السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4190. -- باب:: من يعتق بالملك.
-- باب: وہ شخص جو محض ملکیت میں آنے سے آزاد ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 21413
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا اللَّيْثُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ - يَعْنِي: ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ:" إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي فِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَلَا آذَنُ، ثُمَّ لَا آذَنُ، وَإِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي، يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا، وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ. فَأَخْبَرَ أَنَّ وَلَدَهُ بَعْضٌ مِنْهُ، وَالْعَبْدُ إِذَا مَلَكَ نَفْسَهُ بِأَدَاءِ مَالِ الْكِتَابَةِ أَوْ بِابْتِيَاعِ نَفْسِهِ عَتَقَ، فَكَذَلِكَ الْحُرُّ إِذَا مَلَكَ وَلَدَهُ فَقَدْ مَلَكَ بَعْضَهُ، وَإِذَا مَلَكَ وَالِدَهُ فَقَدْ مَلَكَ مَنْ هُوَ بَعْضٌ مِنْهُ، فَوَجَبَ أَنْ يَعْتِقَ..
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر فرما رہے تھے: ”بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اجازت طلب کی کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کرنا چاہتے ہیں، میں ان کو اجازت نہ دوں گا، میری بیٹی میرے جسم کا ٹکڑا ہے، اس نے مجھے پریشان کیا جس نے اس کو پریشان کیا، اس نے مجھے تکلیف دی جس نے میری بیٹی کو تکلیف دی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21413]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21414
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، أنبأ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ح وَأَخْبَرَنَا ⦗٤٨٨⦘ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ جَرِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ. وَقَوْلُهُ:" فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ"، يُحْتَمَلُ أَنْ يُرِيدَ بِهِ فَيُعْتِقَهُ بِالشِّرَاءِ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بچہ اپنے والد کا حق ادا نہیں کرسکتا، لیکن ایک صورت ہے کہ باپ غلام ہو، بچہ خرید کر آزاد کر دے۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”خرید کر آزاد کر دے“ میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد خریدنے ہی کے ذریعے آزاد کرنا ہو، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21414]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”خرید کر آزاد کر دے“ میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد خریدنے ہی کے ذریعے آزاد کرنا ہو، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21414]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21415
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، وَقَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ مَلَكَ ذَا مَحْرَمٍ مِنْ ذِي رَحِمٍ فَهُوَ حُرٌّ"..
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جو مرد کسی ذی محرم کا مالک بن گیا تو وہ آزاد ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21415]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21416
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ مُوسَى فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: عَنْ سَمُرَةَ فِيمَا يَحْسِبُ حَمَّادٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَمْ يُحَدِّثْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَقَدْ شَكَّ فِيهِ، قَالَ أَحْمَدُ: وَقَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ: سَأَلْتُ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَحَمَّادٌ يَشُكُّ فِي ذِكْرِ سَمُرَةَ فِي إِسْنَادِهِ كَمَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ، عَنْ ⦗٤٨٩⦘ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَغَيْرُ حَمَّادٍ يَرْوِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ مِنْ قَوْلِهِ..
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (اور موسیٰ نے دوسری جگہ کہا: سمرہ سے، جیسا کہ حماد کا گمان ہے) نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو محرم رشتہ دار کا مالک بن گیا، وہ آزاد ہے۔“
امام ابوداود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث صرف حماد بن سلمہ نے بیان کی ہے اور انہیں اس میں شک ہے۔ ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ سے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو وہ اسے حسن عن سمرہ کی سند سے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے جانتے تھے۔ شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حماد کو اس کی سند میں سمرہ کے ذکر میں شک ہے جیسا کہ ہم موسیٰ بن اسماعیل سے پہلے ذکر کر چکے ہیں، اور حماد کے علاوہ دوسرے راوی اسے قتادہ عن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے، اور قتادہ عن الحسن سے ان کے اپنے قول کے طور پر روایت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21416]
امام ابوداود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث صرف حماد بن سلمہ نے بیان کی ہے اور انہیں اس میں شک ہے۔ ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ سے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو وہ اسے حسن عن سمرہ کی سند سے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے جانتے تھے۔ شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حماد کو اس کی سند میں سمرہ کے ذکر میں شک ہے جیسا کہ ہم موسیٰ بن اسماعیل سے پہلے ذکر کر چکے ہیں، اور حماد کے علاوہ دوسرے راوی اسے قتادہ عن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے، اور قتادہ عن الحسن سے ان کے اپنے قول کے طور پر روایت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21416]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21417
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ"..
قتادہ رحمہ اللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جو بندہ اپنے محرم رشتہ دار کا مالک ہوا تو وہ رشتہ دار آزاد ہو جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21417]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21418
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَالْحَسَنِ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَسَعِيدٌ أَحْفَظُ مِنْ حَمَّادٍ. قَالَ أَحْمَدُ: وَرُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ وَهِمَ فِيهِ رَاوِيهِ.
قتادہ رحمہ اللہ نے جابر بن زید اور حسن رحمہما اللہ سے بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔
ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: سعید، حماد سے زیادہ حافظے والے ہیں۔
احمد (بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ ایک اور سند سے بھی روایت کیا گیا ہے جس میں اس کے راوی کو وہم ہوا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21418]
ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: سعید، حماد سے زیادہ حافظے والے ہیں۔
احمد (بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ ایک اور سند سے بھی روایت کیا گیا ہے جس میں اس کے راوی کو وہم ہوا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21418]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21419
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عُمَيْرِ بْنُ النَّحَّاسِ، ثنا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ عَتِيقٌ". قَالَ سُلَيْمَانُ: لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا ضَمْرَةُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" الْمَحْفُوظُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ حَدِيثُ نَهْيٍ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ. وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو عُمَيْرٍ، عَنْ ضَمُرَةَ، عَنِ الثَّوْرِيِّ مَعَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ". ⦗٤٩٠⦘.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ مَلَکَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَہُوَ عَتِیقٌ» ”جو شخص کسی ایسے رشتہ دار کا مالک بن جائے جس سے (نکاح) حرام ہو، تو وہ آزاد ہے“
سلیمان رحمہ اللہ نے کہا کہ سفیان رحمہ اللہ سے اس حدیث کو سوائے ضمرہ کے کسی اور نے روایت نہیں کیا، شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: اس سند کے ساتھ جو محفوظ حدیث ہے وہ «نَہٰی عَنْ بَیْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ ہِبَتِہِ» ”(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا“ کے متعلق ہے، اور یقیناً ابوعمیر نے اسے ضمرہ سے، انہوں نے ثوری سے پہلی حدیث کے ساتھ ہی روایت کیا ہے۔ [منکر] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21419]
سلیمان رحمہ اللہ نے کہا کہ سفیان رحمہ اللہ سے اس حدیث کو سوائے ضمرہ کے کسی اور نے روایت نہیں کیا، شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: اس سند کے ساتھ جو محفوظ حدیث ہے وہ «نَہٰی عَنْ بَیْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ ہِبَتِہِ» ”(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا“ کے متعلق ہے، اور یقیناً ابوعمیر نے اسے ضمرہ سے، انہوں نے ثوری سے پہلی حدیث کے ساتھ ہی روایت کیا ہے۔ [منکر] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21419]
حدیث نمبر: 21420
أَخْبَرَنَا بِالْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أَنْبَأَ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُونُسَ أَبُو إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عُمَيْرٍ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّحَّاسِ، فَذَكَرَهُمَا جَمِيعًا، فَاللهُ أَعْلَمُ..
سابقہ حدیث ہی کی ایک اور سند ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21420]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 21421
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ عَطَّافٍ، ثنا الْعَرْزَمِيُّ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: صَالِحٌ بِأَخِيهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعْتِقَ أَخِي هَذَا، فَقَالَ:" إِنَّ اللهَ أَعْتَقَهُ حِينَ مَلَكْتَهُ". قَالَ عَلِيٌّ الدَّارَقُطْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: الْعَرْزَمِيُّ تَرَكَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَيَحْيَى الْقَطَّانُ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ. قَالَ: وَأَبُو النَّضْرِ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ مَتْرُوكٌ، وَأَيْضًا هُوَ الْقَائِلُ: كُلُّ مَا حَدَّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ كَذِبٌ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِنَحْوِهِ، وَهَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ، وَحَفْصٌ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ الْقَارِيُّ، ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُمْ..
ابو صالح رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ صالح نامی ایک آدمی اپنے بھائی کو لے کر آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں اپنے اس بھائی کو آزاد کرنا چاہتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس وقت ہی آزاد ہو گیا جب تو اس کا مالک بن گیا۔“
علی دارقطنی رحمہ اللہ نے فرمایا: عرزمی کو ابن مبارک، یحییٰ القطان اور ابن مہدی نے ترک کر دیا ہے۔ اور ابو النضر، محمد بن سائب کلبی ہے جو متروک ہے، اور اسی نے یہ بھی کہا ہے: میں نے ابو صالح سے جو کچھ بیان کیا وہ سب جھوٹ ہے۔
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حفص بن ابی داؤد عن محمد بن ابی لیلیٰ عن عطاء عن ابن عباس کی سند سے بھی اسی طرح مروی ہے، اور یہ سند ضعیف ہے، اور حفص، ابن سلیمان القاری ہے جسے شعبہ، احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21421]
علی دارقطنی رحمہ اللہ نے فرمایا: عرزمی کو ابن مبارک، یحییٰ القطان اور ابن مہدی نے ترک کر دیا ہے۔ اور ابو النضر، محمد بن سائب کلبی ہے جو متروک ہے، اور اسی نے یہ بھی کہا ہے: میں نے ابو صالح سے جو کچھ بیان کیا وہ سب جھوٹ ہے۔
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حفص بن ابی داؤد عن محمد بن ابی لیلیٰ عن عطاء عن ابن عباس کی سند سے بھی اسی طرح مروی ہے، اور یہ سند ضعیف ہے، اور حفص، ابن سلیمان القاری ہے جسے شعبہ، احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21421]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21422
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِّيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أنبأ أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ".
اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو کوئی قریبی رشتہ دار کا مالک بن گیا وہ آزاد ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21422]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح