🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4199. -- باب:: من أعتق عبدا له سائبة
-- باب: جس نے اپنے غلام کو سائبہ (جس سے ولاء کا تعلق نہ رکھا جائے) کے طور پر آزاد کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21478
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ طَارِقَ بْنَ الْمُرَقَّعِ، أَعْتَقَ أَهْلَ بَيْتٍ سَوَائِبَ، فَأُتِيَ بِمِيرَاثِهِمْ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَعْطُوهُ وَرَثَةَ طَارِقٍ"، فَأَبَوْا أَنْ يَأْخُذُوهُ، فَقَالَ عُمَرُ:" فَاجْعَلُوهُ فِي مِثْلِهِمْ مِنَ النَّاسِ".
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طارق بن مرقع نے ایک گھرانے کے افراد کو سائبہ کے طور پر آزاد کر دیا، ان کی وراثت لائی گئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: طارق کے ورثاء کو وراثت دو۔ انہوں نے لینے سے انکار کر دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان جیسے لوگوں میں تقسیم کر دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21478]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21479
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، وَسَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ طَارِقَ بْنَ الْمُرَقَّعِ أَعْتَقَ أَهْلَ أَبْيَاتٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ سَوَائِبَ، فَانْقَلَعُوا عَنْ بِضْعَةَ عَشَرَ أَلْفًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَمَرَ أَنْ يُدْفَعَ إِلَى طَارِقٍ، أَوْ وَرَثَةِ طَارِقٍ.. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" أَنَا شَكَكْتُ فِي الْحَدِيثِ هَكَذَا"..
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طارق بن مرقع نے اہل یمن کے کئی گھرانوں کے افراد کو سوائب بنا کر آزاد کر دیا، وہ (فوت ہو کر) دس ہزار سے کچھ زیادہ چھوڑ گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو آپ نے حکم دیا کہ طارق یا طارق کے ورثہ کو دے دو۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدیث میں یہ شک مجھے ہوا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21479]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21480
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ عُقْبَةُ بْنُ ⦗٥٠٧⦘ عَبْدِ اللهِ الْأَصَمُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ طَارِقًا أَعْتَقَ رَجُلًا سَائِبَةً، فَمَاتَ السَّائِبَةُ، وَتَرَكَ مَالًا، فَرُفِعَ مَالُهُ إِلَى صَاحِبِ مَكَّةَ، فَأَرْسَلَ إِلَى طَارِقٍ، فَعَرَضَ مَالَهُ عَلَيْهِ، فَأَبَى طَارِقٌ أَنْ يَأْخُذَهُ فَكَتَبَ عَامِلُ مَكَّةَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَنِ اجْمَعِ الْمَالَ، وَاعْرِضْهُ عَلَى طَارِقٍ، فَإِنْ قَبِلَهُ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَقْبَلْهُ فَاشْتَرِ بِهِ رِقَابًا فَأَعْتِقْهُمْ"، قَالَ: فَعَرَضَ عَلَى طَارِقٍ فَلَمْ يَقْبَلْهُ، فَاشْتَرَى بِهِ خَمْسَةَ عَشَرَ، أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ مَمْلُوكًا فَأَعْتَقَهُمْ، قَالَ عُقْبَةُ: كَأَنِّي أَرَى عَطَاءً وَهُوَ يَعْقِدُ بِيَدِهِ خَمْسَةَ عَشَرَ، أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ. وَرَوَاهُ قَتَادَةُ، وَقَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ فِيهِ: فَكَتَبَ يَعْلَى بْنُ مُنْيَةَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّهُ أَحَقُّ بِمِيرَاثِهِ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ عَطَاءٌ سَمِعَهُ مِنْ طَارِقٍ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ فَحَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ مُرْسَلٌ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: - يَعْنِي: مَا رُوِيَ لِمَنْ خَالَفَهُ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ سَائِبَةً أَعْتَقَهُ رَجُلٌ مِنَ الْحَاجِّ، فَأَصَابَهُ غُلَامٌ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، فَقَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهِمْ بِعَقْلِهِ، قَالَ أَبُو الْمَقْضِيِّ عَلَيْهِ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَصَابَ ابْنِي؟ قَالَ:" إِذًا لَا يَكُونُ لَهُ شَيْءٌ"، قَالَ: هُوَ إِذًا مِثْلُ الْأَرْقَمِ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" فَهُوَ إِذًا مِثْلُ الْأَرْقَمِ"..
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طارق نے ایک سائبہ کو آزاد کر دیا تو وہ سائبہ فوت ہو گیا، اس نے مال چھوڑا تو وہ مال اہل مکہ کے پاس آیا، انہوں نے وہ مال طارق کے سامنے پیش کیا تو طارق نے اسے لینے سے انکار کر دیا، جس پر مکہ کے عامل نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ مال جمع کرو اور طارق کو دو، اگر وہ قبول کریں تو انہیں دے دینا اور اگر وہ قبول نہ کریں تو اس سے غلام خرید کر آزاد کر دینا، چنانچہ انہوں نے طارق کو وراثت دی مگر انہوں نے اسے قبول نہ کیا، پھر انہوں نے 15 یا 16 غلام خرید کر آزاد کر دیے، عقبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں عطاء رحمہ اللہ کو دیکھ رہا تھا، وہ اپنے ہاتھوں پر 15 یا 16 کو شمار کر رہے تھے۔
قتادہ اور قیس بن سعد رحمہما اللہ، حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یعلی بن منیہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا: وہ میراث کا زیادہ حقدار ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لگتا ہے کہ عطاء نے یہ طارق سے سنا ہے، اور اگر ان سے نہیں سنا تو سلیمان بن یسار کی حدیث مرسل ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سائبہ کو ایک حاجی نے آزاد کیا تو بنو مخزوم کے ایک غلام نے اسے مار ڈالا، جس پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس پر دیت لازم کر دی، جس کے خلاف فیصلہ کیا گیا اس نے کہا: اگر وہ میرے بیٹے کو قتل کر دیتا تو؟ انہوں نے فرمایا: پھر اس کے ذمہ کچھ بھی نہ ہوتا۔ اس نے کہا: تب تو وہ ارقم (زہریلے سانپ) کی مانند ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تب تو وہ ارقم کی مانند ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21480]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21481
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ عَبْدُ اللهِ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَدِمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَكَّةَ وَهُوَ خَلِيفَةٌ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ أَعْتَقَ سَائِبَةً أَصَابَ ابْنًا لِلسَّائِبِ بْنِ عَائِذِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ خَطَأً، فَطَلَبَ السَّائِبُ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دِيَةَ ابْنِهِ، فَقَالَ عُمَرُ:" إِنْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ وَدَى ابْنَكَ لَكَ مِنْ مَالِهِ، بَالِغًا مَا بَلَغَ"، قَالَ السَّائِبُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ؟ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَلَا شَيْءَ لَكَ، قَالَ السَّائِبُ: أَفَرَأَيْتَ لَوْ أَصَبْنَاهُ خَطَأً؟ قَالَ: إِذًا وَاللهِ تَعْقِلُهُ، قَالَ: فَقَالَ السَّائِبُ: فَإِنْ قُتِلَ عُقِلَ، وَإِنْ قَتَلَ لَمْ يُعْقَلْ عَنْهُ؟ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ السَّائِبُ: إِذًا هُوَ كَالْأَرْقَمِ إِنْ يَلْقَ يَلْقَمْ، وَإِنْ يُقْتَلْ يَنْقِمْ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَهُوَ وَاللهِ ذَلِكَ، قَالَ: فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَهَذَا - إِذَا ثَبَتَ - بِقَوْلِنَا أَشْبَهُ، لِأَنَّهُ لَوْ رَأَى وَلَاءَهُ لِلْمُسْلِمِينَ رَأَى عَلَيْهِمْ عَقْلَهُ، وَلَكِنْ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ عَقْلُهُ عَلَى مَوَالِيهِ، فَلَمَّا كَانُوا لَا يُعْرَفُونَ لَمْ يَرَ فِيهِ عَقْلًا حَتَّى يُعْرَفَ مَوَالِيهِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ هَذَا التَّأْوِيلِ مَا:.
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مکہ آئے جب وہ خلیفہ تھے، تو ان کے سامنے ایک آدمی کا معاملہ پیش کیا گیا جس نے ایک سائبہ آزاد کیا تھا، اس (سائبہ) نے سائب بن عائذ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم کے ایک بیٹے کو غلطی سے قتل کر دیا، تو سائب نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے اپنے بیٹے کی دیت طلب کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر اس کے پاس مال ہوا تو تیرے بیٹے کی دیت دے گا جتنی بھی بنے، تو سائب کہنے لگا: اگر اس کے پاس مال نہ ہوا تو؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تجھے کچھ بھی نہ ملے گا۔ سائب کہنے لگا: اگر میں غلطی سے قتل کر دوں؟ فرمایا: اللہ کی قسم! تم ادا کرو گے، تو سائب نے کہا: اگر وہ مارا جائے تو دیت بھی ادا کی جائے گی، اگر قتل کرے تو دیت وصول نہ کی جائے گی؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، تو سائب کہنے لگا: تب وہ ارقم کی مانند ہے، اگر ڈال دیا جائے تو لقمہ بنائے گا، اگر قتل کیا جائے تو انتقام لے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسے ہی ہے، تو اس کو کچھ بھی نہ دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21481]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21482
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الَحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَعْتَقَ سَائِبَةً لَمْ يَرِثْهُ، وَإِذَا جَنَى جِنَايَةً كَانَ عَلَى مَنْ أَعْتَقَهُ، فَدَخَلُوا عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْصِفْنَا، إِمَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْكُمُ الْعَقْلُ وَلَكُمُ الْمِيرَاثُ، وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ لَنَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْنَا الْعَقْلُ، فَقَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَهُمْ بِالْمِيرَاثِ.. قَالَ الشَّافِعِيُّ:" وَحَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعٌ..
قبیصہ بن ذویب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی جب سائبہ کو آزاد کرتا تو وہ اس کا وارث نہ ہوتا، اور جب وہ کوئی جرم کرتا تو اس کا بوجھ آزاد کرنے والے پر ڈالا جاتا تھا۔ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے امیر المومنین! ہمارے درمیان انصاف کیجیے؛ یا تو آپ کے ذمے دیت ہے تو وراثت بھی آپ کی، یا وراثت ہمارے لیے تو دیت بھی ہمارے ذمے رہی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے وراثت کا فیصلہ فرما دیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلیمان بن یسار کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21482]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں