🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

16. بَابُ الِاسْتِجْمَارِ بِالْحَجَرِ .
پتھر کے ذریعے استنجاء کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1041
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ، إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، أَمَا تَرَى أَنَّ السَّمَاوَاتِ سَبْعٌ، وَالْأَرَضِينَ سَبْعٌ، وَالطَّوَافَ سَبْعٌ". وَذَكَرَ أَشْيَاءَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَزَادَ:" وَالْجِمَارَ"، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: (استنجاء کرتے ہوئے) جب کوئی شخص ڈھیلے استعمال کرے، تو اسے طاق تعداد میں انہیں استعمال کرنا چاہیے، بے شک اللہ تعالیٰ طاق ہے، اور وہ طاق کو پسند کرتا ہے، کیا تم نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان سات ہیں، اور زمینیں سات ہیں، اور طواف کے چکر سات ہوتے ہیں (راوی بیان کرتے ہیں:) انہوں نے اور بھی کچھ چیزوں کا ذکر کیا۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں رحمہ اللہ والجمار اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1041]
تخریج الحدیث: «المعجم الاوسط للطبراني باب العين باب الميم من اسمه محمد 7553 السنن الكبرى للبيهقى كتاب الطهارة جماع ابواب الاستطابة باب الإيتار فى الاستجمار 476 المستدرك على الصحيحين للحاكم كتاب الطهارة واما حديث عائشة 512 صحيح ابن حبان كتاب الطبارة باب الاستطابة ذكر العلة التى من أجلها امر بهذا الامر 1453»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1042
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ ثَلَاثًا".
وَفِي رِوَايَةٍ:" إِذَا تَغَوَّطَ أَحَدُكُمْ فَلْيَمْسَحْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
رَوَاهُمَا أَحْمَدُ، وَرِجَالٌ" إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ" ثِقَاتٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب کوئی شخص ڈھیلے استعمال کرے، تو اسے تین ڈھیلے استعمال کرنے چاہیے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: جب کوئی شخص پاخانہ کرے، تو اسے تین مرتبہ پونچھنا چاہیے۔ یہ دونوں روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں اور جب کوئی شخص ڈھیلے استعمال کرے والی روایت کے راوی ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1042]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1043
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا اكْتَحَلَ اكْتَحَلَ وِتْرًا، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ اسْتَجْمَرَ وِتْرًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سرمہ لگاتے تھے، تو طاق تعداد میں لگاتے تھے اور جب ڈھیلے استعمال کرتے تھے، تو طاق تعداد میں استعمال کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1043]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف بوجہ عبد اللہ بن لہیعہ۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1044
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا تَغَوَّطَ أَحَدُكُمْ فَلْيَمْسَحْ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَإِنَّ ذَلِكَ كَافِيهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّ أَبَا شُعَيْبٍ صَاحِبَ أَبِي أَيُّوبَ لَمْ أَرَ فِيهِ تَعْدِيلًا وَلَا جَرْحًا.
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب کوئی شخص پاخانہ کرے، تو اسے تین پتھروں کے ذریعے (اپنی شرمگاہ کو) صاف کرنا چاہیے، یہ چیز اس کے لئے کفایت کر جائے گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، البتہ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھی (یعنی شاگرد) ابوشعیب کا معاملہ مختلف ہے، میں نے اُن کے بارے میں کوئی تعدیل یا جرح نہیں دیکھی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1044]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے ایک راوی
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1045
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيَسْتَجْمِرْ ثَلَاثًا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَثَّقَهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر، یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص ڈھیلے استعمال کرے، وہ تین استعمال کرے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے، جسے سفیان ثوری اور شعبہ نے ثقہ قرار دیا ہے، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1045]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1046
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا اسْتَجْمَرْتُمْ فَأَوْتِرُوا، وَإِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَاسْتَنْثِرُوا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا طارق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب تم ڈھیلے استعمال کرو، تو طاق تعداد میں کرو، اور جب تم وضو کرو، تو ناک میں پانی ڈال لیا کرو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1046]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1047
وَعَنِ السَّائِبِ أَبِي خَلَّادٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلْيَمْسَحْ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ الْجَعْدِ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.
سیدنا سائب ابوخلاد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب کوئی شخص بیت الخلاء میں داخل ہو، تو اُسے تین پتھروں کے ذریعے (شرمگاہ کو) پونچھ لینا چاہیے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن جعد ہے، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1047]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1048
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ الِاسْتِطَابَةِ، فَقَالَ:" أَوَ لَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ: حَجَرَانِ لِلصَّفْحَتَيْنِ، وَحَجَرٌ لِلْمَسْرُبَةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ أَبُو زُرْعَةَ: إِنَّهُ حَفِظَ الْمُوَطَّأَ فِي حَيَاةِ مَالِكٍ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پاکیزگی حاصل کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: کیا تم میں سے کسی ایک کو تین پتھر نہیں ملتے، دو پتھر اطراف کے لئے ہوں اور ایک پتھر پاخانہ کے خروج کے مقام کے لیے ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عقیق بن یعقوب زبیری ہے، امام ابوزرعہ فرماتے ہیں: اس نے امام مالک کی زندگی میں موطا حفظ کر لی تھی۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1048]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1049
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ لِعَبْدِ اللَّهِ:" إِنِّي لَأَحْسَبُ صَاحِبَكُمْ قَدْ عَلَّمَكُمْ كُلَّ شَيْءٍ، حَتَّى عَلَّمَكُمْ كَيْفَ تَأْتُونَ الْخَلَاءَ؟ قَالَ: إِنْ كُنْتَ مُسْتَهْزِئًا فَقَدْ عَلَّمَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِفُرُوجِنَا، وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِالرَّجِيعِ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِالْعَظْمِ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
علقمہ بیان کرتے ہیں: مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے یوں لگتا ہے کہ آپ کے آقا نے آپ لوگوں کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے، یہاں تک کہ انہوں نے آپ لوگوں کو یہ بھی تعلیم دی ہے کہ آپ نے قضاء حاجت کے لیے کیسے جاتا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو تم مذاق اڑانا چاہ رہے ہو (تو میں تمہیں یہ بتا دیتا ہوں) کہ انہوں نے ہمیں اس بات کی تعلیم دی ہے (کہ قضائے حاجت کرتے ہوئے) ہماری شرمگاہ کا رخ قبلہ کی طرف نہیں ہونا چاہیے (راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے، انہوں نے یہ بھی بیان کیا تھا:) کہ ہم اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے استنجاء نہ کریں، ہم مینگنی کے ذریعے استنجاء نہ کریں، ہم ہڈی کے ذریعے استنجاء نہ کریں، اور ہم تین پتھروں سے کم کے ذریعے استنجاء نہ کریں۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1049]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1050
قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، فَإِذَا اسْتَجْمَرْتُمْ فَأَوْتِرُوا".
وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ الْأَخْنَسِيُّ، مَتْرُوكٌ.
امام ابویعلیٰ نے، اُن کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: بے شک اللہ تعالیٰ وتر ہے، اور وہ وتر (طاق) کو پسند کرتا ہے، جب تم ڈھیلے استعمال کرو، تو طاق تعداد میں استعمال کرو۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی أحمد بن عمران اخلسی ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1050]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں