سود تھا، صرف سود کی وجہ سے وہ اسلام قبول نہ کر سکے۔ احد کے دن وہ آئے اور کہنے لگے: میرے چچا کا بیٹا کدھر ہے؟ انہوں نے کہا: احد میں۔ پھر اس نے پوچھا: فلاں کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: وہ بھی احد میں ہے۔ اس نے پھر پوچھا: فلاں کدھر ہے؟ انہوں نے کہا: وہ بھی غزوہ احد میں ہے۔ اس نے زرہ پہنی اور گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی جانب متوجہ ہوا۔ جب مسلمانوں نے دیکھا تو کہنے لگے: اے عمرو رضی اللہ عنہ! ہم سے دور رہنا۔ اس نے کہا: میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ پھر وہ لڑائی کرتے ہوئے زخمی ہو گئے تو انہیں زخمی حالت میں لایا گیا۔ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن سے کہا: پوچھو قومی غیرت اور ان کے لیے غصے میں آکر لڑا یا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ وہ فوت ہو کر جنت میں داخل ہو گئے اور انہوں نے ایک بھی نماز نہ پڑھی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18543]