مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ لَا يُقَالُ: أَهْرَقْتُ الْمَاءَ .
یہ نہیں کہا جائے گا: میں نے پانی بہایا ہے
حدیث نمبر: 1040
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: أَهْرَقْتُ الْمَاءَ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: أَبُولُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کوئی بھی شخص یہ ہرگز نہ کہے کہ میں نے پانی بہایا ہے، اُس کو یہ کہنا چاہیے: میں نے پیشاب کیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن عبدالرحمن بن عنبسہ ہے، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1040]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن عبدالرحمن بن عنبسہ ہے، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1040]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني بقية الميم باب الواو ما اسند واثلة مكحول الشامي، 18018 مسند الشاميين للطبراني ما انتهى إلينا من مسند بشر بن العلاء اخي عبد الله ما انتهى إلينا من مسند مكحول الشامي مكحول، 3327»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف