السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4192. -- باب:: من أعتق مملوكا له
-- باب: جس نے اپنے مملوک کو آزاد کیا۔
حدیث نمبر: Q21430
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: ثَبَتَ وَلَاؤُهُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يَرُدَّ وَلَاءَهُ، فَيَرُدَّهُ رَقِيقًا وَيَهَبَهُ وَلَا يَبِيعَهُ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس پر اس (آزاد کرنے والے) کا حق ولاء ثابت ہو گیا، لہٰذا اسے یہ اختیار نہیں کہ وہ اس کی ولاء کو رد کر دے اور اسے (دوبارہ) غلام بنا لے، اور نہ ہی وہ اس (ولاء) کو ہبہ کر سکتا ہے اور نہ بیچ سکتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: Q21430]
حدیث نمبر: 21430
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ الْأَخْرَمُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ هُوَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَهِبَتِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ”ولاء کو فروخت کیا جائے اور اسے ہبہ کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21430]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21431
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ.. لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21431]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21432
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ، ⦗٤٩٤⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، وَالضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ..
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے“ سے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21432]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21433
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ، لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ" كَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، عَنْ يَعْقُوبَ أَبِي يُوسُفَ الْقَاضِي، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ..
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء کا رشتہ نسب کے رشتہ کی طرح ہے، نہ تو اسے فروخت کیا جائے اور نہ ہی ہبہ کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21433]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21434
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ السَّرَخْسِيُّ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ عُقَيْبَ هَذَا الْحَدِيثِ: هَذَا خَطَأٌ، لِأَنَّ الثِّقَاتِ لَمْ يَرْوُوهُ هَكَذَا، وَإِنَّمَا رَوَاهُ الْحَسَنُ مُرْسَلًا.
ابوبکر بن زیاد نیشاپوری رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بعد فرمایا: یہ غلطی ہے، کیونکہ ثقہ راویوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، بلکہ اسے حسن (بصری) رحمہ اللہ نے مرسل روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21434]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21435
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ، لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ.
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء کا رشتہ نسب کے رشتہ کی مانند ہے۔ اس کو فروخت اور ہبہ نہیں کیا جا سکتا۔“
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ کئی دوسری سندوں سے بھی مروی ہے، وہ سب ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21435]
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ کئی دوسری سندوں سے بھی مروی ہے، وہ سب ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21435]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21436
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْأَذَنِيُّ، ثنا أَبُو عُمَيْرِ بْنُ النَّحَّاسِ، ثنا ضَمْرَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ، لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ". قَالَ سُلَيْمَانُ: لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا ضَمْرَةُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" قَدْ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ ضَمْرَةَ، كَمَا رَوَاهُ الْجَمَاعَةُ: نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ. فَكَأَنَّ الْخَطَأَ وَقَعَ مِنْ غَيْرِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ولاء کا رشتہ نسب کے رشتہ کی مانند ہے، اسے ہبہ یا فروخت نہ کیا جائے گا۔“
سلیمان رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کو سفیان سے ضمرہ کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا۔
شیخ فرماتے ہیں: اسے ابراہیم بن محمد بن یوسف فریابی نے ضمرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ایک جماعت روایت کرتی ہے کہ ”(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا“، تو گویا غلطی کسی اور سے واقع ہوئی ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21436]
سلیمان رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کو سفیان سے ضمرہ کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا۔
شیخ فرماتے ہیں: اسے ابراہیم بن محمد بن یوسف فریابی نے ضمرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ایک جماعت روایت کرتی ہے کہ ”(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا“، تو گویا غلطی کسی اور سے واقع ہوئی ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21436]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21437
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ، لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ" هَذَا وَهْمٌ مِنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ، أَوْ مَنْ دُونَهُ فِي الْإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ جَمِيعًا، فَإِنَّ الْحُفَّاظَ إِنَّمَا رَوَوْهُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ ⦗٤٩٥⦘.
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء کا رشتہ نسب کے رشتہ کی مانند ہے، ہبہ یا فروخت نہ کیا جائے گا۔“
یہ یحییٰ بن سلیم یا سند میں اس سے نیچے کسی راوی کا سند اور متن دونوں میں وہم ہے، کیونکہ حفاظ نے اسے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21437]
یہ یحییٰ بن سلیم یا سند میں اس سے نیچے کسی راوی کا سند اور متن دونوں میں وہم ہے، کیونکہ حفاظ نے اسے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21437]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21438
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فَذَكَرَهُ، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ فِي الْبَيْعِ. وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ عَلَى الْوَهْمِ فِي إِسْنَادِهِ دُونَ مَتْنِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ: سَأَلْتُ عَنْهُ الْبُخَارِيَّ، فَقَالَ: يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ أَخْطَأَ فِي حَدِيثِهِ، إِنَّمَا هُوَ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، يَعْنِي: بِاللَّفْظِ الْمَشْهُورِ..
یہی روایت (حفاظ کی سند سے) عبیداللہ بن عمر سے بھی مروی ہے، پھر انہوں نے اسے ذکر کیا۔
محمد بن عبدالملک بن ابی الشوارب نے اسے یحییٰ بن سلیم سے روایت کیا ہے، جس میں وہم صرف سند میں ہے، متن میں نہیں۔ ابوعیسیٰ (ترمذی) رحمہ اللہ نے کہا، جیسا کہ مجھے ان سے پہنچا ہے: میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یحییٰ بن سلیم نے اپنی حدیث میں غلطی کی ہے، یہ تو صرف عبداللہ بن دینار عن ابن عمر کی سند سے ہے، اور اس حدیث کو، یعنی مشہور الفاظ کے ساتھ، عبداللہ بن دینار اکیلے روایت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21438]
محمد بن عبدالملک بن ابی الشوارب نے اسے یحییٰ بن سلیم سے روایت کیا ہے، جس میں وہم صرف سند میں ہے، متن میں نہیں۔ ابوعیسیٰ (ترمذی) رحمہ اللہ نے کہا، جیسا کہ مجھے ان سے پہنچا ہے: میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یحییٰ بن سلیم نے اپنی حدیث میں غلطی کی ہے، یہ تو صرف عبداللہ بن دینار عن ابن عمر کی سند سے ہے، اور اس حدیث کو، یعنی مشہور الفاظ کے ساتھ، عبداللہ بن دینار اکیلے روایت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21438]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف