السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4200. -- باب:: من استحب من السلف رضي الله عنهم التنزه عن ميراث السائبة وإن كان مباحا.
-- باب: سلف صالحین رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے جس نے سائبہ کی وراثت سے بچنے کو مستحب سمجھا، اگرچہ یہ مباح ہے۔
حدیث نمبر: 21483
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" الصَّدَقَةُ وَالسَّائِبَةُ لِيَوْمِهِمَا"..
ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صدقہ اور سائبہ ایک ہی دن کے لیے ہیں (یعنی قیامت کے دن کے لیے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21483]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21484
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ - يَعْنِي: بِقَوْلِهِ لِيَوْمِهِمَا: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، الْيَوْمَ الَّذِي كَانَ أَعْتَقَ فِيهِ سَائِبَتَهُ، وَتَصَدَّقَ بِصَدَقَتِهِ لَهُ، يَقُولُ: فَلَا يَرْجِعُ إِلَى الِانْتِفَاعِ بِشَيْءٍ مِنْهُمَا بَعْدَ ذَلِكَ فِي الدُّنْيَا، وَذَلِكَ كَالرَّجُلِ يُعْتِقُ عَبْدَهُ سَائِبَةً ثُمَّ يَمُوتُ الْمُعْتَقُ، وَيَتْرُكُ مَالًا لَا وَارِثَ لَهُ إِلَّا الَّذِي أَعْتَقَهُ، يَقُولُ: فَلَيْسَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَرْزَأَ مِنْ مِيرَاثِهِ شَيْئًا، وَلَا يَرْزَأَ مِنْ مِيرَاثِ السَّائِبَةِ شَيْئًا، إِلَّا أَنْ يَجْعَلَهُ فِي مِثْلِهِ. وَكَذَلِكَ يُرْوَى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَإِنَّمَا هَذَا مِنْهُمْ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ وَالثَّوَابِ، لَيْسَ عَلَى أَنَّهُ مُحَرَّمٌ..
ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «لِيَوْمِهِمَا» ”ان دونوں کے دن کے لیے“ سے مراد قیامت کا دن ہے، جس دن کے لیے اس نے سائبہ کو آزاد کیا اور صدقہ کیا، یعنی وہ دوبارہ دنیا میں ان سے فائدہ نہ اٹھائے، جیسے وہ بندہ جو اپنے غلام کو سائبہ بنا کر آزاد کرتا ہے، پھر وہ آزاد کردہ فوت ہو جاتا ہے اور مال چھوڑتا ہے جس کا کوئی وارث نہیں ہوتا سوائے آزاد کرنے والے کے، فرماتے ہیں: اسے اس کی میراث میں سے کچھ نہیں لینا چاہیے اور نہ ہی سائبہ کی میراث میں سے کچھ لے، سوائے اس کے کہ اسے اس جیسوں میں لگا دے۔ اسی طرح ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، اور ان حضرات کا یہ عمل فضیلت اور ثواب کی بنا پر ہے، اس وجہ سے نہیں کہ یہ حرام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21484]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21485
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أُتِيَ بِمَالِ مَوْلًى كَانَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كُنَّا أَعْتَقْنَاهُ سَائِبَةً"، فَأَمَرَ أَنْ يُشْتَرَى بِهِ رِقَابٌ فَيُلْحِقُوهَا بِهِ، أَيْ يُعْتِقُوهَا..
بکر بن عبداللہ مزنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے غلام کا مال لایا گیا، انہوں نے فرمایا کہ ہم نے ان کو «سَائِبَة» آزاد کیا ہے، پھر انہوں نے حکم دیا کہ اس کے غلام خرید کر آزاد کر دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21485]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21486
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ حِينَ جَاءَهُ رَجُلٌ بِحَقِيبَةِ وَرِقٍ، فَقَالُوا: إِنَّ فُلَانًا مَوْلَى أَبِيكَ تُوُفِّيَ، وَإِنَّهُ أَمَرَنِي أَنْ أَدْفَعَ هَذِهِ إِلَيْكَ، ⦗٥٠٩⦘ قَالَ:" وَيْحَهُ، أَلَا أَنْفَقَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ"، فَجَاءَهُ رَسُولُ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ أَنِ ابْعَثْ إِلِيَّ بِمِيرَاثِهِ مِنْ مَوْلَى أَبِيهِ، فَبَعَثَهُ إِلَيْهِ كُلَّهُ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَرِثُ السَّائِبَةَ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَعْتَقَهُ سَائِبَةً.. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" هَذَا إِنْ صَحَّ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَاهُ حَرَامًا، إِذْ لَوْ رَآهُ حَرَامًا لَمَنَعَهُ مِنْ أَخِيهِ عَاصِمٍ، كَمَا امْتَنَعَ مِنْهُ، وَلَكِنَّهُ اسْتَحَبَّ التَّنَزُّهَ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
زیاد بن نعیم بیان کرتے ہیں کہ وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تشریف فرما تھے، ایک آدمی چاندی کا بیگ لے کر آیا، اس نے کہا: آپ کے باپ کا غلام فوت ہو گیا ہے۔ اس نے مجھے کہا تھا: یہ ان کو واپس کر دینا۔ انہوں نے فرمایا: افسوس ہے اس پر! اس نے اسے اللہ کے راستے میں خرچ کیوں نہ کر دیا؟، اتنی دیر میں عاصم بن عمر رضی اللہ عنہما کا قاصد آ گیا کہ میرے والد کے غلام کی وراثت مجھے دے دو۔ ان کو تمام وراثت دے دی، لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہما بذاتِ خود سائبہ کی وراثت نہ لیتے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو سائبہ آزاد کیا تھا۔
شیخ فرماتے ہیں: اگر یہ صحیح ہے تو یہ حرام نہ تھی، اگر اس کو حرام خیال کرتے تو اپنے بھائی عاصم کو ضرور منع کرتے، جیسے بذاتِ خود رک گئے، لیکن بچنا مستحب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21486]
شیخ فرماتے ہیں: اگر یہ صحیح ہے تو یہ حرام نہ تھی، اگر اس کو حرام خیال کرتے تو اپنے بھائی عاصم کو ضرور منع کرتے، جیسے بذاتِ خود رک گئے، لیکن بچنا مستحب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21486]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21487
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ:" السَّائِبَةُ يَضَعُ مَالَهُ حَيْثُ شَاءَ" قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ يَسْمَعْ هَذَا مِنْ سَلَمَةَ أَحَدٌ غَيْرِي. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" يُحْتَمَلُ أَنْ يُرِيدَ بِهِ: أَنْ يَضَعَهُ فِي حَيَاتِهِ حَيْثُ شَاءَ، لِأَنَّ مَوْلَاهُ يَتَنَزَّهُ عَنْ أَخْذِ مَالِهِ بَعْدَ وَفَاتِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
ابوعمرو شیبانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سائبہ اپنا مال جہاں چاہے خرچ کرے۔
شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلمہ سے یہ روایت میرے سوا کسی نے نہیں سنی۔
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: مراد یہ ہے کہ اپنی زندگی میں جہاں چاہے رکھے؛ کیونکہ اس کا آقا اس کی وفات کے بعد اس کا مال لینے سے بچتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21487]
شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلمہ سے یہ روایت میرے سوا کسی نے نہیں سنی۔
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: مراد یہ ہے کہ اپنی زندگی میں جہاں چاہے رکھے؛ کیونکہ اس کا آقا اس کی وفات کے بعد اس کا مال لینے سے بچتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21487]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح