السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4191. -- باب:: من قال: لعبده: أنت حر على أن عليك مائة دينار، أو خدمة سنة، أو عمل كذا، فقبل العبد، أيعتق على ذلك؟
-- باب: جس نے اپنے غلام سے کہا: تو آزاد ہے اس شرط پر کہ تجھ پر سو دینار دینا، یا ایک سال کی خدمت کرنا، یا فلاں کام کرنا لازم ہے، اور غلام نے اسے قبول کر لیا، تو کیا وہ اس شرط پر آزاد ہو جائے گا؟
حدیث نمبر: Q21426
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَزِمَهُ ذَلِكَ، وَكَانَ دَيْنًا عَلَيْهِ..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ اس پر لازم ہو گیا، اور یہ اس کے ذمے قرض ہو گا...“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: Q21426]
حدیث نمبر: 21426
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ، حَدَّثَنِي سَفِينَةُ، قَالَ: قَالَتْ لِي أُمُّ سَلَمَةَ: أُعْتِقُكَ وَأَشْتَرِطُ عَلَيْكَ أَنْ تَخْدُمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتَ، قَالَ: قُلْتُ:" لَوْ أَنَّكِ لَمْ تَشْتَرِطِي عَلَيَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتُ"، قَالَ:" فَأَعْتَقَتْنِي، وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ أَنْ أَخْدُمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتُ" ⦗٤٩٢⦘ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ..
سفینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں تجھے آزاد کرتی ہوں لیکن میری ایک شرط ہے کہ تو زندگی بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرے گا۔ میں نے کہا: اگر آپ شرط نہ بھی لگائیں، تب بھی میں اپنی زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہ ہوتا، لیکن انہوں نے شرط لگا دی کہ میں اپنی موت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کروں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21426]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21427
وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظَّفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَلَوِيُّ، رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، أَخْبَرَنِي سَفِينَةُ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ: أَعْتَقَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ أَنْ أَخْدُمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَاشَ. لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے آزاد کر دیا اور شرط رکھی کہ میں اپنی ساری زندگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کروں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21427]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21428
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَحَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ، ثُمَّ اشْتَرَطَ عَلَيْهِ أَنَّ لَهُ عَمَلَهُ سِنِينَ، فَرَعَى لَهُ بَعْضَ سِنِيِّهِ. وَفِي رِوَايَةِ الْقَاضِي: بَعْضَ سَنَةٍ، ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْهِ، إِمَّا فِي حَجٍّ، وَإِمَّا فِي عُمْرَةٍ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ:" قَدْ تَرَكْتُ الَّذِي اشْتَرَطْتُ عَلَيْكَ، وَأَنْتَ حُرٌّ، وَلَيْسَ عَلَيْكَ عَمَلٌ. كَذَا وَجَدْتُهُ:" ثُمَّ اشْتَرَطَ عَلَيْهِ"، وَإِنَّمَا هُوَ:" وَاشْتَرَطَ عَلَيْهِ"..
موسیٰ بن عقبہ، نافع سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا ایک غلام آزاد کیا، پھر اس پر شرط لگائی کہ کچھ سال تک اس کا کام ان کے لیے ہوگا، تو اس نے ان کے لیے کچھ سال (جانور) چرائے۔
قاضی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: ایک سال کا کچھ حصہ۔ پھر وہ حج یا عمرہ میں ان کے پاس آیا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: میں نے اپنی شرط چھوڑ دی، تم آزاد ہو، تمہارے ذمہ کوئی کام نہیں ہے۔ [صحیح] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21428]
قاضی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: ایک سال کا کچھ حصہ۔ پھر وہ حج یا عمرہ میں ان کے پاس آیا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: میں نے اپنی شرط چھوڑ دی، تم آزاد ہو، تمہارے ذمہ کوئی کام نہیں ہے۔ [صحیح] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21428]
حدیث نمبر: 21429
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: بَعَثَنِي ابْنُ عُمَرَ فِي حَاجَةٍ، قَالَ: فَجِئْتُ مِنْهَا، قَالَ: فَقَالَ لِي:" أَنْتَ حُرٌّ أَنْ تُقِيمَ عِنْدَنَا، وَنَحْنُ مَنْ تَعْرِفُ، قَالَ: قُلْتُ: أَيْنَ أَذْهَبُ؟ أَوْ إِلَى مَنْ أَذْهَبُ؟..
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا۔ میں کام سے فارغ ہو کر آیا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: تم آزاد ہو، لیکن تم ہمارے پاس ہی رہو گے اور ہم تمہارے پاس۔ میں نے کہا: میں کہاں جاؤں اور کس کے پاس جاؤں؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21429]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن